خرابی کی جڑ

102

سارا تنازع یا فساد جو اس وقت مقتدر حلقوں میں بپا ہے اور جس نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس کے علاوہ افرادِ ملت کو کچھ سوجھ نہیں پا رہا انجام کیا ہو گا اور آنے والے دو ایک دن کے اندر ڈی جی ’آئی ایس آئی‘ کے طور پر کس کے نام کا اعلان کیا جائے گا… اس کی جڑیں ’آئی ایس آئی‘ جیسی دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والی عظیم پاکستانی جاسوسی تنظیم کو سونپے جانے والے کردار میں پائی جاتی ہیں جس کی خاطر اس کی تخلیق نہیں کی گئی تھی… آئی ایس آئی کو درحقیقت بھارت کی جاسوس ایجنسی ’’را‘‘، امریکہ کی ’’سی آئی اے‘‘ اور برطانیہ کی ’’ایم آئی فائیو‘‘ وغیرہ کی مانند پاکستان کے دشمن ممالک کے اندر پائی جانے والی ہمارے خلاف سرگرمیوں، جاسوسی نیٹ ورک اور دشمن کے جنگی ارادوں کو بھانپ کر ان کے بارے میں اپنی فوجی قیادت اور حکومت کو مطلع کرنا اور ان مذموم عزائم کا پیشگی تدارک کر کے دشمن کے تمام تر پاکستان مخالف منصوبوں کو مفلوج اور تلف کر کے رکھ دینا ہے… اس کے ساتھ دشمن ملک کے اندر’کائونٹر انٹیلی جنس ‘ کو فروغ دینا ہے… اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی ’آئی ایس آئی‘ نے اس میدان میں بڑا نام کمایا ہے… مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج اور پولیس کے ناک میں دم کر کے رکھ دیا ہے… افغان جہاد کے دوران امریکی سی آئی اے کے تعاون کے ساتھ ’آئی ایس آئی‘ نے سوویت یونین کے ناجائز غلبے کی جڑیں اکھاڑ کر رکھ دینے میں وہ کردار ادا کیا کہ خود ’سی آئی اے‘ والے ہماری اس تنظیم کی اعلیٰ پیشہ وارانہ کارکردگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تب اسے دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک قرار دیا گیاد یوں آئی ایس آئی نے وہ شہرت کمائی کہ اس کے نام سے مقابلے کی دوسری ایجنسیوں کو خوف آتا تھا… اب بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے مگر مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا کہ ہماری ’آئی ایس آئی‘ نے دنیا کے دوسرے ممالک کے اندر پائے جانے والے نظام کے برعکس اپنے ذمہ یہ ڈیوٹی بھی سنبھال لی کہ اندرون پاکستان جنم لینے والی دہشت گردی کی کارروائیوں اور سیاستدانوں کی آپس کی خفیہ و ظاہری سرگرمیوں پر نگاہ رکھے… کہا جاتا ہے کہ اس کام کا آغاز سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز اور ایما پر کیا گیا جس کے نتیجے میں ’آئی ایس آئی‘ کے اندر ایک پولیٹیکل سیل کا قیام عمل میں لایا گیا بس یوں سمجھئے کہ اسی سے فتنے کا وہ بیج بویا گیا جو آج ایک تناور درخت بن کر ہمارے ملک اور اس کے نظام کے اندر فتنہ پروری کا باعث بنا ہوا ہے…
حالانکہ دوسرے ممالک میں جیسا کہ امریکہ بھارت اور برطانیہ وغیرہ ہیں اندرون ملک دہشت گردی اور دوسری سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کے لئے علیحدہ اور متوازی جاسوسی تنظیمیں پائی جاتی ہیں جن کا کوئی تعلق یا وابطہ اس خاص ملک کے خلاف ہونے والی بیرون ملک سرگرمیوں سے نہیں ہوتا… امریکہ کی ’سی آئی اے‘ کے نام سے دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے… اس کا نیٹ ورک اطراف و اکناف عالم میں پھیلا ہوا ہے مختلف ملکوں کے اندر ناپسندیدہ یا مخالف حکومتوں کے تختے تک الٹا کے رکھ دیتی ہے… وہاں پر مرضی کی حکومتوں کو برسراقتدار لے آتی ہے… مقامی سیاستدانوں کی پرورش کرتی ہے… انہیں خفیہ فنڈ فراہم کرتی ہے… نت نئی سازشوں کے جال بنتی ہے لیکن یہ سارا کام امریکہ کی حدود سے باہر مخالف ملکوں کے اندر کیا جاتا ہے… اندرونِ امریکہ ’سی آئی اے‘ کو کسی طرح کا عمل دخل حاصل نہیں ہوتا… داخلی حدود کے اندر رہتے ہوئے جاسوسی کی ذمہ داریاں اور امریکہ مخالف عناصر کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کی ذمہ داریاں ’ایف بی آئی‘ ادا کرتی ہے… اس کا نیٹ ورک بھی امریکہ کے شہر شہر اور چھوٹی بستیوں تک پھیلا ہوا ہے… اگرچہ 9/11 کے بعد وہاں کی تمام ایجنسیوں کو ایک سسٹم کے تحت لے آیا گیا ہے جسے ’ہوم لینڈ سکیورٹی ‘ کہتے ہیں مقصد اس کا یہ ہے کہ آپس میں حساس ترین انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے تاکہ 9/11 جیسے واقعہ کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے لیکن اس سب باہمی تعاون کے باوجود یہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں خود کو اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود رکھتی ہیں اسی طرح برطانیہ میں ’ایم آئی فائیو‘ جہاں اپنے وطن کے خلاف ہونے والی جاسوسی سرگرمیوں پر گہری اور پیشہ وار جاسوسی ماہرین کے ذریعے نگاہ رکھتی ہے وہیں اندرون برطانیہ اس کی یہ ذمہ داری نہیں بلکہ اس کام کو وہاں کی متوازی جاسوسی تنظیم ’ایم آئی سکس‘ سرانجام دیتی ہے… بھارت آ جایئے جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ ’را‘ کے نام سے برصغیر کا بچہ بچہ واقف ہے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اس نے جو مذموم خفیہ کارروائیاں کیں ان سے کون واقف نہیں… بھارتی فخر کے ساتھ اس کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن اندرون بھارت ’را‘ کی کسی کام میں کسی نوعیت کی مداخلت پسند نہیں کی جاتی… یہ ذمہ داری کو وہاں پر تقسیم سے پہلے قائم شدہ جاسوسی ایجنسی ’آئی بی‘ سرانجام دیتی ہے جسے 1885 میں ملکہ وکٹوریہ کی ہدایت پر چارلس Mac Dregor نامی کوارٹر ماسٹر جنرل نے جو اس وقت انٹیلی جنس شعبے کا سربراہ بھی تھا شملہ کے اندر قائم کیا… تقسیم کے بعد یہی ’آئی بی‘ دو حصوں میں منقسم ہو گئی… ایک نے اندرون پاکستان داخلی جاسوسی کے نیٹ ورک کو اپنے ذمہ لے لیا اور دوسری بھارت کے اندر مصروفِ کار ہو گیا…
تقسیم ہند کے بعد بھارت نے اپنے دشمنوں کی سرگرمیوں اور ہمسایہ ممالک کے اندر فساد و فتنہ کو فروغ دینے کے لئے ’را‘ کے نام سے اپنی مشہور ایجنسی قائم کی اور اسے ’آئی بی‘ سے بالکل علیحدہ رکھا… ’را‘ ، ’آئی بی‘ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی نہ بھارت کی ’آئی بی‘ ، ’را‘ کے دائرہ کار کے اندر قدم رکھنے کی جرأت کرتی ہے… اسی طرح پاکستان میں بھی جب ابتدا میں ’آئی ایس آئی‘ قائم کی گئی تو اس کا مینڈیٹ پاکستان کی سرحدوں سے باہر دشمن کی سرگرمیوں، ملک دشمن کارروائیوں پر گہری اور پوری پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نگاہ رکھنا تھا جسے اس نے بلاشبہ بطریق احسن نبھایا جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ بسااوقات ’سی آئی اے‘ اور ’را‘ ایجنسیوں کو بھی اپنے کارناموں کی بنا پر ورطہ حیرت میں ڈال دیا مگر بدقسمتی سے اس کے اندر جو پولیٹیکل سیل قائم کر دیا گیا اس نے پاکستان کے جمہوری نظام کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی… یہ آج کی کہانی نہیں 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں اس کی وجہ سے بہت گند پھیلا… جمہوریت کو بوٹوں تلے روندھ ڈالنے میں مدد حاصل کی گئی… فوجی ڈکٹیٹروں نے اسے اس اس انداز سے استعمال کیا کہ کسی منتخب جمہوری حکومت کو دو اڑھائی برس سے زیادہ عرصے تک چلنے نہیں دیا گیا… غلام اسحق خان، جنرل اسلم بیگ مرزا اور جنرل حمید گل کی باہمی منصوبہ بندی سے ’آئی جے آئی‘ کا جمہوری اتحاد وجود میں لایا گیا… پھر اس کے اندر پھوٹ ڈالنے اور آئی جے آئی کی حکومت کو تتر بتر کرنے کی خاطر بھی اسی ’آئی ایس آئی‘ کی خدمات سے فائدہ اٹھایا گیا… لمبی داستان کو مختصر کرتے ہوئے آج کے دور میں آتے ہیں… گزشتہ 6 اکتوبر کو مریم نواز نے جو سرِعام ججوں پر دبائو ڈالنے، مرضی کے بنچ تشکیل دینے اور ایک جمہوری وزیراعظم کے خلاف فیصلہ حاصل کرنے کے سنگین الزامات دائر کئے گئے اور اس کام میں جس طرح ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ کا کردار زیربحث لائی ہیں یہ سب کچھ اس عمل کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان تمام کاموں میں کسی ایک کا بھی ہماری عظیم تر ’آئی ایس آئی‘ کی ذمہ داریوں یا مینڈیٹ میں شمار نہیں ہوتا… جیسا کہ سطورِبالا میں عرض کیا گیا اس کا دائرہ کار تو مقبوضہ کشمیر، ہندوستان کے علاقوں، افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے اس پار کی جانے والی ہمارے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں اور خفیہ منصوبوں کا پیشگی اندازہ لگانا ان کی جڑوں کے اندر جھانک کر دیکھنا اور اپنی بہادر افواج اور حکومت کو ان سے بروقت مطلع کرتے رہنا ہے جسے اس نے بحسن و خوبی سرانجام بھی دیا ہے… اسی لئے ’آئی ایس آئی‘ کی کمانڈ اور تمام سینئر افسر فوج سے تعلق رکھنے والے اور اس کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں… اندرونِ ملک جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ داخلی جاسوسی کے فرائض کی ذمہ داری آئی بی کے کاندھوں پر آتی ہے جو براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہوتا ہے اور اس کا سٹاف زیادہ تر سویلین پیشہ ور لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن آئی بی کو عملاً غیرمؤثر بنا کر رکھ دیا گیا ہے…  نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ’آئی ایس آئی‘ کے یکے بعد دیگرے سربراہوں کے ناموں سے پوری دنیا واقف ہوتی ہے… حالانکہ دوسرے ممالک کے اندر ان کی شخصیات کو خفیہ رکھا جاتا ہے… پاکستان میں کتنے لوگ ہوں گے جو حالات حاضرہ سے واقفیت رکھنے کے باوجود ’را‘ کے سربراہ کے نام سے واقفیت رکھتے ہوں گے… یہی عالم برطانوی ایم آئی فائیو اور دیگر عالمی ایجنسیوں کا ہے… لیکن پاکستان میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا نام زبان زد عام ہوتا ہے… یہ امر بجائے خود جاسوسی کے آداب کے خلاف سمجھا جاتا ہے… اسی پر اکتفا نہیں فوج کی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ڈی جی ’آئی ایس آئی‘ کو ملک کا نمبر2 حکمران سمجھاجاتا ہے… اسی لیے اس کی تقرری اور تعیناتی پر ملک کے اندر ایک شورقیامت بپا ہے… نوازشریف کے عہد تک یہ خامی فعال تھی لیکن اس کی سرگرمیاں کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں… حقیقت یہ ہے کہ اگر آئی ایس آئی جیسی عظیم تنظیم کو اس کے اصل مینڈیٹ تک محدود کر کے رکھ دیا جائے اور اندرون ملک دہشت گردی اور دوسری سرگرمیوں کی ذمہ داری آئی بی کے سپرد کر دی جاتی تو بہت سے تنازعے ختم ہو کر رہ جاتے ہیں… اس سلسلے میں امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی مانند پاکستانی ایجنسیوں کو ایک نظام کے تحت اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کی گئی، دفاتر قائم ہوئے لیکن عملاً کچھ حاصل نہ ہو سکا کیونکہ ہماری یہ ایجنسیاں اپنی اپنی معلومات کو سینے سے لگائے رکھنے کے معاملے میں بڑی حساس واقع ہوئی ہیں لیکن اس سارے کام کے منفی نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.