ترکی :امریکا ، کینیڈا اور 8یورپی ممالک کے سفیر ملک بدر

137

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا ، کینیڈا، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن کے سفرا کو ملک بدر کرنے کا  حکم دے دیا ہے۔

 

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردغان نے امریکا ، کینیڈا، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن کے سفرا کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

ترک صدر رجب طیب اردغان نے ہفتے کو اپنے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ وہ جرمنی اور امریکا سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو نکال دیں جنہوں نے جیل میں بند سول سوسائٹی کے ایک رہنما کی رہائی کی اپیل کی تھی۔

 

انہوں نے سفارت کاری میں استعمال ہونے والی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے وزیر خارجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان 10 سفیروں کو پرسونا نان گراٹا قرار دیں۔ تاہم انہوں نے اس حکم پر تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔

 

انہوں نے سفیروں پر بے حیائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں ترکی کو جاننا اور سمجھنا چاہیے۔ سفیروں کو اس دن تک یہاں سے چلے جانا چاہیے جب تک وہ ترکی کو نہیں جانتے۔

 

سفیروں نے پیر کو ایک انتہائی غیر معمولی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیرس میں پیدا ہونے والے رضاکار عثمان کاوالا کی مسلسل حراست نے ترکی پر سایہ ڈال دیا ہے۔ امریکا ، جرمنی ، کینیڈا ، ڈنمارک ، فن لینڈ ، فرانس ، نیدرلینڈز ، نیوزی لینڈ ، ناروے اور سویڈن نے کاوالا کیس کے فوری حل کا مطالبہ کیا تھا۔

 

کاوالا 2017 سے بغیر کسی سزا کے جیل میں ہیں۔ انہیں 2013 کے حکومت مخالف مظاہروں اور 2016 میں ناکام فوجی بغاوت سے منسلک الزامات کا سامنا ہے۔ وہ بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد صدر اردغان کی طرف سے جاری کریک ڈاؤن کی ایک علامت بن گئے ہیں۔

 

گذشتہ ہفتے جیل خانے سے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کاوالا نے کہا کہ وہ اردغان کی دو دہائیوں پر محیط حکمرانی کے دوران سامنے آنے والی اندرونی مخالفت کے لیے غیر ملکی سازش کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوششوں میں خود کو ایک آلے کی طرح محسوس کرتے ہیں۔

 

کونسل آف یورپ جو براعظم میں انسانی حقوق کی نگران ادارہ ہے ترکی کو حتمی انتباہ جاری کرچکی ہے کہ وہ 2019 کی یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے حکم کی تعمیل کرے تاکہ کاوالا کو زیر التوا مقدمے سے رہائی مل سکے۔

 

اگر ترکی 30 نومبر سے دو دسمبر کو ہونے والی اپنی اگلی میٹنگ تک ایسا کرنے میں ناکام رہا تو سٹراسبرگ میں قائم کونسل انقرہ کے خلاف اپنی پہلی انضباطی کارروائی شروع کرنے کے لیے ووٹ دے سکتی ہے۔۔

 

تبصرے بند ہیں.