پاک بھارت ٹاکرا، شاہینوں نے سورماؤں کو دھول چٹا دی

80

دبئی: پاکستان اور بھارت کے مابین ٹی 20ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے بھارت کو دس وکٹوں سے شکست دے دی۔

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے مابین سنسنی خیز مقابلے کا ٹاس ہوا جس کو پاکستان نے جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ اور بھارت نے پاکستان کو جیت کے لئے 152رنز کا ہدف دیا تھا۔

گرین شرٹس کی بھارتی سورماؤں کے خلاف شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان پر 18ویں اوور میں ہدف مکمل کیا پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے نصف سنچری بنائی۔

قومی ٹیم کی جانب سے کپتان بابراعظم اور محمد رضوان نے ٹیم کو 100 رنز کا پراعتماد آغاز فراہم کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ریکارڈ اوپننگ شراکت قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بابراعظم نے 68 جب کہ محمد رضوان نے 79 کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

سورماؤں کی جانب سے روہت شرما اور کے ایل راہول نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ روہت شرما بغیر کوئی رن بنائے شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے ۔ بھارت کی دوسری وکٹ 6رنزپر گری اور کے ایل راہول 3رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوئے۔

پاکستان کے فاسٹ باؤلر حسن علی نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے سوریا کمار کو 11رنز پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔

رویندرا جدیجا 13رنز بناکر حسن علی کی گیند پر آؤٹ ہوئے ،قبل ازیں رشبھ پنت39رنز بناکر شاداب خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تھے۔ بھارت کے چھٹے آؤٹ ہونے والے بیٹسمین بھارتی کپتان ویرات کوہلی تھے جو کہ 57رنز بنا کر شاہین آفریدی کا شکار بنے۔

روایتی حریف کی جانب سے 7ویں آؤٹ ہونے والے بلے باز ہاردیک پانڈیا تھا جو کہ 11رنز بناکر حارث رؤف کی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کی جانب سے نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا گیا اور بھارت کو مقررہ20اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر 151رنز پر محدود کر دیا ۔ گرین شرٹس کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3سورماؤں کو گھر کی راہ دکھائی جبکہ حسن علی نے 2، حارث رؤف اور شاداب خان نے 1، 1 وکٹ حاصل کی جبکہ بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ رنز کپتان ویرات کوہلی نے 57 بنائے جبکہ رشبھ پنت 39اور رویندرا جدیجا13سکور بنا کر نمایاں بیٹسمین رہے۔

قبل ازیں بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ہم ٹاس جیتتے تو ہم نے بھی پہلے فیلڈنگ ہی کرنا تھی تاہم ہماری ٹیم تیار ہے اور صورتحال کو سنبھال لیں گے۔ میرا ٹیم کو یہی پیغام ہے کہ گراؤنڈ کے باہر جو بھی پریشر ہے آپ اس پر دھیان نہ دیں اور کھیل پر توجہ رھیں۔

ٹاس جیتنے کے بعد کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ جلد وکٹیں لے کر بھارت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ شام کو دبئی میں اوس پڑتی ہے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور پہلے فیلڈنگ کی وجہ بھی یہی ہے۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چوتھے اور سب سے بڑے میچ میں پاکستان نےٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے ۔

یواے ای کی ریاست دبئی میں کھیلے جانے والے میچ دونوں ملکوں کی بہترین ٹیم میدان میں ہے۔ کپتان بابر اعظم تاریخی فتح کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستان کی ٹیم
کپتان بابر اعظم ، محمد رضوان ، فخر زمان ، محمد حفیظ ، شعیب ملک، آصف علی، شاداب خان، عماد وسیم ، حسن علی، حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی۔

بھارت کی ٹیم

کپتان ویرات کوہلی ، کے ایل راہل ، روہت شرما ، سریا کمار یادیو، ریشاب پانٹ ، ہادک پانڈیا، روندرا جدیجہ ، بھونیشور کمار، ورن چکراورتھی، محمد شامی اور جسپرت بمرا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میں 2 سال بعد مقابلہ ہو رہا ہے ۔ آخری بار دونوں ٹیمیں ورلڈکپ 2019 میں آمنے سامنے آئی تھیں۔
سیاسی وجوہات کی بنا پر بھارت پاکستان کے ساتھ آئی سی سی ایونٹس کے سوا کرکٹ نہیں کھیلتا ہے، دونوں ٹیمیں آخری بار ورلڈکپ 2019 میں مدمقابل آئی تھیں، مانچسٹر ،انگلینڈ میں کھیلا گیا میچ بھارت نے 89 رنز سے جیتا تھا، روہت شرما نے 140 رنز کی اننگز کھیلی تھی،اب یو اے ای میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران دونوں ٹیموں کا مقابلہ ہو رہا ہے۔

دبئی میں 2018کے ون ڈے ایشیا کپ میں 2 بار پاک بھارت مقابلہ ہوا، بلو شرٹس نے ایک میچ 9 اور دوسرا 8 وکٹ سے جیتا تھا،50 اوورز کے ورلڈکپ کی طرح ٹی ٹوئنٹی کے میگا ایونٹ میں بھی گرین شرٹس کا روایتی حریف کے خلاف ریکارڈ مایوس کن ہے اور اس نے کوئی میچ نہیں جیتا،درحقیقت مختصر طرز کے تو پانچوں میچز میں پاکستان کو بھارت سے شکست ہوئی ہے۔

گزشتہ 10 برس کے دوران پاکستان نے 139 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سے 77 جیتے ہیں، سرفراز احمد کی زیرقیادت ٹیم کافی عرصے نمبر ون رہی .گرین شرٹس 2007 کے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں رنرز اپ رہے اور پھر 2 سال بعد یونس خان کی زیرقیادت ٹائٹل جیت لیا، البتہ2016میں ٹیم سیمی فائنل میں رسائی سے محروم رہی اور سپر 10 میں سفر ختم ہو گیا تھا۔

پاکستان کو 4 میچز میں محض 1 ہی فتح نصیب ہوئی تھی،2014 میں بھی ٹیم فائنل فور میں جگہ نہیں بنا سکی تھی،البتہ اس بار گروپ میں صرف 2 ہی مضبوط ٹیمیں بھارت اور نیوزی لینڈ کی موجودگی کے سبب پاکستان کو سیمی فائنل میں رسائی کا اچھا موقع مل گیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.