اندھی تبدیلی، اندھا دھند مہنگائی

95

نا تجربہ کاری، نا اہلی، حد سے بڑھی خود اعتمادی یا پھر پنگے بازی کا شوق، میڈیا میں رہنے کی دھن، اندھی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ مہنگائی کا مسئلہ جان ہلکان کیے دے رہا ہے۔ افغانستان کا مسئلہ باوجود کوششوں کے پیچیدہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ایک اور تماشا لگا دیا۔ انتہائی حساس مسئلہ چھیڑ دیا۔ کیا شوق پایا ہے کہ ”چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد“ کون مشورے دیتا ہے؟ سوچنا چاہیے کہ دو یک جان دو قالب مشیر ماضی میں دو تین حکومتیں ٹھکانے لگا چکے ہیں۔ وزرائے خزانہ اور معاشی مشیروں کے تقرر کا تجربہ بھی بری طرح ناکام رہا۔ آنے والے عوام کا گلا گھونٹ کر ہدف پورا کر رہے ہیں۔ معیشت کہاں سدھری، مہنگائی کہاں رکی، قرضے اربوں کھربوں کے حساب سے بڑھ رہے ہیں۔ مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ ہر چیز ہر خرابی کی ذمہ دار سابق حکومتیں لیکن تین سالوں کے دوران ان خرابیوں میں کئی گنا اضافہ،کیا نظر نہیں آرہا؟ مہنگائی کم کرنے کے بیانات سے عوام عاجز آگئے۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا کہ قیمتیں کم کی جاسکیں۔ اس پر بھی یہی رٹ کہ”مہنگائی نہیں ہے۔ پلیز عوام کو سمجھائیں ہم مہنگائی باہر سے درآمد کر رہے ہیں“۔ استاد غالب زندہ ہوتے تو جل کر کہتے ”مہنگائی کر کے کہتے ہیں مہنگائی تو نہیں، ساری وضاحتیں گئیں پیمان تو گیا“ اس سب کے باوجود ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کا شوق،خوش قسمتی ہے کہ سائیں خاموش ہیں اور سر پر ہیں ورنہ کب کے گھر گئے ہوتے، اب ان ہی سے چھیڑ خانی کوئی مضائقہ نہیں لیکن حساس معاملات کو عوام میں لانا پبلک کرنا اور سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے اچھے برے تبصرے سننا کتنا مناسب ہے، واللہ کیا شوق پایا ہے کہ پہلے خود ہی مسئلہ چھیڑا جب بھڑوں کے چھتے کی طرح چھڑ گیا۔ تو سارے لال بجھکڑ لگے وضاحتیں کرنے کہ کوئی اختلاف نہیں سارے ایک پیج پر ہیں، پیج کتنا بڑا تھا کہ اس پر لکھی تقدیر کی لکیریں پڑھنے کے لیے رات گئے تک مذاکرات کی ضرورت پڑی، کبھی کسی نے پوچھا کہ کتنے وزیر مشیر اہل، تجربہ کار اور قابل ہیں کتنے صرف اپوزیشن کو گالیاں دینے کی تنخواہیں وصول کرتے ہیں پھر دوسروں کے معاملات پر اتنی باریک بینی سے غور و خوض چھان بین کیوں؟ سب کی اپنی ضروریات اپنے حالات ”تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو“ اتھارٹی مسلم لیکن اس کے میڈیا پر نعرے لگانے کی ضرورت؟ اچھا ہوتا کہ خاموشی سے باہم مذاکرات کے ذریعے حساس مسئلہ حل کرلیتے جو حالیہ شور شرابے کے بغیر بھی ہو سکتے تھے، نیک نامی کا باعث بنتے، انتظامی مسئلہ پر اتنا شور، تین تین چار چار وزیر وضاحتیں کرتے پھرتے رہے۔ مقام شکر کہ کسی جانب سے شدید رد عمل نہیں آیا۔ ”کہہ رہا ہے قعر دریا سے سمندر کا سکوت، جتنا جس کا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے“ کوئی کیا نصیحت کرے جہاں سارے ہی عقل مند ہوں، ما شاء اللہ سارے وزیر مشیر عقل کی ہمالیائی چوٹیاں سر کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ترجمان ان سے اعلیٰ تبدیلی کے نقیب،لا کر چھوڑیں گے۔ یہی کہا جاسکتا ہے کہ حساس ایشوز کے معاملات میں احتیاط ضروری، بد احتیاطی سے
قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں پیج پر خدانخواستہ غلط فہمیوں کی سیاہی پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پہلی بار ایسا نہیں ہوا 70 سالوں میں بار بار ہوا ہے ملک کو اس کے اچھے برے نتائج بھی بھگتنا پڑے ہیں لیکن کسی مرحلہ پر بھی ڈھنڈورچیوں نے اتنا ڈھول نہیں پیٹا، اتنا شور نہیں مچایا کہ سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تبصروں اور خیالی پلاؤ پکانے والوں سے بھر جائے سمجھنا چاہیے کہ اس قسم کی حرکات سے ملکی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ سوالات اٹھنے لگتے ہیں جن میں سے اکثر تکلیف دیتے ہیں۔ اپنے شیخ صاحب وزیر داخلہ ہیں۔ داخلی امور، امن و امان، جرائم کی روک تھام، کرمنلز کا قلع قمع اور دہشگردی کا خاتمہ ان کی سرکاری ذمہ داری، لیکن شیخ صاحب ما شاء اللہ ہر فن مولا خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسی معاشی پالیسی، سول معاملات۔ سیاسی الجھنوں آئینی موشگافیوں حتیٰ کہ ممنوعہ اداروں میں بھی تاک جھانک سے باز نہیں آتے۔ اپوزیشن کو بے نقط سنانے اور نت نئے کوسنے دینے کے ماہر انہوں نے بھی غیر ضروری طور پر اس معاملہ میں مداخلت کی اور طبع آزمائی کرنے والوں کو حوصلہ بخشا، سائیں سر پر ہیں تو کوئی کیا بگاڑے گا لیکن کسی کی زبان تو پکڑی نہیں جاسکتی لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ملک میں جادو ٹونے اور جنتر منتر سے فیصلے کیے جاتے ہیں عجیب و غریب جادوئی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ بزرگ کہا کرتے تھے اپنے کام پر توجہ دو پنگے نہ لو یہاں اپنے کام پر توجہ نہیں روز اول سے ”اٹ کھڑکا“ اور تقریروں پر انحصار، اس میں بھی تہذیب و اخلاق کا عمل دخل نہیں، گزشتہ دنوں ق لیگ کے سینیٹر کامل علی آغا ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اسی بات پر افسردہ تھے کہ سالہا سال سے سیاست میں ہیں لیکن ایسی بد زبانی، گالم گلوچ اور اخلاق سے گری گفتگو کبھی نہ سنی سارے ٹک ٹاکر اکٹھے ہوگئے ہیں۔ دن بھر ٹک ٹاکری کوئی ٹکرانے والا نہیں کارکردگی کیا ہے۔ روزانہ قرعہ اندازی، مٹکے یا پائپ لائن سے پرچیاں نکال کر کسی بھی مسئلہ پر اجلاس، چودہ نکاتی یا سولہ نکاتی ایجنڈے پر غور، تقریر دلپذیر اور تمت بالخیر، آگے کی خبر خدا جانے، اصل مسائل سے روگردانی، عوام سے تو پوچھ دیکھیں اصل مسئلہ کیا ہے بھوکے سے کسی نے پوچھا تھا دو اور دو کتنے اس نے جھٹ سے جواب دیا چار روٹی، اب د وملنی مشکل، وفاقی وزیر گنڈا پور نے تو مزید کم کھانے کا مشورہ دے دیا۔ ”کیا بجھا دیں چراغ ہستی بھی؟“ حساس معاملات سے عوام کا کیا تعلق جس کا کام اسی کو ساجھے عوام کو بجلی، گیس، پیٹرول، گھی، کوکنگ آئل اور دیگر اشیائے صرف کی روزانہ بڑھتی قیمتوں کی فکر کھائے جاتی ہے۔ عالمی سطح پر پیٹرول 85 ڈالر فی بیرل ہوگیا اس لیے پاکستان میں بھی ہر پندرہ روز بعد اضافہ نا گزیر، ایک سمجھدار اور زیرک شخص نے کہا پیٹرول تین ماہ کے لیے خریدا جاتا ہے۔ جس بھاؤ خریدا تھا اسی حساب سے عوام کی ضروریات پوری کریں۔ لیوی ٹیکس بھتہ کی صورت میں لینے کی کیا ضرورت ایک روپیہ بڑھے تو اربوں کا ٹیکہ لگتا ہے۔ یہاں تو بے حد و حساب بڑھ رہا ہے 16 اکتوبر صبح صبح خبر ملی کہ پٹرول 10 روپے 49 پیسے لٹر بڑھا دیا گیا 70 سالوں میں اتنی قیمت نہیں دیکھی، ڈالر، سونا خلاؤں کی طرف محو پرواز ہے۔ جس ملک میں اربوں کی چینی گندم اور کوکنگ آئل درآمد کیا جائے وہاں قیمتوں میں استحکام کیسے آئے گا۔ مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد جبکہ کم آمدنی والوں کے لیے 15 فیصد اور غریبوں کے لیے 17 فیصد ہوگئی۔ سارے ماہرین معاشیات آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے پڑھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اپنے اساتذہ کا کہا مانتے ہیں آئی ایم ایف نے کہا انکم و سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بڑھائی جائیں، یس سر بڑھا دیں، آئی ایم ایف سے ندا آئی پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھے گا،مرے پہ سو درے،جہانگیر ترین جگری یار بقول ان کے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی آٹھ سیٹیں زیادہ تھیں کہا پنجاب کے بغیر کیسے حکومت چلے گی۔ میرا جہاز چلا اور حکومت بن گئی تب میں ہی جنت سے نکالا ہوا انسان ٹھہرا۔ انہوں نے بھی برملا کہا کہ مہنگائی کی ذمہ دار حکومت عوام پریشان، مایوس، مشتعل، اندھی تبدیلی اندھا دھند مہنگائی سے کیسے نمٹیں۔ پنڈورا پیپرز اور حساس ایشو سے عوام کی توجہ مہنگائی سے ہٹانے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں جنات کی حکومت ہے جنات کے ذریعے جنات کے لیے۔ سب کچھ درست لیکن ان کی پی ڈی ایم کہاں ہے، اپوزیشن کہاں سو رہی ہے؟

تبصرے بند ہیں.