نورمقدم کیس : سپریم کورٹ نے ملزم کی ماں کی ضمانت منظور کرلی

99

اسلام آباد :سپریم کورٹ نے نورمقدم کیس میں ملزم کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت منظور کرلی ۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ بظاہر ماں کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق  سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ملزمان ذاکر جعفر اورعصمت جعفر کی ضمانتوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ  دونوں درخواست گزار مرکزی ملزمان نہیں، ان پر قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دنیا کا الزام ہے، قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز ریکارڈ ہی شواہد ہیں۔ ان  کا کہنا تھا کہ  ملزم اپنے والدین سے پونے 7 بجے سے 9 بجے تک  رابطے میں رہا ، والد کے بات ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔

 جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کے مقدمہ میں اپنی رائے دے کر ہم پراسیکوشن کے مقدمہ کو  ختم نہیں کر سکتے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے کالز میں والد قتل کا کہہ رہا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے بیٹے کوقتل سے روک رہا ہو۔

وکیل خواجہ حارث نے مؤقف دیا کہ یہ بھی ممکن ہے بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کیلئے میڈیکل کروایا گیا؟۔ وکیل مدعی شاہ خاور نے مؤقف دیا کہ ملزم کا صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے، ذہنی کیفیت جانچنے کیلئے کوئی معائنہ نہیں ہوا۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ ملزم انکار کرے تو ذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی، ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرار جرم کی صورت میں اٹھتا ہے۔  جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ٹرائل کی کیا صورت حال ہے؟۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ فرد جرم عائد ہو چکی، 8 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی ہے۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر ماں کے جرم میں شامل کے شواہد نہیں۔ ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ماں نے  گارڈ کو دو کالز کیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایک سفاک قتل ہے جس کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔  

 جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کی بجائے تھراپی کا کیوں کہا گیا۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیئے کہ وقوعہ کے بعد بھی ملزمان کا رویہ دیکھا جاتا ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے  بتایا کہ والدہ کی بھی 11 کالز کا ریکارڈ موجود ہے۔

عدالت نے دلائل کے بعد مرکزی ملزم کی والدہ عصمت جعفر کی ضمانت منظور کرلی، جب کہ ظاہر جعفر کے والد زاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔

تبصرے بند ہیں.