شیراز ہند کے جناب سید طاہر شہباز شاہ

205

میرے ایک دوست آغا سہیل مجھے کہتے ہیں کہ آپ کی تحریروں میں گوجرانوالہ یا اس شہر کے باسیوں کا اکثرتذکرہ ملتا ہے۔ دراصل جنم بھومی یا جائے پیدائش حسب نسب کے بعد انسان کا دوسرا دائمی تعارف ہوتا ہے۔ لہٰذا اپنے اجداد اور آبائی شہر سے سب محبت رکھتے ہیں کچھ لوگ دنیا میں آکر ایسا لافانی کردار ادا کرتے ہیں کہ شہر، خاندان اور وطن کی پہچان بن جایا کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ کی تاریخ بہت بڑا موضوع ہے جو کبھی سکھ حکومت شیخوپورہ کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔ جس میں حافظ آباد شیخوپورہ بھی شامل رہے ہیں مگر آج یا آزادی کے بعد کی بات کرتے ہیں۔ معروف لکھاری کرنل محمد خان گوجرانوالہ کو شیراز ہند کہتے ہیں۔ ان کے بقول ایرانی ادباء، مصنفین، دانشور، گوجرانوالہ کو شیراز ہند کا نام دیتے ہیں کیونکہ ایران میں ادبی علمی اعتبار سے سب سے زیادہ شخصیات شیراز میں پیدا ہوئیں۔ یوں تو گوجرانوالہ پہلوانوں کے شہر سے جانا جاتا ہے جبکہ صنعتکاری، تجارت بھی بہترین تعارف ہے۔ برصغیر کا یہ واحد شہر ہے جو اپنے افراد کی وجہ سے مشہور تھا پھر افراد کی جگہ صنعتوں، کاروبار و دیگر شعبہ جات نے بھی لے لی۔ شاعر، ادیب، فنکار، پہلوان حتیٰ کہ آج کی دنیا جنہیں انڈر ورلڈ کہتی ہے ایسے دشمن دار لوگ بھی یہاں موجود رہے مگر وضع دار، بہادری، دوست نوازی یہاں کے باسیوں کا طرہئ امتیاز رہا۔
سیاست کے حوالے سے بھی گوجرانوالہ قابل ذکر کردار ادا کرتا رہا ہے جبکہ فلاحی کاموں میں بھی بہت مثالیں ہیں جیسا کہ کالم نگار محمد سلمان کھوکھر ایڈووکیٹ کے خاندان کے لوگوں نے تعلیمی اداروں کے جال بچھا دیئے۔ بابو عطا محمد (جن کی جگہ پر عطا محمد سکول ہے) گورنر دین محمد جو جسٹس بھی رہے ارشد میر اورشیخ محمد اسلم معروف وکلاء اور دانشور کہتے تھے کہ ”اگر“جسٹس دین محمد کا بیٹا معظم بیرسٹر کار حادثہ میں جاں بحق نہ ہوتا جو جسٹس جاویداقبال کا کلاس فیلو تھا تو گوجرانوالہ کی سیاسی تاریخ مختلف ہوتی۔ افسوس کہ گوجرانوالہ جتنا بڑا شہر جتنے عمدہ دل والے لوگ تھے سیاسی طور پر ملکی سطح پر حتیٰ کہ پنجاب کی سطح پر بھی سیاسی نمائندگی نہ کر سکا۔
بغض، حسد، کینہ، غیبت کے سیاسی جبل جہالت کے آسیب نے شہر میں سیاسی ارتکاء کو معطل کیے رکھا۔ حد یہ ہے کہ طاقتور اور خوبصورت خاندان کے خاندان اس کی چوٹی پراپنی قربت کا جھنڈا گاڑنے کے لیے سیاسی دشمنی کی بھینٹ چڑے جو جیلوں کے بعد قبرستان میں پہنچ گئے۔ مگر الحمد للہ بیورو کریسی و دیگر شعبوں سے وابستہ لوگوں، فنکاروں نے کمی کو خوب پورا کیا اور اہل شہر کی عزت افزائی کی جن میں سہیل احمد عزیزی، بشریٰ انصاری، عابد خان، ببو برال، امان اللہ، غلام علی
خان، فلم ساز شہزاد رفیق نے نمایاں کردار ادا کیا۔ بیورو کریسی میں انور زاہد چیف سیکرٹری پنجاب احمد ذکی، جناب میاں عبدالستار کے بیٹے سعید اختر انصاری، وحید اختر انصاری نے بھرپور نمائندگی کی۔ اب آتے ہیں شیراز ہند (گوجرانوالہ) کے ماتھے کے جھومر جناب سید طاہر شہبازشاہ کی طرف مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ شاہ صاحب کا میں محلے دار بلکہ گلی محلے دار ہوں۔ یونیورسٹی میں روم میٹ ہوں اور ہماری خاندانی حسبی نسبی نیاز مندی ہے۔ شاہ صاحب کی زندگی کی شروعات بھی ہر بڑے آدمی کی طرح ہوئیں جنہوں نے پہلے قدم سے لے کر وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان کے سفر تک ہر قدم صرف اللہ کے فضل اور اپنی اہلیت کے بل بوتے پر اٹھایا۔ اب جب مڑ کر دیکھیں تو ایک لازوال داستان اللہ کے فضل سے شاہ صاحب کی کہانی بن چکی ہے۔ شاہ صاحب نے گورنمنٹ کالج سے گریجویشن، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ تعلیم کے دوران ڈاکٹر علی شریعتی پر شہرہ آفاق مقالہ لکھا۔
شاہ صاحب نے سی ایس ایس کا امتحان دیا اور وطن عزیز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ شاہ صاحب پہلے دن سے عزت دار تھے مگر دنیا داری میں سرکاری سطح کی عزت کی صورت سرکاری عہدہ ملا۔ دیانت، صداقت، شرافت، امانت کی آخری ڈگریاں شاہ صاحب کی ذات میں شامل رہیں۔ شاہ صاحب کسی بھی بیوقوف، احمق، دھونس، کم ظرف، کینہ پرور، بغض پرور کو دیکھ کر غصہ نہیں کرتے بلکہ انجوائے کرتے اور اس کی خیر کی دعا کرتے۔ اس پر ترس کھاتے کہ یہ لاعلاج مرض میں مبتلا ہے۔ شاہ صاحب سمجھتے ہیں کہ دیانت داری صرف سختی اور ریلیف روکنا نہیں حق دار کو حق اور ریلیف دینا بھی دیانت داری ہے مگر لوگ سختی کو دیانتدار سمجھتے ہیں۔
ایک غیر جانبدار فکر کے مالک ہیں۔ شاہ صاحب کو سی ایس ایس کے انٹرویو میں گورنر عتیق الرحمن نے ایک سوال کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر کہے کہ فلاں ملزم کی ضمانت لے لو تو آپ کیا کریں گے شاہ صاحب نے جواب دیا کہ میں ضمانت کی درخواست منظور کر لوں گا گورنر نے دوسرا سوال کیا کہ اگر وہ کہے کہ آپ فلاں کو انتخابات میں کامیابی دلوا دیں تو آپ کیا کریں گے؟ شاہ صاحب نے جواب دیا کہ میں انکار کر وں گا۔ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین گورنر عتیق نے کہا کہ کمال ہے آپ کو وہ ضمانت کا کہتا ہے تو آپ لے لیتے ہیں اور انتخابات جتوانے کا کہتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں؟ وجہ؟ شاہ صاحب نے کہا کہ ضمانت صوابدید ہے اور انفرادی مسئلہ ہے اور پھر مقدمہ کا حتمی فیصلہ بھی نہیں ہے جبکہ انتخابات میں حکومتی مشینری سے کسی ناکام کو کامیاب کروا دینا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اور یہ بد دیانتی معاشرت پر منفی اثرات ڈالے گی۔ شاہ صاحب کے ساتھ گورنر نے الگ سے گپ شپ کی۔
شاہ صاحب کو ریٹائرڈ جنرل عتیق الرحمن نے مشغلہ پوچھا تو جواب دیا Reading کتابیں پڑھنا وہ کہنے لگے کہ یہ تو بہت وسیع موضوع ہے۔ شاہ صاحب کہنے لگے یہی میرا مشغلہ اور شوق ہے اس نے کہا کہ کوئی خاص موضوع کی کتابیں؟ شاہ صاحب نے کہا ہر موضوع پر گورنر نے چند غیر معمولی کتابوں کا تذکرہ کیا شاہ صاحب نے چند لائنوں میں تجزیہ کر دیا اپنا اختلاف اور متفق ہونا بتایا گورنر عتیق دیکھتے رہ گئے۔
شاہ صاحب کے مزاج میں سنجیدگی، متانت،علمیت، حساسیت، الفاظ کا چناؤ اور جگلبندی، بذلہ سنجی، حس مزاح، فی البدیع مکالمہ ادائیگی، الفاظ کا زیر و بم اور روانی قلزم کو مات دے دیتی ہے۔ شاہ صاحب CDA کے چیئرمین تھے اس وقت تقریباً بلکہ کم از کم 4/5 کروڑ روپے کا پلاٹ معمول کے مطابق شاہ صاحب کی خدمت میں CDA کی طرف سے پیش ہوا جو شکریہ کے ساتھ واپس کیا۔ ساتھ حکم صادر کیا کہ آئندہ بھی کسی کو نہ دیا جائے۔
بہرحال اپنے کیریئر کے دوران نارووال، صادق آباد میں اسسٹنٹ کمشنر، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ڈپٹی اور سیکرٹری،ڈپٹی کمشنر، کراچی بلدیہ ایڈمنسٹر رہے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، رجسٹرارسے سپریم کورٹ، وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان اور نہ جانے کن کن عہدوں پر تعینات رہے مگر ان کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ پہلے سول سروسز کے آفیسر ہیں جو سپریم کورٹ کے رجسٹرار رہے۔ وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان اور ایشیا کے محتسب اعلیٰ کی یونین کے صدر ہیں۔ شیراز ہند (گوجرانوالہ) جناب سید طاہر شہباز نے ہر عہدہ نبھایا۔ ایک لمحہ پچھتاوے،انتقام،احساس کمتری یا احساس برتری کا نہیں۔ ایک دیا لو اور حقیقی سید بادشاہ ہیں جنہوں نے گوجرانوالہ کے عظیم باسیوں کی روایت قائم رکھی نہ کہ سیاست، امارت میں در اندازی کرنے والوں کی طرح حسد، بغض اور کینہ میں مبتلا ہوئے۔ سیاسی اعتبار سے گوجرانوالہ وہ مقام حاصل نہ کر سکا جو اس کا حق تھا جتنا اس میں Potentical تھا مگر بیورو کریسی و دیگر شعبے میں آنے ولے لوگوں نے شیراز ہند (گوجرانوالہ)کا خوب مان رکھا اور ایک نیک نامی سے روشناس کروایا جناب سید طاہر شہباز شاہ نے بڑے بڑے عہدوں پر خدمت خلق اور عوام کی حقیقی نوکری، جوں جوں عہدے بڑھتے گئے شاہ صاحب میں عجز و انکساری، زہد و تقویٰ، انسان دوستی مزید گھر کرتی چلی گئی۔ اللہ کریم سلامت رکھے شاہ صاحب شیراز ہند (گوجرانوالہ) کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

تبصرے بند ہیں.