بیرونی قرضوں کا حجم سابق حکومتوں سے بھی  تجاوز کر گیا ،حیران کن انکشافات 

121

اسلام آباد:پاکستان کی موجودہ حکومت میں بیرونی قرضوں کا حجم سابق حکومتوں سے بھی تجاوزکر گیا ،پاکستان کا بیرونی قرضہ 122 ارب 44 کروڑ ڈالر سے زائد ہونے کا انکشاف سامنے آگیا ۔

میر خان محمد جمالی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ 122 ارب 44 کروڑ ڈالر سے زائد ہو چکا ہے ،جبکہ جون 2018 میں کل بیرونی قرضہ 96 ارب ڈالر تھا ،اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتا یا گیا تین سالوں میں قرض میں 26 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہواہے ۔

 ایڈیشنل سیکرٹری اقتصادی امور ذوالفقار حیدر کی کمیٹی کو بریفنگ میں بتا یا گیا کہ  پیرس کلب کا کل قرضہ 3 ارب 78 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے،جس میں 2 ارب 97 کروڑ ڈالر سے زائد قرض اور 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر شرح سود ہے، کورونا کی وجہ سے  پیرس کلب کی جانب سے قرضوں پر ریلیف دیا گیا، یہ ریلیف اس وقت دیا گیا  جب ڈالر آج سے 50 روپے سستا تھا، کمیٹی رکن قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا اب ہمیں نئے ایکسچینج ریٹ کے مطابق ادائیگی کرنی ہوگی جس سے  پاکستان کا تو نقصان ہواہے ۔

 ایڈیشنل سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا کہہمیں ریلیف  ملا کیونکہ ہماری قرض ادائیگی کی پسلی نہیں تھی،عائشہ غوث پاشا نے کہا اگلے اجلاس میں ہمیں بتایا جائے کہ روپے کی قدر میں کمی سے کیا نقصانات ہوئے ہیں،کیا آئی ایم ایف کے ساتھ وعدے کے مطابق 172 یا 174 روپے کا ڈالر رکھنا ہے۔

سیکرٹری اقتصادی امور اسد حیا الدین کا کہنا تھا قرضوں کے حوالے سے اعدادوشمار حساس ہیں ان کیمرہ بریفنگ کمیٹی کو دیں گے، عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے 124 منصوبوں کیلئے 22 ارب 37 کروڑ ڈالر سے زائد قرض کی رقم ہے،کورونا کے دوران اقتصادی امور ڈویژن نے 4.1 ارب ڈالر قرض ارینج کیا،اس میں سے 65 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ویکسین کی خریداری کی ۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے اگلا اجلاس ان کیمرہ طلب کر لیا جس میں وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ ادارے بھی شریک ہو نگے ۔

تبصرے بند ہیں.