اقتدار باقی ہے جواز نہیں

88

ایک بادشاہ اپنی بے حسی، نالائقی، نا اہلی، بدعنوانی، مخالفین کی سرکوبی، بے راہ روی، خود ستائشی، خود نمائی، مفت بھری، منافقت، تکبر، جھوٹ، ظلم اور اپنے بدمست حواریوں کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ اس کا ظلم اور اقتدار ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ایک دن صبح اٹھا تو اس کے تکیے پر خنجر پیوست تھا اور ساتھ ایک رقعہ بھی۔ جس پر لکھا تھا کہ اگر تم ا پنی غیر قانونی حرکات، ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے تو تکیے میں پیوست ہونے والا خنجر کہیں اور بھی (تہذیب اجازت نہیں دیتی) پیوست ہو سکتا تھا مگر بادشاہ اور اس کے درباریوں نے عبرت اور اصلاح حاصل کرنے کے بجائے اپنی معمول کی روش کو اور شدید کر دیا یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ اگلے دن خبر پڑھی اور یوٹیوب چینلز پر بھی دیکھی کہ سابقہ وزیراعظم (3 مرتبہ کے) نواز شریف کو ان کی شناختی دستاویز پر کورونا ویکسین لگا دی گئی۔ لندن میں بیٹھے میاں نواز شریف کیسے صاحب کرامت واقع ہوئے کہ لندن میں موجود اور ویکسین لاہور میں ہو گئی۔ اس کرامت کے جرم میں ایم ایس، میڈیکل آفیسر، کلرک، نرس، وارڈ بوائے، چوکیدار اور دیگران کے خلاف کارروائی کی گئی، معطلیاں ہو گئیں، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی کہ یہ کرامت کیسے ہو گئی۔ لوگوں کے تبادلے بھی ہوئے۔ تبادلوں سے یاد آیا صوبہ میں 8 آئی جی، تقریباً 6 چیف سیکرٹری، متعدد ہوم سیکرٹری اور نہ جانے کتنے دیگر افسران کے تبادلے آئے دن کا کام ہے۔ ایف بی آر بھی تبادلوں کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا بیورو کریسی کے لوگ سمجھتے ہیں جو رات تبادلے میں ہے وہ قیام نہیں آسکتی۔ 
حیرت کی بات ہے کہ بیورو کریسی کے کشتے کے پشتے لگ گئے مگر کوئی ایک وزیر اس بات کی شہرت نہیں رکھتا کہ وہ کوئی فائل پڑھ کر اس میں دو فقرے کاٹ سکے، اضافہ کر سکے، درستی کر سکے حتیٰ کہ کامہ، سوالیہ نشان یا کوئی دیگر علامت ہی درست جگہ پر کر سکے۔ یہ روزانہ کے تبادلے بیورو کریسی کے لیے ان کی زندگی کا خاصا بن کر رہ گیا۔ 
حیرت یہ ہے کہ جو سب تبادلوں اور کام میں عدم تسلسل کا سبب ہے اس کا تبادلہ حکومت نے اپنی کھال قرار دے رکھا ہے جیسے پرویز مشرف نے کہا تھا کہ میری وردی میری کھال ہے۔ اس طرح لگتا ہے کہ بزدار حکومت یعنی بزدار وفاقی حکومت یا حکومتی اتحاد 
کی کھال ہے اگر یہ اتری تو جسم بکھر جائے گا اور کئی ناسور ننگے بھی ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ بات بھی عام ہے کہ موجودہ حکومت میں بیورو کریسی یا کسی بھی جگہ اگر کسی کا نذرانہ پیش کر کے کام نہیں ہوا تو وہ کسی دور میں بھی نہیں ہو سکتا۔ 
دوسری طرف آج کل وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر زیر بحث ہے۔ کچھ اور ہو نہ ہو عمران خان زیر بحث رہنے کا فن جانتے ہیں اور یہ فن حقائق کے برعکس اور دور رہ کر گفتار کرنا ہی ہے۔ رہی بات کابینہ کی تو ان کا انداز گفتگو دو ہاتھ آگے نہ ہو تو وزارت کا جیسے معاہدہ ہی نہ ٹوٹ جائے۔ کورس کی صورت میں راگ الاپتے ہیں جو صرف اپوزیشن کے خلاف الزامات پر مبنی بے ربط شاعری پر مبنی ہوتا ہے۔ فواد چودھری کہتا ہے کہ عمران موٹروے نہیں اس میں کرپشن کے خلاف تھے۔ یہ ذرا عمران خان کی تقریریں سن لیں۔ نواز شریف نے موٹر وے میں کسی توسیع کا افتتاح کیا تو دھرنے میں۔ عمران خان کہتے ہیں ”اوئے سڑکیں نہیں قوم بناتے ہیں“ تب تو سڑکوں میں کرپشن کی بات نہیں کی تھی۔ تقریر کا یہ فقرہ میں کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ وہ لمحہ تھا جب میں نے بھی جھوٹ کے انبار میں سے اس فقرے کو سچ سمجھ لیا اور قوم بنانے کے دعوے پر امید باندھی کہ شاید یہ ایسا کر دکھائے مگر قومی ہم آہنگی کو جس طرح عمران خان نے زمین بوس کیا۔ بلڈوز اور برباد کیا اب دہائیاں لگیں گی بلکہ شاید ہم آہنگی ہی وطنِ عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے جبکہ خود کاغذی دعوے کیے گئے کہ ہم نے ن لیگ سے زیادہ سڑکیں بنائیں دوسری جانب انکوائریاں، تحقیقات سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر نواز شریف کے لندن فلیٹس کہاں سے آئے معلوم نہ ہو سکا، وزراء کی حکمت و دانش آج موٹروے سے کرپشن پر منتج ہوئی۔ مگر نواز شریف کی پاکستان میں جو جائیداد اور دولت وہ کہاں گئی جو مشرف دور میں ہتھیا لی گئی۔ گوگل کھولیں اور اتفاق فونڈری کا دورہ کرتے ہوئے یحییٰ خان کو دیکھ لیں نواز شریف بھی پیچھے کھڑے ہیں اتفاق فونڈری قومیائی گئی یہ حوالہ صرف اس لیے دیا کہ نئی نسل سمجھتی ہے۔ میاں نواز شریف نے سب کچھ اقتدار میں آنے کے بعد بنایا حالانکہ واحد سیاست دان ہیں جو دولت کے بل بوتے پر سیاست میں آئے اور لانے والے بھی عمران خان کو لانے والے ہی تھے۔ 
جب نواز شریف نے شوکت خانم کے لیے 50 کروڑ روپے دیئے تھے تب دولت کہاں سے آئی کا سوال کرنا تھا جب شوکت خانم کے لیے زمین الاٹ کی تھی تب بادشاہی اختیارات کو چیلنج کرنا تھا۔ حکومت اور اس کے وزراء جو سکرپٹ پڑھتے ہیں، اس کا عوام کے مصائب سے کوئی تعلق نہیں البتہ حکومت کا ایک کارنامہ ضرور ہے کہ اس نے نواز شریف کے سوال ”مجھے کیوں نکالا؟“ کا جواب ان کو چوتھی بار وزیراعظم کی مسند کے قریب کر کے دے دیا۔ موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے کہ اس نے نوازشر یف کی مبہم مقبولیت کو واضح کر دیا۔ ان کے خاندان میں موروثی سیاست ہی نہیں اقتدار کی راہ ہموار کی۔ حد یہ ہے کہ بلاول بھٹو قوم کی دوسری چوائس بن گئے بلکہ اقتدار کے قریب ہو گئے۔ عمران خان جو کہتے ہیں ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں وہ پوری قوم جانتی ہے کہ کن کے پاس دوسری چوائس نہیں تھی مگر وہ چوائس میں آزاد، خود مختار اور مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہیں جہاں تک قوم کی چوائس کا تعلق ہے تو عبوری حکومت میں شاید پی ٹی آئی ویسے ہی عملی طور پر تحلیل ہو چکی ہو اس میں شامل عناصر واپس اپنی اپنی چھتری پر جا کر بیٹھ جائیں۔ 
اب دعویٰ ہے کہ بڑی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ پاکستان اب کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہو گا اور اس بات کا علم نہیں کہ اب یہ جنگ افغانستان نہیں بلکہ پاکستان میں جاری ہے۔ سیاسی فیصلے زرداری اور نواز شریف دور میں بھی ہوتے تھے مگر اب تو ہم بیرونی قوتوں کے مزید آلہ کار بن گئے خان صاحب حالیہ تقریر کے کچھ حصے میں وہ کنٹینر پر ہی کھڑے نظر آئے، طالبان کے دعویدار نظر آئے اس تقریر میں دراصل آئندہ انتخابات کے لیے نعرے گھڑے جا رہے تھے۔ سیاسی سکورنگ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ یہ جانے بغیر کہ قوم کا کیا نقصان کر دیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ ”دو پارٹیوں نے ملک کا کچومر نکال دیا وہ 20 سال پر محیط دو مارشل لاؤں کا وقفہ کیوں بھول جاتے ہیں۔ چیئرمین نیب کی بہترین کارکردگی ہے تو پھر سیف الرحمن کے بعد متنازع ترین کارکردگی کیا ہو گی؟ چیئرمین نیب کی من پسند تعیناتی یا توسیع، الیکشن کمیشن سے پھڈا، EVM کے استعمال کی ضد، بیرون ملک پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا ہی اب طوالتِ اقتدار کے وسیلے رہ گئے۔ میرا خیال ہے حکومت اس کو احساس ہو گیا کہ اقتدار باقی ہے جواز باقی نہیں رہا۔ 

تبصرے بند ہیں.