پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 39 اموات، 1742 کیس رپورٹ

105

اسلام آباد: پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 39 افراد کی اموات رپورٹ ہوئی ہے۔ اموات میں حالیہ اضافے سے اس موذی مرض سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 27 ہزار 729 ہو گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24 گھنٹے کے دوران 52 ہزار 635 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار 742 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں کورونا کے نئے مریضوں کی شرح 3.30 فیصد رہی۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کو دیکھتے ہوئے 8 شہروں میں عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے۔ ان شہروں میں سکردو، گلگت، مظفر آباد میرپور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور اسلام آباد شامل ہیں۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر اسد عمر کے زیر صدارت این سی او سی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈیڑھ سال سے کورونا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بندشوں کا فیصلہ وبا کے پھیلاؤ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا سمجھ چکی ہے کہ وبا سے نکلنے کا حل ویکسی نیشن ہی ہے۔ یکم اکتوبر سے بندشیں لگانے کا فیصلہ ویکسین لگانے کی شرح کے حساب سے ہوگا۔ کاروباری حضرات سے اپنے علاقوں کی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کی گنجائش کی اجازت ہوگی۔ ویکسی نیٹڈ افراد کیلئے سینما ہالز کھول دیئے جائیں گے۔ جن شہروں سے پابندیاں اٹھائی گئی ہیں وہاں ہفتے میں 7 دن ریسٹورنٹس کھلے رہیں گے، باقی شہروں میں ہفتے میں ایک دن کی چھٹی کی پالیسی برقرار رہے گی۔ یکم اکتوبر سے ویکسی نیٹڈ افراد فضائی سفر کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن مہم کامیاب رہی، 8 کروڑ افراد کی ویکسی نیشن جبکہ 2 کروڑ 70 افراد کی دونوں ڈوز مکمل ہو چکی ہیں۔ 30 ستمبر کے بعد جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، کام نہیں کر سکیں گے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ملک میں ویکسین اچھی مقدار میں موجود ہے، اب ہماری سٹریٹجی ویکسین پر منحصر ہے۔ 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کی ویکسین بھی شروع کر دی ہے۔ چاہتے ہیں تعلیمی نظام بغیر رکاوٹ کے چلے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ویکسین سے متعلق کسی قسم کے پروپیگنڈا پر توجہ نہ دیں، حاملہ خواتین کیلئے ویکسین ضروری اور محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ بیماری سے مکمل بچاؤ کیلئے دوسری ڈوز لگوانا بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی نت نئی اقسام آتی رہتی ہیں۔ ویکسین سے ہی پابندیوں سے نجات ملے گی۔ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ پولیو مہم میں ٹیموں کے ساتھ تعاون بہت ضروری ہے۔ ڈینگی سے بچنے کیلئے صفائی کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔

تبصرے بند ہیں.