پاکستان نے آئی ایم ایف کو تعاون کی مکمل یقین دہانی کرادی

29

اسلام آباد : پاکستان نے آئی ایم ایف کو ” ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی ” مکمل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف کو  گردشی قرضوں کے لئے بھی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہا ر کردیا گیا ۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اس کے جاری ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے لیے پاکستان کے عزم کی یقین دہانی کروادی  ہے اور آرٹیکل 4 کی مشاورت کے ساتھ ساتھ آئندہ جائزہ کامیابی سے مکمل کرنے کی امید ظاہر کی۔

وزیرخزانہ نے  آئی ایم ایف کے سبکدوش اور نامزد ہونے والے مقامی نمائندوں سے ملاقات کے دوران  کہا کہ حکومت رواں سال یکم اکتوبر کو تمباکو کی مصنوعات کے لیے ’ٹریک اینڈ ٹریس‘ سسٹم کا باقاعدہ آغاز کرے گی جو ای ایف ایف پروگرام کی شرائط میں سے ایک ہے۔

اس حوالے سے جاری سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف ٹیم کو بتایا کہ گردشی قرض کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاور سیکٹر میں اصلاحات کی جارہی ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ای ایف ایف کے چھٹے جائزے کے لیے مذاکرات اور آرٹیکل 4 کی مشاورت 4 اکتوبر سے شروع ہو گی۔

اس کے بعد شوکت ترین واشنگٹن کے طے شدہ دورے میں آئی ایم ایف انتظامیہ سے ملاقاتیں اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں 11 سے 17 اکتوبر تک شرکت کریں گے۔

وزیر خزانہ نے ملاقات میں آئی ایم ایف کی نئے نامزد ریزیڈنٹ نمائندہ  ایسٹر پیریز روئز کو مبارکباد دی اور نومبر میں شروع ہونے والی ان کی آئندہ اسائنمنٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

تبصرے بند ہیں.