افغانستان میں طالبان حکومت کو درپیش مشکلات

121

طالبان اگر چہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر امارات اسلامیہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،لیکن لگ ایسے رہا ہے کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے۔طالبان کو اس وقت افغانستان میں ایسے اقدامات کرنے ہیں کہ عالمی برادری کو بھی اطمیناں ہو، تاکہ وہ ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں جبکہ ایسے اقدامات بھی کرنے ہونگے کہ افغان عوام بھی سکھ کا سانس لیں۔طالبان کے لئے اس وقت اندرونی محاذ پر سب سے بڑا چیلنج معیشت اور تجارت کی بحالی ہے۔اس وقت افغانستان میں صورت حال یہ ہے کہ طالبان کے پاس نظام حکومت چلانے کے لئے پیسے نہیں۔سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔بعض سرکاری محکمے ایسے ہیں کہ وہاں ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنا فوری ضروری ہے۔ اگر ان کو ادائیگی نہیں کی گئی تو پھر ممکن ہے کہ سرکاری ملازمین کام پر آنا چھوڑ دیں۔ اگر تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سرکاری ملازمین نے کام کرنا چھوڑ دیا، یا احتجاج شروع کردیا توپھر اس کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔طالبان کو بھی اس مشکل کا احساس ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ سرکاری خزانے میں ان کے پاس اتنا پیسہ ضرور ہونا چاہئے کہ جس سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔امارات اسلامیہ کے قیام کے بعد طالبان نے سر کاری ملازمین سے اپیل کی تھی کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔بہت سے سرکاری ملازمین اس اپیل کی وجہ سے افغانستان میں رکے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر ان کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئی تو وہ بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس وقت طالبان حکومت کے لئے سب بڑی مشکل یہی ہے کہ ان کو ریاست کا نظام چلانے کے لئے پروفیشنل افراد کی ضرورت ہے لیکن اگر ان کو معاوضہ نہیں ملے گا تو یہی لوگ ملک سے باہر جانے میں دیر نہیں لگا ئیں گے جس کی وجہ سے طالبان حکومت کو ریاستی امور چلانے میں شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
طالبان حکومت کو اس وقت داخلی محاذ پر بھوک اور افلاس کا بھی سامنا ہے۔ دنیا نے اگر چہ افغانستان کے ساتھ تجارت اور ریاستی سطح پر تعلقات کا عندیہ دیا ہے لیکن زمینی حقائق اس کے بر عکس ہے۔دنیا کے تمام ممالک کے سفارت خانے کابل میں بند پڑے ہیں۔امریکا اور عالمی مالیاتی اداروں نے طالبان حکومت پر پابندیاں لگائی ہیں۔ ان کے اثاثے منجمد کئے ہیں۔جب تک افغانستان پر مالیاتی اداروں کی پابندیاں ہو نگی اس وقت تک دنیا ان کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتی۔ جب تک کابل میں دنیا کے مختلف ممالک اپنے سفارت خانوں کو کھول نہیں دیتے اس وقت تک افغانستان کے ساتھ تجارت ممکن نہیں۔اس وقت افغانستان میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت ہے۔اگر اس مسئلے پر قابو نہیں پایا گیا تو امکان یہی ہے کہ بڑے پیمانے پر لوگ افغانستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اگرچہ گزشتہ چالیس برسوں سے افغانستان کی عوام جنگ کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے رہے لیکن اگر اس دفعہ دنیا نے ان کا ساتھ نہیں دیا تو افغان عوام بھوک کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔افغانستان میں اشیائے خورونوش کی قلت پرانسانی ہمدردی کی بنیادپرقابو پانا ایک طرف اگرچہ دنیا کی ذمہ داری ہے تو دوسری طرف یہ طالبان کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس مشکل پر قابو پانے کے لئے کیا اقدامات کر تے ہیں۔ 
افغانستان میں اس وقت عوام کی اکثریت صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔کابل اور چند بڑے شہروں میں عوام کو صحت کی جو سہولیات میسر تھی اس میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ادویات کی قلت ہے۔ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ نرسنگ کا شعبہ تقریباً بند ہو نے کے قریب ہے۔خواتین ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے۔اگر چہ طالبان نے محکمہ صحت کے لئے عبوری وزیر کا اعلان بھی کردیا ہے،لیکن اس اہم شعبے میں جس تیزی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح سے کام نہیں ہو رہا ہے۔اگر طالبان کی حکومت عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو جاتی تو پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کابل میں صدارتی محل کے سامنے لوگ اپنے مریضوں کو ساتھ لے کر احتجاج شروع نہ کردیں۔ اس کا بھی امکان موجود ہے کہ پاک،افغان سرحد پر مریض اور ان کے تیماردار احتجاج کے لئے جمع ہوں۔
افغانستان میں اس وقت تاجر برادری غیر یقینی صورت حال سے گزر رہی ہے۔دنیا نے اگرچہ افغانستان کے ساتھ تجارت بند کر دی ہے لیکن جو ممالک جس میں چین اور روس شامل ہیں وہ بھی تجارتی محاذ پر طالبان حکومت کو اسی طرح سے سپورٹ نہیں کر رہے جس طرح سے ان حالات میں کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت جاری ہے،لیکن سرحدوں کی بندش کی وجہ سے اس میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ صورت حال میں پاک،افغان سرحد چوبیس گھنٹے کھلی رہے۔پاک،افغان سرحد کو دن رات تجارت کے لئے کھلا رکھنا دونوں ممالک کے تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ بھی ہے۔اگر پاک،افغان سرحد کو دن رات کھول دیا گیا تو پھر ممکن ہے کہ بڑی حد تک وہاں اشیائے خوردونوش کی قلت پر قابو پایا جاسکے اور ادویات کی کمی میں بھی مدد ملے گی،لیکن طالبان حکومت ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ نہیں دے رہی۔پاک،افغان سرحد کو اگر دن رات تجارت اور آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا تو اس سے طالبان کی حکومت افغانستان میں بہت سارے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔لیکن ابھی تک دونوں طرف سے سرحدوں کو تجارت اور آمدورفت کے لئے دن رات کھلا رکھنے پر گرم جوشی نظر نہیں آرہی ہے جس کا زیادہ نقصان طالبان حکومت کو ہو رہا ہے۔
طالبان حکومت کو افغانستان میں خواتین کے حوالے سے جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔ابھی تک وہاں خواتین کو کالج اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں۔ سرکاری ملازمت پیشہ خواتین بھی گھروں میں بیٹھی ہیں۔جتنی جلد طالبان حکومت اس بارے میں فیصلہ کر یگی اتنا ہی ان کے لئے فائدہ مند ہوگا۔رہی یہ بات کہ دنیا کب طالبان حکومت کو تسلیم کر لے گی تو اس کے لئے ابھی برسوں انتظار کرنا ہو گا اس لئے کہ امریکا یہ کڑوا گھونٹ اتنی آسانی سے پینے کے لئے تیار نہیں۔

تبصرے بند ہیں.