پٹرول کی قیمت بڑھنے سے پہلے چینی کا بحرا ن

106

سو لہ اکتو بر کی صبح کو جیسے ہی عا لی جنا ب وز یرِ اعظم پا کستان عمرا ن خان صا حب نے پٹر ول کی قیمت میں دس روپے اضا فے کا اعلا ن کیا تو پہلے سے بڑ ھتی ہو ئی مہنگا ئی نے مز ید سیدھے ہو کر آ سما ن کا رخ کیا۔تین و قت کا کھا نا چھو ڑ کر دو وقت کا کھا نا کھا نے والے عوام دو وقت کے کھا نے کی بجا ئے پو رے دن میں ایک وقت کا کھا ناکھانے پہ غو ر کرنے لگے۔پٹرول، جو اب بڑھ کر 138روپے فی لٹر ہو چکا ہے، اکیلے الگ سے ایک پو رے کا لم کا متقا ضی ہے۔تاہم زیرِ نظر کا لم ان اشیاء کی مہنگا ئی کے با رے میں ہے، جن کی قیمتیں پٹر ول کی پٹر ول کی قیمت بڑھا نے سے پہلے بڑ ھا دی گئیں۔ تو صا حبو خبر کچھ یو ں تھی کہ یوٹیلٹی سٹوروں پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں یکمشت 110 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔ بجلی کے نرخ فی یونٹ ایک روپیہ اڑسٹھ پیسے بڑھادیئے گئے ہیں اور ادارہ شماریات ملک میں مہنگائی کی شرح، رواں ہفتے کے اضافے کے بعد 12.66 فیصد بتارہا ہے۔ حکومت ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف اقدامات کا عندیہ دے رہی ہے اور اس کارروائی کا آغاز پنجاب کی چند شوگرملز کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے سے ہوا ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹری کے مطابق قانون شکنی کرنے والوں اور مقررہ قیمت سے زائد چینی فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کے اس اقدام سے چینی کی قیمت میں اعتدال آتا ہے یا نہیں اور سرکاری نرخوں کے مطابق یہ روزمرہ ضرورت کی شے گاہکوں کو ملتی ہے یا نہیں، یہ واضح نہیں مگر اس سے چینی کی صنعت میں جو بے چینی کی لہر پید اہوئی ہے وہ بڑی واضح ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اشارہ کرچکی ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو یکم نومبر سے کرشنگ کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔ بالفرض ایسا ہوتا ہے تو اس سے گنے کے کاشت کار اور چینی کے گاہک دونوں متاثر ہوں گے۔ ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ شوگر انڈسٹری سے حکومت کو بہت شکایات ہیں۔ گزشتہ دو تین برسوں میں اس صنعت کے قیمتوں کے ساتھ جو کرتب کیے ہیں وہ بھلائے نہیں بھولتے۔ ملکی ضروریات کے لیے ناگزیر سٹاک کو نظرانداز کرتے ہوئے چینی کی برآمد سے جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک قابو میں نہیں آسکا۔ اس معاملے پر اعلیٰ سطح انکوائریاں بھی کروائی گئیں اور سفارشات بھی مرتب ہوئیں مگر جب انڈسٹری کے اجارہ داروں کے خلاف اقدامات کا احسن موقع تھا تو حکومت سے کچھ نہ ہوسکا۔ اس طرح حکومت نے ملکی شوگر انڈسٹری کے اقدامات سے چشم پوشی کرتے ہوئے
درآمدی چینی کے ذریعے ان کی اجارہ داری کو توڑنا چاہا، مگر چونکہ یہ پائیدار اور قابل عمل طریقہ نہیں تھا لہٰذا چینی کا بحران بتدریج شدت اختیار کرتا تھا۔ امسال ماہِ رمضان میں چینی کے حصول کے لیے عوام کو جس طرح خوار ہونا پڑا وہ اس غم بھری داستان کا نقطہئ عروج تھا۔ حکومت مسلسل چینی کی سرکاری قیمتوں پر فراہمی کے دعوے کرتی رہی مگر عملاً چینی کے نرخ مسلسل بڑھتے گئے۔ اس دوران جو چینی درآمد کی گئی وہ بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین نرخوں پر تھی۔ ستمبر کے آخر میں درآمد کی جانے والی ساڑھے اٹھائیس ہزار ٹن سے زائد چینی ملکی بندرگاہ پر 109 روپے فی کلو میں پڑی۔ ڈالر کی شرح مبادلہ اور آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈی کم کرنے کی دباؤ میں حکومت کے لیے مہنگی درآمدی چینی عوام کو سستے داموں مہیا کرنا مشکل ہے۔ چنانچہ ملکی شوگر انڈسٹری کا تعاون اس بحران سے نکلنے کے لیے اہم ہے۔ اگر شوگر انکوائری کی سفارشات پر بروقت عمل کیا جاتا تو ممکن ہے اب تک یہ بحران شاید حل ہوچکا ہوتا مگر اب جبکہ گنے کی فصل تقریباً تیار ہے اورایک دو ہفتوں میں کرشنگ سیزن کا آغاز ہونے والا ہے تو انڈسٹری کے خلاف اقدامات کا یہ غالباً مناسب موقع نہیں۔ حکومت اور انڈسٹری میں قیمتوں پر جو تحفظات ہیں انہیں مناسب موقع پر اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر حکومت نے درآمدی چینی، جو ملکی پیداوار سے بھی مہنگی پڑ رہی ہے، کے بجائے ملکی شوگر انڈسٹری کے ساتھ معاملات کیے ہوتے تو مسائل حل ہوسکتے تھے۔ اب بھی یہی آپشن ہے کہ مذاکرات کو پہلی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انڈسٹری کے ساتھ سلسلہ جنبانی کئی لحاظ سے ملکی مفاد کے لیے اہم ہوتا ہے۔ بے شک جو انڈسٹری اجارہ داری پر بضد ہو اور قواعد کی پروا نہ کرے اس کے خلاف سخت اقدامات کی حکومت کے پاس مکمل اتھارٹی ہے مگر بہترین حل یہی ہے کہ مسائل کو حکمت کے ساتھ حل کیا جائے۔ شوگر انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا جاتا تو اس انڈسٹری کو راہِ راست پر لانے کے کافی امکانات تھے مگر حکومت نے وہ موقع گنوادیا اور اب عجلت میں مقدمات درج کرنے کا ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے جو بے موقع لگتا ہے۔ اشیائے خور و نوش کے تقریباً سبھی شعبوں میں طلب اور رسد کا بحران ہمارے ہاں کا معمول ہے۔ چینی کو چھوڑ آٹے کی بات کرلیں جس کے نرخ اس وقت سرکاری نرخوں سے تقریباً 23 فیصد زیادہ ہیں۔ سبزیاں، گوشت اور انڈے بھی روز بروز مہنگے ہورہے ہیں۔ حکومت کس کس شعبے کے صنعت کاروں کو پکڑے گی؟ مہنگائی کے شکار عوام ہیں جب تک ان کی جانب توجہ نہیں دی جاتی یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، اور اس کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ طلب اور رسد کے فرق کو کم کیا جائے۔ ملکی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جب تک وافر خوراک پیدا نہیں ہوگی، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ مارکیٹ کا طلب اور رسد کا اصول قیمتوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہورہا ہے۔ پیداوار بڑھانے کے علاوہ موجودہ پیداوار اور مارکیٹ کو متوازن بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ ذخیرہ اندوزی اور کارٹلائزیشن کے خلاف اقدامات کرے، مگر اس سلسلے میں کارروائی کم اور اس کا ڈھنڈورا زیادہ پیٹا جاتا ہے۔ چنانچہ جب بھی حکومت اس قسم کے تنبیہی بیانات دیتی ہے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔بیا نا ت تو یہ بھی پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ اس بر س اجنا س کی ریکا رڈ پیدا وا ر ہو ئی ہے۔ مگر یہ ایک سر بستہ راز ہے کہ اس سب کا فا ئد ہ عوا م کو کیو ں پہنچ نہیں پا تا۔ حکو متِ وقت اگر کچھ اور کر نہیں پا تی تو کم از کم ان عنا صر کا توپتہ لگا ئے جو یہ فا ئد ہ عوام تک پہنچنے نہیں دیتے۔

تبصرے بند ہیں.