جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کیساتھ جھڑپ، 10 دہشتگرد ہلاک

126

راولپنڈی: جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 4 اہم کمانڈروں سمیت 10 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ 

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اور مصدقہ اطلاعات پر آپریشن کیا۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے کا محاصرہ کرنے کے دوران پاک فوج اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

آئی ایس پی آرکے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران 10 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک دہشت گردوں میں 4 اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ٹھکانے سے بھاری تعداد میں اسلحہ و بارود برآمد ہلاک ہونے والے تمام دہشت گرد بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں ملوث تھے۔

دہشت گرد معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور حملوں میں بھی ملوث تھے۔ دہشت گرد جنوبی وزیر ستان ضلع میں دہشت گردی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، پاک فوج ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

 

ادھر ایرانی حدود سے ایف سی پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں سپاہی مقبول شہید اور ایک زخمی بھی ہو گیا۔ 

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان چوکب کے علاقے میں ایران کی حدود سے ایف سی پوسٹ پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی مقبول شہید اور ایک زخمی بھی ہو گیا۔ 

 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے فائرنگ کے دوران چھوٹے ہتھیار استعمال کئے اور پاکستان نے متعلقہ ایرانی حکام کو واقعہ سے آگاہ کر دیا۔ 

 

دو روز قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں امن دشمنوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا گیا تھا اور ایف سی جوانوں کی جانب سے حملے کا بھرپور جواب دیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی عرفان شہید اور 2 جوان زخمی ہو گئئے تھے۔ 

 

ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہے اور دہشتگردوں کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

 

اس سے قبل 24 ستمبر کو خاران میں خفیہ اطلاع پر ایف سی نے دہشتگردوں کے ٹھکانے پر خفیہ آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں 6 دہشتگرد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں ان کے دو کمانڈر گل میر عرف پلن اور کلیم اللہ بولانی بھی شامل تھے۔ دہشتگردوں کا اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا تھا۔ 

 

رواں ماہ 15 ستمبر کو جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر آپریشن کیا تھا اور یہ خفیہ معلومات پر آپریشن جنوبی وزیرستان کے علاقے آسمان منزا میں کیا گیا۔سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے 7 جوان شہید ہو گئے جبکہ 5 دہشتگرد بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ 

 

گزشتہ روز دتہ خیل میں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا تھا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد مارے گئے۔ ہلاک  ہونے والے دہشتگردوں کی پناہ گاہ سے اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا ہے،علاقے میں دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے آپریشن جاری ہے۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام میں بھی سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا تھا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔

 

اسی طرح گزشتہ ماہ 31 اگست کو جنوبی وزیرستان کے ضلع عثمان منزہ میں سکیورٹی  فورسز کی جانب سے ایریا کلیئرنس کے دوران دھماکا ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں سپاہی واجد اللہ شہید ہو گئے۔ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے سکورٹی فورسز نے  علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک دہشت گرد مارا گیا۔ 

 

اس سے قبل دہشت گردوں نے افغان علاقے سے پاکستانی چوکی کو نشانہ بنایا۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔  پاک فوج کی کارروائی میں تین دہشت گرد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 اہلکار شہید ہوئے۔ پاکستان نے افغان سرزمین دہشت گرد حملے کے لیے استعمال ہونے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

 

28 اگست کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا۔ پاک فوج کے اہلکاروں کے پہنچتے ہی دہشت گردوں نے فورس پر فائرنگ کی، جس پر اہلکاروں نے بھرپور مقابلہ کیا اور جوابی فائرنگ کی۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کے شدید تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور باقی دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا۔  آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے زیراستعمال ہتھیار اور گولیاں بڑی تعداد میں برآمد کی گئیں ہیں۔

 

یاد رہے کہ بائیس اگست کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا، جس کے قبضے سے ہتھیار اور گولیاں برآمد ہوئیں۔

 

سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد کے ساتھیوں کی تلاش اور موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے میں کئی گھنٹے طویل آپریشن کیا تھا۔ اس سے قبل 17 اور 18 اگست کی درمیانی شب جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی چوکی پر فائرنگ کی تھی، فائرنگ کے نتیجے میں نائب صوبیدار سونے زئی شہید ہوگئے تھے اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

 

 

 

تبصرے بند ہیں.