اب حوصلہ کریں!

134

گزشتہ کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا”دوشنبے میں منعقدہ ایک بزنس کانفرنس میں میرے دوست وزیراعظم خان صاحب ایک تنقیدی شعر کا سامنا نہیں کرسکے“…… یقیناً مقرر کو بھی سوچنا چاہیے تھا مہمان کو گھر بُلا کر بے عزت نہیں کیا جاتا، یہ بدترین بداخلاقی ہوتی ہے، وزیراعظم پر تنقید کرنے کا یہ مناسب موقع یا فورم نہیں تھا، مگر وزیراعظم پاکستان کو اِس موقع پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ اُن کے منصب کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی جائز تنقید کو وہ نہ صرف برداشت کریں بلکہ انتہائی مہذب انداز میں اُس کا جواب بھی دیں، وزیراعظم کا منصب ملک کا سب سے بڑا منصب ہوتا ہے۔ وزیراعظم کا ظرف اُس منصب کے مطابق ہونا چاہیے، وزیراعظم کی موجودگی میں ایک تنقیدی شعر پڑھنے والے نے کوئی ایسے غیر مہذب الفاظ استعمال نہیں کیے تھے کہ وزیراعظم اُسے ٹوک دیتے۔ تنقیدی شعر پڑھنے والا اُس عمومی تاثر کی بات کررہا تھا جو وزیراعظم کے بارے میں پاکستان سے نکل کر دنیا بھر میں اب پھیلتا جارہا ہے ……اِس میں کیا شک ہے وزیراعظم جب کنٹینر پرچڑھے ہوئے تھے، بلکہ ہم بھی اُن کے ساتھ چڑھے ہوئے تھے اُن دنوں عوام کو جو سہانے سپنے وہ دیکھارہے تھے ایک بھی اُن میں ابھی تک پورا نہیں ہوسکا، چلیں ہم مان لیتے ہیں تین برسوں کا عرصہ ستر برسوں کی گندگی اُٹھانے کے لیے، یا نظام کو درست کرنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے، مگر تین برسوں میں لوگوں کو اتنا تو احساس ہو جاتا اِس حکومت کی سمت بالکل درست ہے اور مزید پانچ برس اُسے مِل گئے ملک ایسی ڈگر پر چل نکلے گا جہاں بقول کنٹینر والے خان صاحب سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی اور دوسرے ممالک سے لوگ یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے……دوشنبے کی بزنس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کو پوری دنیا دیکھ رہی تھی، بجائے اِس کے بے ضررسے ایک تنقیدی شعر اور اُس سے جُڑے ہوئے ایک دوجملوں پر فوراً بیزاری کا وہ اظہار فرما دیتے اُنہیں مسکرا کر پوری بات سننی چاہیے تھی، بعد میں بڑے حوصلے اور تحمل سے اُس کا جواب دینا چاہیے تھا کہ اُنہوں نے پاکستان کو مشکلات خصوصاً مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے کیا کوششیں کیں، اُنہیں بتانا چاہیے تھا پاکستان میں کیسے کیسے پریشرز کا اُنہیں سامنا کرنا پڑرہا ہے، کیسے کیسے مافیاز سے لڑنا پڑ رہا ہے۔اور وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ابھی تک وہ سہانے سپنے پورے نہیں ہوسکے جو کنٹینرپرچڑھ کر عوام خصوصاً بیرونی دنیا کو اُنہوں نے دکھائے تھے، ……وزیراعظم عمران خان چوبیس برسوں کی سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے ہیں، اُن کے حوالے سے یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے کہ اُن کا رویہ ایک ڈکٹیٹرسے بھی بدتر ہے، بدقسمتی سے اُن کے بارے میں یہ تاثر بڑی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے، اِس وقت میڈیا پر کچھ ایسی پابندیاں لگائی جارہی ہیں، اور مزید پابندیوں کا سوچا جارہا ہے جن کا تصور فوجی حکمرانوں یعنی بدترین ڈکٹیٹروں نے بھی نہیں کیاتھا، …… سیاسی حکمرانوں میں قوت برداشت ہونی چاہیے، یہ ایک حقیقت ہے ہمارے کچھ سیاسی حکمرانوں کے مقابلے میں فوجی حکمرانوں میں قوت برداشت زیادہ تھی، یہ وصف کسی حکمران میں نہ ہو وہ کبھی اچھا حکمران ثابت نہیں ہوسکتا، اچھی حکمرانی کا یہ ایک لازمی جزو ہے، …… یہ وقت بھی آنا تھا ایک سیاسی حکمران کو ایک ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ مشرف کی قوتِ برداشت کی ہمیں مثالیں دینا پڑیں گی۔ ہمارے میڈیا نے اُن کے اقتدار کے آخری دِنوں میں اُن کی بہت مٹی پلید کی، ظاہر ہے معاشرے کا یہی چلن ہے جانے والوں کو ہرکوئی بُرا کہتا ہے، اب میڈیا کو اُن کی یاد ضرور ستاتی ہوگی، خصوصاً اِس حوالے سے ضرورستاتی ہوگی اپنے دور میں ٹی وی چینلز کے اُس نے جال بچھا دیئے تھے اِس تصور کی پروا کیے بغیر کہ بعد میں یہی چینلز اُن کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں، ……میں اِس کی تفصیل لکھوں یہ طویل داستان کسی اور طرف نکل جائے گی…… فی الحال میں دو  تین واقعات اپنے دوست وزیراعظم خان صاحب کو سناناچاہتا ہوں، ممکن ہے یہ دو تین واقعات سننے کے بعد اُن میں تھوڑی سی قوت برداشت پیدا ہو جائے اور وہ میڈیا کو رگڑا لگانے کے اُس تصور سے چھٹکارا حاصل کرلیں جو آج کل اُن کی ضد بنا ہوا ہے،…… ایک واقعہ تو سب کو یاد ہوگا۔ کراچی میں ایک یوتھ کانفرنس ہوئی تھی، پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اُس میں شرکت کی۔ اِس یوتھ کانفرنس کے مہمان خصوصی اُس وقت کے آرمی چیف وصدر پاکستان جنرل مشرف تھے، اُنہوں نے نوجوانوں کے خیالات ومسائل سنے، یہ چارپانچ گھنٹے کی ایک طویل نشست تھی، …… جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سید عدنان کاکا خیل اپنی باری پر اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوئے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اپنے سامنے بیٹھے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل مشرف کو وہ کھری کھری سنادیں گے، اُنہوں نے بڑے جارحانہ انداز میں تنقید کی۔ یہاں تک کہہ دیا ”تم جنرل ہو تمہارا کام سرحدوں کی حفاظت ہے تمہیں اقتدار کی راہ کس نے دکھائی ہے؟“…… بات اُن کی بالکل درست تھی، مگر کسی آرمی چیف کی موجودگی میں اُس کے منہ پر اتنی سخت بات کہنے کا حوصلہ پہلی بار ہم دیکھ رہے تھے، پورے ہال میں سناٹاچھا گیا، پھر کچھ تالیاں بھی بجیں۔ حاضرین کا خیال تھاابھی کمانڈوز کا ایک ”جتھا“ ہال میں داخل ہوگا عدنان کاکا خیل کو اٹھا کر لے جائے گا، اُس کے بعد اُس کا پتہ بھی نہیں چلے گا وہ زندہ بھی ہے یا نہیں؟ اگر یہ نہ ہوا تو کم ازکم اتنا تو ضرور ہوگا اُنہیں بات کرنے سے روک دیاجائے گا۔ آرمی چیف جنرل مشرف اُنہیں بیچ میں ٹوک دیں گے، اور اُن کا مائیک بند کردیا جائے گا، خلاف توقع  ایسا کچھ نہیں ہوا، عدنان کاکا خیل نے اپنی بات مکمل کی۔ اُنہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی مثالیں دیں جو ظاہر ہے جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف تھیں۔ جنرل مشرف مسلسل مسکراتے رہے، اِس دوران ناگواری یا غم و غصے کاہلکا سا تاثر بھی اُن پر چہرے پر نہیں اُبھرا۔ تقریب کمپیئر سید مشاہد حسین بار بار حیرانی سے اُن کی طرف دیکھ رہے تھے، بلکہ پریشانی سے دیکھ رہے تھے، عدنان کاکا خیل جب بیٹھ گئے جنرل مشرف نے اُن کے مؤقف یا تفصیلی گفتگو کا جواب کچھ اِس انداز میں دیاجیسے کوئی میجر یا کرنل کسی بات کی آرمی چیف کو وضاحت دے رہا ہو۔ اِس یوتھ کانفرنس سے اگلے روز میں نے کراچی ایک دوست کو فون کرکے عدنان کاکا خیل کا نمبر لیا اور کئی روز تک اُن کی خیریت معلوم کرتا رہا ……(جاری ہے)

تبصرے بند ہیں.