بھارت میں انتہا پسندوں کی تنقید کی وجہ سے رواج ختم کردیا گیا

104

ممبئی: بھارت میں انتہا پسند ہندؤں کی تنقید معروف برانڈ کی نئی آئیٹم کو لے بیٹھی ۔

تفصیلات کے مطابق  بھارت میں مودی حکومت کے دوران انتہا پسند ہندوؤں کا خوب زور ہےاور اقلیتوں سمیت تمام بڑے کاروباری ادارے اور مختلف طبقہ فکر کے لوگ بھی ان کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں ۔

ایسا ہی کچھ بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے ایکبار پھر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ایک مقامی برانڈ نے اپنی نئی پراڈکٹ کا نام اردو زبان کے لفظ ” رواج ” پر رکھ دیا ۔ معروف برانڈ کو لفظ رواج کا استعمال مہنگا پڑگیا اور انتہا پسند ہندؤں کی پرزور تنقید اور اصرار پر اس اشتہار کو ہی ختم کرنا پڑا ۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق فیب انڈیا نے اس بار کپڑوں کی تھیم کو ” جشن رواج ” کا نام دیا تھا جس پر انتہا پسند ہندؤں نے تنقید کا طوفان  برپا کردیا ۔

انتہا پسند ہندؤں کا موقف ہے کہ دیوالی ہندؤں کا تہوار ہے  اور اس کے لئے بنائے گئے اشتہار میں اردو کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ  برینڈ کی اس شوٹ  میں جو ماڈلز کام کررہی ہیں وہ گیٹ اپ سے ہندو نہیں لگ رہیں ۔

 سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے برانڈ کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا، ایک صارفین نے لکھا کہ وہ اس برینڈ سے بہت کپڑے خریدتے ہیں لیکن دیوالی ہندووں کا سب سے بڑا تہوار ہے لیکن برینڈ کی شوٹ میں کوئی ماڈل ہندو نہیں لگ رہی۔

برینڈ نے تنقید کے بعد اشتہار تو واپس لے لیا لیکن کچھ افراد نے اس بے جا تنقید کے خلاف آواز بھی اٹھائی۔

مصنفہ شونالی شروف نے لکھا کہ یہ بہت مضحکہ خیز ہے کہ ایک کلیشکن کو اردو نام دینے سے آپ کے لیے دیوالی کی اہمیت کیسے کم ہو جاتی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ انتہا پسندی کی زد میں کوئی اشتہار آیا ہو، کچھ عرصہ قبل ہی عالیہ بھٹ کے دلہن بنے اشتہار پر بھی مسائل کھڑے ہوئے تھے۔

 اشتہار میں عالیہ نے بھارتی معاشرے میں رائج روایات اور رسم و رواج پر سوال اٹھایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ہندووں میں شادی کے وقت کیوں ‘کنیا دان’ کیا جاتا ہے؟ بیٹی کوئی دان ( عطیہ  ) کرنے  کی چیز نہیں ہے، اس کی جگہ ‘کنیا مان’ ہونا چاہیے اور بیٹی کو مان کے ساتھ رخصت کرناچاہئے ۔

تبصرے بند ہیں.