مائنس جام کمال کے علاوہ کوئی آپشن قبول نہیں، ناراض ارکان کا پرویز خٹک کو کرارا جواب

30

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان نے وزیر دفاع پرویز خٹک پر واضح کر دیا کہ مائنس جام کمال کے علاوہ کوئی آپشن قبول نہیں۔

 

وزیر دفاع پرویز خٹک کی بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) کے قائم مقام صدر ظہور بلیدی سے ملاقات ہوئی جس میں سپیکر عبدالقدوس بزنجو، سینیٹر منظور کاکڑ، سینیٹر کہدہ بابر، سردار عبدالرحمان کھیتران، نصیب اللہ بازئی سمیت دیگر موجود تھے۔

 

ملاقات میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا ،تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پربھی گفتگوکی گئی۔

 

ذرائع کے مطابق پرویز خٹک نے ناراض اراکین سے اختلافات افہام تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی درخواست کی جس پر ارکان نے جام کمال کے مستعفی ہونے تک بات چیت سے انکارکرتے ہوئے دو ٹوک جواب دیا کہ مائنس جام کمال کے علاوہ کوئی آپشن قبول نہیں ہے۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ناراض اراکین کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور پارٹی سے صدارت سے مستعفی ہونے کے اعلان کو واپس لیا۔ وزیر اعلیٰ نے سابق وزیر خزانہ کو پارٹی کا قائمقام صدر بنانے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرد واحد کا فیصلہ ہے ۔

 

وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جام کمال نے کہا کہ انہوں پارٹی صدارت سے استعفیٰ نہیں دیاتھا بلکہ اس کی خواہش ظاہر کی تھی،انہوں نے کہا ہہ دوستوں کے اصرار پر پارٹی صدارت چھوڑنے کا فیصلہ واپس لیتاہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ فرد واحد نے ظہور بلیدی کو پارٹی کا قائمقام صدر منتخب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ فرد واحد کو پارٹی کا قائمقام صدر منتخب کرنے کا اختیار نہیں ہے اور   آئندہ پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہونگا۔

تبصرے بند ہیں.