خاص لوگوں کی چوری معاف کرنا این آر او ہے، وزیراعظم عمران خان

99

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ طاقت ور کو کہہ رہے ہیں کہ تم بھی حکومت کو جوابدہ ہو لیکن اس پر سب گزشتہ 3 سال سے باہر بیٹھ کر شور مچار ہے ہیں اور خاص لوگوں کی چوری معاف کرنا این آر او ہے جبکہ بھیگ مانگ کر امداد لے کر کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتی

ڈیجیٹل میڈیا ڈویلپمنٹ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں اور کبھی بھی خود کو کمتر مت سمجھیں جبکہ بڑا انسان بڑے خواب دیکھتا ہے اس کیلئے محنت کرتا ہے اور بڑی سوچ رکھنے والا ہی بڑا آدمی بنتا ہے جبکہ محنت کرنے والا شخص ہمیشہ آگے نکل جاتا ہے اس لئے بڑےاہداف کےحصول کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی معاشرے میں احساس ہوتا ہے اور جانوروں کے معاشرے میں کمزور بھوکا مر جاتا ہے جبکہ ہم ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی طرف نکل گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ہر خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنس موجود ہے اور ہیلتھ انشورنس غریب گھرانے کیلئے بہت بڑی نعمت ہے جبکہ امریکہ میں بھی اس طرح کی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اور ہماری حکومت نے سڑکوں پر سونے والوں کیلئے ہم نے پناہ گاہیں بنائی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ طاقت ور کو کہہ رہے ہیں کہ تم بھی حکومت کو جوابدہ ہو لیکن اس پر سب گزشتہ 3 سال سے باہر بیٹھ کر شور مچار ہے ہیں اور خاص لوگوں کی چوری معاف کرنا این آر او ہے جبکہ بھیگ مانگ کر امداد لے کر کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتی اگر دنیا سے عزت کرانی ہے تو سب سے پہلے اپنی عزت کرنا ہوتی ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی جریدے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بنیادی انسانی سہولیات کا فقدان ہے، امریکا اور پاکستان کو مل کر افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکا کی افغانستان میں ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور طالبان امن کےلیے امریکہ کے شراکت دار ہو سکتے ہیں جبکہ افغانستان میں استحکام اورانسانی بحران کے خاتمے کے لیے مدد دینا ہو گی اور امریکا انسانی بحران سے بچنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ پاکستان اور امریکا دونوں افغانستان سے دہشتگردی کاخاتمہ چاہتے ہیں اور افغانستان میں دہشتگرد گروپس کو غیر موثر کرنے کے لیے ملکرکام کرنا ہو گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے لیے امریکا اور علاقے کی تمام طاقتوں کا تعاون ضروری ہے اور امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں عبوری دورمشکل ہے جبکہ پورے افغانستان پرطالبان کے کنٹرول کے بعد امن کی امید ہے اور طالبان نے سی پیک منصوبوں کا خیر مقدم بھی کیا ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تجارت اور ترقیاتی منصوبوں کے امکانات پیدا ہوں گے اور سابق حکومتوں کی ناکامیوں سے افغانستان بحران کا شکار ہے جس کی بحالی کیلئے فوری کام کرنا ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.