باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون عجیب، سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز نہیں: سپریم کورٹ

122

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کے قانون کو عجیب و غریب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز نہیں ہیں، باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون عجیب و غریب، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا خاتمہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ ریمارکس سرکاری کوٹے پر نوکریوں کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازم کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اس کی جگہ بھرتی ہوجائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ قانون کم تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کیلئے بنایا گیا تھا لیکن اس کا فائدہ افسران کے بچوں نے اٹھایا۔ پولیس میں اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات ملازم کا بیٹا کہتا ہے مجھے براہ راست ڈی ایس پی بھرتی کر دو۔

دوران سروس انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کو نوکری دینے سے متعلق سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہونگے جن کے والد کا انتقال 2005ء کے بعد ہوا ہو، 2005ء سے پہلے انتقال کرنے والے سرکاری ملازمین کے بچوں پر وزیراعظم پیکج لاگو نہیں ہوتا۔ ابتدائی طور پر یہ قانون پولیس اور دیگر شہداء کیلئے تھا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بنچ نے اس درخواست کی سماعت کی جو سراج محمد شہری کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ میں نے اپنے والد کی جگہ سرکاری ملازمت کیلئے درخواست دی جسے وزارت تعلیم نے مسترد کر دیا۔ میرے والد 2005ء میں دوران سروس انتقال کر گئے تھے۔

اس پر سپریم کورٹ کے بنچ کا کہنا تھا کہ 2005ء سے پہلے انتقال کرنیوالے ملازمین کی اولاد پر وزیراعظم پیکج لاگو نہیں ہوتا۔ اس پر درخواست گزار نے کہا کہ 2005ء سے پہلے کی ہو یا بعد میں، جان کی قربانی تو سب کی برابر ہوتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.