چین نے ہائپر سانک میزائل کا تجربہ کرنے کی خبروں کی تردید کر دی

123

بیجنگ: چین نے ہائپر سانک میزائل کا تجربہ کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں ایک معمول کا تجربہ کیا گیا تھا جس میں مختلف قسم کی دوبارہ قابل استعمال خلائی ٹیکنالوجی کو جانچا گیا تھا۔

 

بین الاقوامی جریدے ‘فائنینشل ٹائمز’ کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اس خبر سے تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جہاں امریکہ کے خفیہ اداروں کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور وہ یہ جان کر حیران رہ گئے تھے۔

 

ہائپرسانک میزائل عام میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی تیز رفتار اور سبک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا توڑ کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس خبر سے چین کی جوہری صلاحیت کے بارے میں پہلے سے پائی جانے والی تشویش میں مزید زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔

 

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاو لیجان نے سوموار کو ذرائع ابلاغ کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس سال جولائی میں ایک معمول کا تجربہ کیا گیا تھا جس میں مختلف قسم کی دوبارہ قابل استعمال خلائی ٹیکنالوجی کو جانچا گیا تھا۔

 

انھوں نے کہا کہ یہ میزائیل نہیں تھا بلکہ ایک خلائی جہاز تھا اور خلائی جہازوں پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنے میں اس کی بہت اہمیت تھی۔ بہت سے دوسرے ممالک بھی اس نوعیت کے تجربات کر چکے ہیں۔ فائنینشل ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہ کیا یہ رپورٹ درست نہیں ہے تو انھوں نے کہا ہاں۔

 

ہفتے کو شائع ہونے والی رپورٹ میں چار ذرائع کا نام ظاہر کیے بغیر حوالہ دیا گیا تھا جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہائپرسانک میزائل کو گرمیوں میں داغا گیا تھا۔ یہ میزائل خلائی مدار میں چکر لگا کر زمین کی طرف آیا اور وہ اپنے ہدف سے معمولی سی دوری پر ٹکرایا۔

 

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ چین کی طرف سے اس ٹیسٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے اس شعبے میں حیران کن ترقی کی ہے جو امریکی حکام کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.