پنجاب حکومت کامقدمہ

152

پنجاب حکومت کے ترجمان، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کہہ رہے تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وہ کام کر رہے ہیں جو نہ پنجاب میں شہباز شریف کرسکے نہ ہی سندھ میں مراد علی شاہ کر پا رہے ہیں۔ ان کا شکوہ تھا کہ میڈیا میں ان کے کاموں کا ذکر کم ہوتا ہے جیسے ان کی حکومت نے صوبے میں اسی لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دے دئیے اور دسمبر تک ہر امیر، غریب کی جیب میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو ساڑھے سات لاکھ روپے والاکارڈ ہو گا جس سے وہ اپنا علاج کرواسکے گا۔ وہ ٹیکس کلیکشن کی اہمیت بتا تے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تین برسوں میں ٹیکس جمع کرنے کا جوٹارگٹ مقرر کیا،اس سے بڑھ کر رہے۔ وہ گندم کی خریداری کے حوالے سے بھی کہہ رہے تھے کہ تینوں برس ٹارگٹ پورا کرتے ہوئے ریکارڈ خریداری کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکومت دس برسوں میں ایک اکنامک زون بنا سکی جبکہ ان کی حکومت تین برسوں میں آٹھ بنا چکی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گذشتہ دس برسوں میں سیمنٹ کی کارخانوں کا ایک لائسنس بھی جاری نہیں کیا گیا تاکہ سابق حکومت کے ایک پیارے (وہ نام لے رہے تھے) سرمایہ دار کی اجارہ داری رہے مگر وہ آٹھ نئے لائسنس دے چکے اور ایک ہزار ارب روپوں کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس ستر سے اسی میگا پراجیکٹس کی لسٹ موجود ہے جن کا کریڈٹ عثمان بزدار کو جاتا ہے کہ وہ بولتے نہیں صرف کام کرتے ہیں۔
اس ملاقات کا اہتمام پنجاب حکومت کی الیکٹرانک میڈیا کمیٹی نے کیا تھا جس میں ثانیہ کامران، ثانیہ کھیڑا اور عمرصدیقی شامل ہیں۔ اس بریفنگ میں شرکت کی دعوت عمر صدیقی کی تھی جو اپنی پارٹی کا دفاع کرنے کے لئے وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں جہاں حکمران جماعت میں سے کوئی جانے کی ہمت نہیں کرتا۔ عمر صدیقی جیسے کمٹڈنوجوان ہی پی ٹی آئی کا بڑا اثاثہ ہیں۔ فیاض الحسن چوہان مزید بتا رہے تھے کہ انہوں نے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا کی صوبے کی سطح پر کمیٹیاں بنانے کے علاوہ ہزاروں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی کمیٹیوں میں شامل کر لیا ہے۔ انہوں نے ایک ریسرچ ونگ بھی بنا لیا ہے جوعثمان بزدار کے تین برسوں کے کاموں کا موازنہ شہباز شریف کے دس برس اور مراد علی شاہ کے اب والے تین برس سے کر رہا ہے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ عثمان بزدار واقعی سی ایم نمبر ون ہیں۔ میں بطور صحافی ہر پارٹی کا یہ حق سمجھتا ہوں کہ وہ نہ صرف میڈیا کے ذریعے اپنا موقف بیان کرے بلکہ پروپیگنڈہ بھی کر سکے مگر ہر وہ ادارہ جس کی پبلک ڈیلنگ ہو، اس کی کارکردگی خود اس کی تعریف یا برائی کرواتی ہے۔ وہ مسلم لیگ کی ازما زاہد بخاری کی طرف سے پنجاب حکومت کی آڈٹ رپورٹ پر 56ارب کی مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزام کے جواب میں کہہ رہے تھے کہ انہوں نے نواز لیگ کے دس برس کی آڈٹ رپورٹس نکلوا لی ہیں اورصوبائی وزیر کے مطابق سابق ادوار کے آڈٹ اعتراضات ساڑھے سترہ ہزار ارب کے رہے۔
فیاض الحسن چوہان نے گفتگو ختم کرتے ہی مجھے دعوت دی کہ میں سوال کروں مگر میں سوچ کر گیا تھا کہ میں نے سوال نہیں کرنا، صرف مسکراناہے۔  میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت سے کرنے والے سوال دو ہی ہیں، پہلا سوال مہنگائی بارے، دوسرا ایڈمنسٹریشن اور کرپشن بارے ہے۔ میں نے ایوان وزیراعلیٰ میں کرپشن کی ایسی کہانیاں کبھی نہیں سنیں جیسی ہمیں سابق پرنسپل سیکرٹری’ٹی کے‘ سے منسوب ملیں۔ جناب ارشاد احمد عارف کا سوا ل آٹے کی قیمت بارے تھا جس کاجواب تھا کہ جب عالمی سطح پر قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو پاکستان پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ فیاض الحسن چوہان بتا رہے تھے کہ مہنگائی کی وجہ کورونا ہے، وہ کنٹینر جو کورونا سے پہلے تین چار سو ڈالر ز میں آ جاتا تھا اب وہ نوہزار ڈالرز میں پہنچ رہا ہے۔ وہ پٹرول کی مہنگائی کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ گذشتہ برس ستمبر میں عالمی منڈی میں 40 ڈالر فی بیرل پٹرول کی قیمت تھی اور پاکستان میں 103 روپے لٹر فروخت ہو رہا تھا۔ اس ستمبرمیں عالمی قیمت 72سے 75ڈالر فی بیرل ہے مگر پاکستان کی قیمت سوا سو روپے تک ہے یعنی عالمی منڈی میں اضافہ ستر سے اسی فیصد ہے جبکہ پاکستان میں صرف انیس سے بیس فیصد۔ وہ اس کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو دے رہے تھے۔ کریڈٹ دینا ان کا حق ہے مگر کریڈٹ دیتے ہوئے ان کے جس فقرے پر مجھے اعتراض ہوا وہ یہ تھا کہ قوم کو عمران خان کی مورتیاں بنانی چاہئیں، ان کے مجسمے بنا کے ان کی پوجا کرنی چاہیئے، یہ فقرہ مجھے بہت اوور لگا۔
میں بطور سیاسی تجزیہ کار سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے دوست اپنی حکومت کا غیر ضروری طور پر دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان کی شہرت بھی مخالفین پر سخت تنقید کے حوالے سے ہے جبکہ اس وقت ضرورت حکومتی کارکردگی بتانے کی ہے۔ ابھی کنٹونمنٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی لاہور میں شکست کے بعد ایک من گھڑت رپورٹ میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ پی ٹی آئی نے لاہور کو ترقیاتی کاموں کو نظرانداز کیا حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت لاہور میں ہزاروں ارب روپوں کے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس ہیں شائد وہ ماضی میں کبھی ایک ساتھ نہ رہے ہوں جیسے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، ریورراوی فرنٹ اربن پراجیکٹ، فردوس مارکیٹ انڈر پاس کے بعد اب ریلوے اسٹیشن، کریم بلاک وحدت روڈ، چلڈرن ہسپتال فیروز پور روڈ، شاہکام بحریہ چوک وغیرہ پر فلائی اوورز اور انڈر پاسز، گنگارام میں ماں بچے کا اضافی ہسپتال اور ارفع کریم ٹاور کے ساتھ ایک اور جنرل ہسپتال وغیرہ وغیرہ مگر حکومتی ترجمانوں کی کی کیسٹ کسی دوسری جگہ پھنسی ہوئی ہے۔
سوال بہت سارے ہیں کہ اگر گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار ریکارڈ ہو رہی ہے تو پھرآٹا ریکارڈ مہنگا کیوں ہو گیا ہے۔لاہور اتنا گندا کیوں ہو گیا ہے۔ ہسپتالوں میں دوائیاں کیا نواز شریف کی وجہ سے نہیں مل رہیں اورڈاکٹر، ٹیچرز، سرکاری ملازمین سمیت ہر طبقہ حکومت سے ناراض کیوں ہے مگر مجھے ان تما م سوالوں کے حکومتی جواب پہلے سے معلوم ہیں۔ محترم طاہر ملک نے جناب فیاض الحسن چوہان کی طرف سے مہنگائی کی بہت ساری ٹیکنیکل وجوہات سننے کے بعد ایک منطقی بات کی کہ عوام کا تعلق صرف مہنگائی اور بے روزگار ی سے ہوتا ہے، آپ کی تمام باتیں درست ہوں گی مگر سوال یہ ہے کہ جن کو آپ چور اور ڈاکو کہتے تھے ان کے دور کی نسبت مہنگائی اور بے روزگاری کیوں زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایک عام شہری جب دوگنے نرخوں پر آٹا، چینی،گھی اور سبزیاں خریدتا ہے، بجلی کے بل ادا کرتا ہے تو وہ ساری سائنسیں اوروضاحتیں بھول جاتا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے اپنی والدہ کی قسم کھا کے ایک واقعہ سنایا جو انہیں وزیراعظم عمران خان نے سنایا تھا۔ جب جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل راشد اپنی ریٹائرمنٹ پروزیراعظم سے الوداعی ملاقات کے لئے آئے تو انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی مدت ختم ہونے پر آخری رسمی ملاقات میں رخصت ہوتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں علم نہیں کہ کون سی حکومت آ رہی ہے مگر جو بھی حکومت آئے گی وہ چھ ماہ میں فلاپ ہوجائے گی کیونکہ ان کی تشریح کے مطابق مسلم لیگ نون نے آخری دو برسوں میں ا تنی تباہی کی ہے کہ وہ سنبھالی نہیں جا سکے گی۔ فیاض الحسن چوہان کا یہ بھی موقف تھا کہ دس برسوں تک جتنی بھی مہنگائی ہو گی اس کی ذمے داری میثاق جمہوریت والی حکومتوں اور پارٹیوں پر ہی ہو گی۔

تبصرے بند ہیں.