عسکریت پسند تنظیم سے معاہدے پر دستخط وزیراعظم سے پوچھ کر کئے تھے: شیخ رشید

76

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ معاہدے پر دستخط وزیراعظم سے پوچھ کر کئے تھے ، بعض مسائل ایسے ہیں جو میڈیا پر بتانا ضروری نہیں ۔ سعد رضوی سے بات چیت چل رہی ہے ، معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا ، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس 2 گھنٹے سے زائد تک جاری رہا ۔ اجلاس میں آرمی چیف ، چاروں جوائنٹ چیفس اور دیگر افسران شریک تھے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر فوادچودھری بھی شریک تھے ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم ہوسکتا ہے ایک دو روز میں عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں ، وزیراعظم کی جو پریس کانفرنس ہوگی وہی حکومت کا لائحہ عمل ہوگا ۔

 

شیخ رشید نے کہا کہ اجلاس میں مذاکرات کی رپورٹ پیش کی گئی ، مذاکرات ہوسکتے ہیں آج اور کل بھی بات چیت جاری رہے گی ۔ چاہتے ہیں تمام معاملات افہام و تفہیم سے طے ہو جائیں ۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ ممکن ہے نورالحق قادری کے ان سے دوبارہ مذاکرات ہوں ، ان سے جو مذاکرات پہلے ہوئے اور معاہدے پر دستخط ہوئے اس پر قائم ہیں ۔ ابھی تک کوئی نتیجہ مسئلے کے اختتام تک نہیں پہنچا ۔ اگر مسئلے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو اس صورتحال سے قوم کو آگاہ کریں گے ۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ انہیں مارچ کو روکنا چاہئے ، معاملات کو بہتر انداز سے حل کرنا چاہئے ۔ اگر معاملات خوش اسلوبی سے حل نہ ہوئے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔

 

انہوں نے کہا کہ رینجرز کو پنجاب حکومت کے سپرد کردیا گیا ہے وہ جہاں چاہے تعینات کرے ۔ رینجرز کو تمام اختیارات استعمال کرنے کا حق حاصل ہے ۔ آرٹیکل 147 کے تحت رینجرز کو پولیس کے تمام اختیارات دیدیئے گئے ہیں ۔

 

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.