’سکوئڈ گیم‘ نیٹ فلیکس کی مقبول ترین ڈرامہ سیریز بن گئی

15

لاہور: دنیا بھر میں مقبول سٹریمنگ سروس ’نیٹ فلیکس‘ نے کہا ہے کہ جنوبی کوریائی سپرہٹ شو سکوئڈ گیم، سٹریمنگ سروس کی سب سے مقبول اوریجنل سیریز بن گیا ہے۔
نیٹ فلیکس پر نشر ہونے والے 9 اقساط پر مشتمل اس سنسنی خیز ڈرامہ سیریز میں قرض میں ڈوبے لوگوں کو 45.6 ارب (3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) جیتنے کا لالچ دے کر بچوں کے کھیل کھلائے جاتے ہیں اور ہارنے والے کو گولی مار دی جاتی ہے۔

اس ڈرامہ سیریز میں مجموعی طور پر 400 سے زائد کھلاڑیوں کو ’سکوئڈ گیم‘ کا حصہ بنایا جاتا ہے جن میں سے بیشتر افراد پہلی گیم ’ ریڈ لائٹ، گرین لائٹ‘ کھیلنے کے دوران ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور اس دوران ہی کھیل میں شریک ہونے والے تمام افراد پر یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ہارنے کا مطلب موت ہے۔

یوں تو یہ ڈرامہ سیریز دنیا بھر میں بے حد مقبول ہوئی ہے مگر پاکستانیوں کی اس میں دلچسپی کی خاص وجہ سیریز میں شامل ایک پاکستانی کردار بھی ہے جس کا نام علی ہے اور وہ پہلی ہی گیم میں اس سیریز کے ہیرو کی جان بچاتا ہے تاہم بعد ازاں ایک کوریائی باشندے کی چالاکی، بے حسی اور لالچ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

اس ڈرامہ سیریز پر لاتعداد میمز بنائی گئی ہیں جبکہ کھیل کا حصہ بننے والے امیدواروں کے گرین ٹریک سوٹس بھی توجہ کا مرکز بھی بنے ہیں۔ ’سکوئڈ گیم‘ نے جنوبی کوریا کے معاشرتی تقسیم سے متعلق بحث کو بھی جنم دیا ہے جبکہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں کوریائی ثقافت اور زبان میں نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔

نیٹ فلیکس نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں باضابطہ طور پر اس سیریز کے مقبول ترین ہونے کا اعلان کیا اور لکھا ’سکوئڈ گیم‘ کے مداحوں کی تعداد باضابطہ طور پر 11 کروڑ 10 لاکھ ہوگئی ہے جس کے بعد یہ اب تک لانچ کی جانے والی ہماری سب سے بڑی سیریز بن گئی ہے’۔

17 ستمبر کو ریلیز ہونے کے بعد سے اس سیریز نے صرف 27 دنوں میں برطانوی کاسٹیوم ڈرامہ ’بریڈگرٹون’ کو باآسانی پیچھے چھوڑ دیا جسے ابتدائی 28 روز میں 8 کروڑ 20 لاکھ اکاو¿نٹس پر سٹریم کیا گیا تھا۔ سٹریمنگ سروس کے شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور چیف کانٹینٹ آفیسر ٹیڈ سرینڈوس بھی ’سکوئڈ گیم‘ کی مقبولیت پر حیران ہیں۔

انہوں نے گزشتہ مہینے کیلیفورنیا میں ایک ٹیک کانفرنس میں کہا تھا کہ سٹریمنگ ’سکوئڈ گیم‘ کے اتنا مشہور ہو جانے پر بہت حیران ہے کیونکہ ہم نے اسے عالمی سطح پر مقبولیت کی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔

تبصرے بند ہیں.