یوم سیاہ کے موقع پر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

147

سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب راجہ جہانگیر انور نے الحمراء میں کشمیریوں کے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ نمائش ”بلیک ڈے“ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بربریت کشمیریوں کی آواز نہیں دبا سکتی۔بلیک ڈے میں آویزاں فن پاروں میں کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ مصوروں نے کشمیر یوں پر بھارتی تسلط کی ترجمانی کی ہے۔
لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں کشمیر کے یوم سیاہ کے موقع پر کشمیری قائدین کی جدوجہد آزادی پر مبنی پر فن پاروں کی نمائش کا انعقاد ہوا جس میں 70 آرٹسٹوں کی145فن پارے آویزاں کئے گئے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ الحمرا بھرپور پروگرامز کا انعقاد کرکے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہاہے۔ نمائش میں آویزاں مصوری کے یہ فن پارے دنیا کی توجہ کشمیریوں کی حق خودارایت کی جانب مبذول کرا رہے ہیں۔
سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور ہر دلعزیز، فعال اور اپنے شعبے سے انتہائی مخلص افسر ہیں۔ پنجاب کی ثقافت کے فروغ کیلئے تندہی کے ساتھ کام میں جتے رہتے ہیں۔ ہر ثقافتی پروگرام میں ان کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ کشمیر کی ثقافت اورکشمیریوں کے یوم سیاہ کے موقع پر الحمراء میں مصوری کی نمائش میں ان کی شرکت، کشمیریوں سے ان کی محبت اور آزادی کشمیر کیلئے ان کے ٹھوس ارادوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو یہ حق دینا ہوگا۔27اکتوبر کے دن کو ”یوم سیاہ“ کے طور پر منانے کا مقصد بھارتی مکروہ، سیاہ اور بھیانک چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
ایگزیکٹوڈائریکٹر اعجاز احمد منہاس نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائدین اور عوام کی
قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیاں لازوال ہیں جو رائیگاں نہیں جائیں گی۔ گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان کے 22کروڑعوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ان کی آواز بلند کرنے کے لئے الحمرا میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ الحمراء آئندہ بھی بھرپور اندازمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا رہے گا۔ ڈائریکٹر الحمراء کا کہنا تھا کہ الحمراء کشمیریوں کی ثقافت کوبھرپور انداز میں اْجاگر کررہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پندرہ اگست 1947 تک بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ کرکے کشمیر آزاد ہو گیا تھا۔ برطانوی ہندوستان کی تقسیم اور ریڈکلف کمیشن کی بے ضابطگیوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر ہندو اور مسلمان آبادیوں کی ہجرت ہوئی اور ساتھ ہی قتل و غارت اور ہلاکتیں بھی۔اس وقت تک کشمیر میں سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے تھے، خاص طور پر پونچھ میں۔ مہاراجہ کی فوج پر جموں کی مسلم آبادی کے قتل عام کے الزام لگے۔ کچھ اندازوں کے مطابق پانچ لاکھ کی آبادی میں سے دو لاکھ کے قریب ہلاک کر دیے گئے اور جو بچ گئے وہ جان بچا کر پاکستان چلے گئے۔
مظاہرین کے خلاف مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگی مگر بھارت نے الحاق کے بغیر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں مجبوراً27 اکتوبر 1947 عارضی طور پر معاہدہ الحاق کو قبول کر لیاگیا مگر اس شرط پر کہ کشمیر میں مہاراجہ کے بھارت کے ساتھ اس فیصلے پر رائے شماری ہوگی۔لیکن جب بھارتی فوج فاتحانہ انداز میں کشمیر میں داخل ہوئی تو اس وقت یہ کہا گیا کہ اس کا مقصد جمہوریت کا تحفظ اور ایک منصفانہ رائے شماری کے لیے حالات سازگار بنانا تھا۔ تاہم اس کے بعد کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔ کشمیر یوں کے ساتھ بھارتی حکمرانوں نے جو کچھ کیا وہ تمام دنیا کے سامنے ہے۔
بھارتی حکومت نے کشمیر کے ڈوگرہ حکمرانوں کے ساتھ 27 اکتوبر1947ء میں جو غیر قانونی اور نام نہاد معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج داخل کر کے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ اس کے بعد بھی بہت کچھ ہوتا رہا لیکن ایک بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ پوری دنیا، اقوام متحدہ اور کشمیری خود، اس قبضہ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی سمجھتے ہیں اورسمجھتے رہیں گے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے استصواب رائے۔
کشمیر کے معاملے میں مہاراجہ نے فوری طور پر دونوں میں سے کسی بھی نئے ملک کے ساتھ الحاق سے انکار کرتے ہوئے خود مختاری کا انتخاب کیا۔ 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت یہ وعدہ کیا گیا کہ خود مختار ہندوستان کو ان ریاستوں پر سبقت حاصل نہیں ہوگی۔ یہ تب تک کی بات ہے جب پاکستان کے وجود کے بارے میں ابھی بات شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس ایکٹ کی کچھ شقوں کو مزید واضح کرنے کی ضرورت تھی، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان ریاستوں کا کیا ہوگا جنھوں نے 15 اگست 1947 سے پہلے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کیا۔
الحمرا دنیا بھر میں فنون لطیفہ کے ذریعے کشمیری ثقافت اجاگر کررہا ہے۔کشمیری آزادی کے حصول کے لئے لازوال قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔شہداء کا خون رنگ لائے گا۔حق خود ارادیت کے مجاہدین و قائدین کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔لاہور آرٹس کونسل فنون لطیفہ کے ذریعے کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا۔لاہور آرٹس کونسل الحمرا کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے باقاعدہ پروگرام پیش کر رہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.