وفاقی وزراء بنام چیف الیکشن کمشنر……!

159

چیف الیکشن کمشنر جناب سکندر سلطان راجا کے بارے میں وفاقی وزراء چودھری فواد حسین اور جناب شبلی فراز کے پریس کانفرنس میں دیئے گئے بیانات پر مبنی اخبارات میں چھپی شہ سرخیوں کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس بارے میں نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز کا کانوں میں رس گھولنا اور آنکھوں کو تراوٹ بخشنا ختم ہوا تھا کہ وفاقی کابینہ کے دو بزرگ ارکان مشیر پارلیمانی اُمور جناب بابر اعوان اور وزیر ریلوے جناب اعظم سواتی بھی ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کو دعوت مبازرت دینے کے لیے خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں۔ وزیر ریلوے اعظم سواتی وہی شخصیت ہیں جنہوں نے پچھلے ہی ہفتے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی اُمور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی تھی اورالیکشن کمیشن پر یہ الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم (الیکڑانک ووٹنگ مشین) کے معاملے میں پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے کا باعث ہے۔ جہنم میں جائیں، ایسے اداروں کو آگ لگا دیں۔ 
الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے اعلیٰ حکومتی ارکان کی ناراضی اور خفگی اسی پر ختم نہیں ہوتی۔ مشیر پارلیمانی اُمور جناب بابر اعوان ہوں یا وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب شبلی فراز ہوں ہر دو انتخابی اصلاحات بل اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں الیکشن کمیشن کی طرف سے سامنے آئے اعتراضات اور تحفظات کے حوالے سے الیکشن کمیشن بالخصوص چیف الیکشن کمشنر سے کھل کر ناراضی کا اظہار کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح جناب فواد حسین چودھری الیکشن کمیشن سے کیونکر خوش ہو سکتے ہیں جب الیکشن کمیشن نے انہیں ان کے اعتراضات اور الیکشن کمیشن کے بارے میں دیئے گئے سخت ریمارکس پر جواب دینے کے لیے نوٹس دے رکھا ہے۔ فواد چودھری نے اگر چہ الیکشن کمیشن کے نوٹس کے جواب میں یہ کہہ کر اپنے حوالے سے معاملے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ حکومتی ترجمان کی حیثیت سے کہا ہے اور ان کے یہ خیالات حکومتی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔ فواد چودھری ہوں یا اعظم سواتی وہ الیکشن کمیشن کے نوٹسز کا کیا جواب دیتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس حوالے سے کیا کارروائی کرتا ہے یہ جلد ہی سامنے آجائے گا تاہم فی الحال صرف فواد چودھری اور اعظم سواتی ہی الیکشن کمیشن پر دھاوا نہیں بولے ہوئے ہیں جناب شبلی فراز اور محترم بابر اعوان بھی الیکشن کمیشن کو بخشنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ شاید سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو ہدف ِ تنقید بنانے اور چیف الیکشن کمشنر پر طعن و تشنیع کے تیر برسانے کے لیے اس سے اچھا موقع نہ مل سکے۔ 
مشیر پارلیمانی اُمور جناب بابر اعوان کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ ادب و احترام کے منافی کوئی بات نہ ہونے پائے کہ ان سے میرا بڑا نازک تعلق ہے کہ میرا گاؤں ان کا سسرالی گاؤں اور وہ اس کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ بڑی اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں۔ میری ذاتی طور پر ان سے کم ہی ملاقاتیں ہوئی ہونگی لیکن بلاشبہ وہ باہمی ادب و احترام اور رشتوں کا پاس کرنے والی بامروت اور وضع دار شخصیت ہیں۔ ان کے برادر نسبتی ساجد ملک جو میرے ہم نام ہیں بلاشبہ مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں کہ وہ ہمیشہ سے میرا  بڑے بھائیوں کی طرح ادب و احترام کرتے آئے ہیں۔ جناب بابر اعوان تحریک انصاف میں شامل ہونے سے قبل پاکستا ن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینٹر اور یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ میں وفاقی وزیر قانون کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے ان کے اختلافات پیدا ہوئے تو انہوں نے تحریک انصاف میں شامل ہونے سے قبل پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ملی سینٹ کی نشست سے استعفیٰ دینا ضروری سمجھا۔ اگست 2018میں عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو عام خیال یہی تھا کہ وہ جناب بابر اعوان کو سینٹ کی کسی نشست سے کامیاب کرا کر وفاقی کابینہ میں شامل کر لینگے۔ لیکن افسوس کہ انہیں اس کے لیے کافی عرصہ انتظار ہی نہ کرنا پڑا بلکہ بنی گالہ کی زیارت گاہ کے پھیرے بھی لگانا پڑے۔ سچی بات ہے کہ بابر اعوان وزیر اعظم کے پارلیمانی امور کے مشیر کے عہدے پر فائز ضرور ہیں لیکن ان کی روایتی گھن گرج اور قانونی اور آئینی مہارت کے اس طرح کے مظاہر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی سیاسی میدان میں انہوں نے اپنے مخالفین کے لتے لینے کے اس طرح کے جلوے دکھائے ہیں جن کے لیے وہ روایتی طور پر مشہور رہے ہیں۔ مجھے کبھی کبھی گمان گزرتا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں شاید مس فٹ ہیں۔ خیر بات جو بھی ہو واپس الیکشن کمیشن سے ان کے اختلافات اور چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں ان کے تحفظا ت کی طرف آتے ہیں۔ 
یہ درست ہے تحریک انصاف کی حکومت انتخابی اصلاحات کے بارے میں شروع سے مصررہی ہے لیکن اس کے لیے اپوزیشن کی مشاورت سے قانون سازی کے بجائے وہ اپنی مرضی کے انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری پر اڑی چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 10جون کو حکومت نے قومی اسمبلی سے اپنی 
مرضی کا  انتخابی اصلاحات کا بل پاس کرالیا۔یہ بل مشیر پارلیمانی اُمور جناب بابر اعوان نے تیارکیا تھا اور اس میں کئی شقیں آئین کے متصادم تھیں۔ حلقہ بندیوں کا اور ووٹرز کے تعین کا اختیار الیکشن کمیشن سے لیکر نادرا کو دے دیا گیا۔ چنانچہ یہ بل سامنے آیا تو چیف الیکشن کمشنر نے اس پر 28اعتراضات اُٹھا دیے اور الیکشن کمیشن کی نشان دہی پر یہ بل سینٹ میں روک لیا گیا اور حکومت اس بل کی کئی غیر آئینی شقیں واپس لینے پر مجبور ہوگئی۔ اب حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرانا چاہتی ہے۔ حکومت اس میں کامیاب بھی ہو جائے گی لیکن حکومت با لخصوص مشیر پارلیمانی اُمور جناب بابر اعوان کی چیف الیکشن کمشنر سے ناراضی بڑھ چکی ہے۔ اس طرح بابر اعوان جناب اعظم سواتی کے ہمراہ چیف الیکشن کمشنر پرخوب گرج برسے ہیں اور شاید وہ اپنے آپ کو حق بجانب بھی سمجھتے ہیں۔ 
جناب اعظم سواتی جیسی شخصیت کسی بھی حکومت یا سیاسی جماعت کے لیے سہولیات مہیا کرنے کے بجائے مشکلات پیدا کرنے کا ہی سبب بنتی ہیں۔ آں جناب  نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمارنی اُمور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں پیسے لینے اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے کو آگ لگا دینے کی جو ہرزہ سرائی کی تھی وہ کچھ کم نہیں تھی لیکن اب مشیر پارلیمانی اُمور کے ساتھ پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں انہوں نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کے کیا کہنے۔آنجناب کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کڑوا گھونٹ تھا،راز جانتا ہوں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان بڑے میاں کی گھڑی اور چھوٹے میاں کی چھڑی بن گیا۔ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کی زبان میں بات کر رہے ہیں اور ہماری حکومت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کریں گے روک سکو تو روک لو۔ اندازہ کیجئے کہ ملک کے ایک بڑے آئینی ادار ے اور ان کے سربراہ کے بارے میں یہ اندازِ گفتگو اور یہ دھمکیاں کیا کسی بھی صورت میں جائز سمجھی جا سکتی ہیں؟ یقینا نہیں،لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہوتی۔ منگل کو منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جارحانہ رویہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کو یقینا یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے فیصلے کرے لیکن اسے دیکھنا چاہیے کہ ملک کے آئینی اداروں کو تاراج کرنے سے اسے کیا حاصل ہوگا؟۔ اب تک اس نے الیکشن کمیشن کے بارے میں جو موقف اختیار کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو جس طرح کی دھمکیاں دے رہی ہے کیا کسی آئین و قانون میں اس کی اجازت ہے؟بالکل نہیں۔اس ضمن میں جناب فواد چودھری کے تازہ ارشاد کا بھی حوالہ دیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے ممبران سے کہا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر نظر ثانی (مزاحمت) کریں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور وہ ملک و قوم کو درپیش مختلف مسائل و معاملات کا آئین و قانون میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق حل ڈھونڈنے کے بجائے ہر صورت میں ٹکراؤ پیدا کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.