لاہور کے تین علمی و ادبی اداروں میں صحافیوں کی خدمات

110

پاکستان کے اکثر صحافیوں اور دانشوروں نے علمی، ادبی اور دینی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ لاہور کے تین اہم علمی، ادبی اور ثقافتی اداروں بزم اقبال، مجلس ترقی ادب اور ثقافت اسلامیہ کیلئے عظیم علمی، ادبی اور ثقافتی شعبے میں صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد نے کام کیا۔ ان میں محترم احمد ندیم قاسمی صاحب، ڈاکٹر پروفیسر تحسین فراقی اور محترم سراج منیر مرحوم نے شاندار خدمات انجام دیں۔ وطن عزیز کے نامور سینئر صحافی اور تحریک پاکستان کے کارکن ریاض احمد چودھری نے بزم اقبال کے زیر انتظام دس خوبصورت، دلکش کتب اور دو جرائد تیار کئے اور انہوں نے انگریزی زبان میں THE REAL FACE OF INDIA، اردو میں بھارت کا اصل چہرہ اورعلامہ اقبالؒ کے کلام و تصورات اور زندگی کے بارے میں کتاب حیات اقبالؒ تحریر کی ہے۔ 
راقم السطور یہاں اس کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہے کہ گزشتہ 35 برس سے بزم اقبالؒ کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ یہ ادارہ بالکل مردہ ہو چکا تھا۔ میں نے اس ادارے کو بڑی تگ و دو سے سرگرم اور فعال بنایا۔ اس ضمن میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے چار سیکرٹری صاحبان محترم عبداللہ خان سنبل صاحب (سابق کمشنر لاہور)، محترم بلال بٹ صاحب (سابق کمشنر ملتان اور ان دنوں کمرشل اتاشی ہانگ کانگ) محترم مومن آغاصاحب اور موجودہ سیکرٹری محترم راجہ جہانگیر انور صاحب کی سرپرستی کا بطور خاص ممنون ہوں جنہوں نے اپنے ادوار میں اس ادارے کی بحالی کیلئے فراخ دلی سے فنڈز فراہم کئے۔فعال، سرگرم اور دیانتدار موجودہ سیکرٹری محترم راجہ جہانگیر انور نے نہ صرف بزم اقبال کیلئے مطلوبہ فنڈز فراہم کئے بلکہ راقم السطور کی درخواست پر لیٹریری گرانٹ کی مد میں 15 لاکھ روپے فراہم کئے۔
 گزشتہ دو سال کے دوران کورونا وباء کے دوران راقم السطور نے بزم اقبالؒ کے زیر انتظام  
دس کتب شائع کی ہیں۔ جب کہ مجلس ترقی ادب، ثقافت اسلامیہ اور اقبال ؒ اکیڈمی پاکستان اس دوران میں کوئی جریدہ یا کوئی کتاب شائع نہ کر پائے۔ بزم اقبالؒ نے ان دو برسوں میں دس کتب شائع کی ہیں جنہیں میں نے مرتب کیا۔ میں نے ان کے مسودات کو دو، دو بارخود پڑھا۔ یہ دس کتب انتہائی دلکش اور خوبصورت انداز میں نہایت عمدہ کاغذ پر شائع کی گئی ہیں۔ان کتابوں میں اقبالؒ اور قرآن پاک کے حوالے سے ڈاکٹر اکرم چودھری صاحب کی انگریزی زبان میں کتاب قرآن پاک، ایک مسلسل معجزہ، دوسری ڈاکٹر جہانگیر تمیمی کی کتاب اقبالؒ صاحب حال، تیسری نورالہی انجم کی کتاب کلام اقبالؒ میں رزمیہ عناصر، چوتھی امتیاز تارڑ کی کتاب اقبال ؒکے شاہین،پانچویں نمبر پر ریاض احمد چودھری کی کتاب حیات اقبالؒ، چھٹے نمبر پر پروفیسر عبدالقیوم کی کتاب آئینہ اسلام، ساتویں نمبر پر پروفیسر عبدالقیوم کی کتاب سیرت رحمت عالمؐ اور آٹھویں نمبر پر دس سے بارہ سال کے بچوں کیلئے پروفیسر عبدالقیوم کاکتابچہ ہمارے رسولؒ شائع ہوئے۔ نویں اور دسویں نمبر پر ادارہ نے دو جریدے”اقبال“ؒ شائع کیے۔ آخر الذکر دونوں کتب اور کتابچہ دو، دو ہزار کی تعداد میں شائع ہوا۔ راقم السطور یہاں پر یہ ذکرکرنا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ پروفیسر عبدالقیوم نے 26 جلدوں پر مشتمل اردو زبان میں انسائیکلوپیڈیا اسلام تیا ر کیا جو پنجاب یونیورسٹی نے شائع کیا۔ عبدالقیوم صاحب کے صاحبزادے نے ان دونوں کتب اور کتابچہ کی اشاعت پر آنے والے کل اخراجات کی آدھی رقم بزم اقبالؒ کو فراہم کی اور انہوں نے اس رقم کے عوض فی ایک ہزار دونوں کتب اور ایک ہزار کتابچہ وصول کیا۔ یہ میری ذاتی کوشش کا نتیجہ تھا کہ میں نے اس ادارے کے لئے خصوصی اشاعت کی مالی معاونت کیلئے ان صاحب کو آمادہ کیا۔  
بزم اقبال 69 سال سے محکمہ انکم ٹیکس کو سالانہ انکم ٹیکس کی مد میں سوالاکھ روپے ادا کرتی رہی ہے۔ میں نے محکمہ انکم ٹیکس کے حکام سے بار بارمل کر بزم اقبال ؒ کا ٹیکس معاف کرایا  اور گزشتہ دو سال کے اندر میں نے انکم ٹیکس کی مد میں اڑھائی لاکھ روپے کی بچت کی ہے۔ میں یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ 2017 کے بعد فنڈز کی کمی اور دیگر وجوہ کی بنا پر جریدہ اقبالؒ شائع نہیں ہوسکا تھا۔ میں نے دو شماروں کی اشاعت کا انتظام کیا۔
راقم السطور تحریک پاکستان کا کارکن رہا ہے۔ اس تحریک کے دوران راقم نے جس جوش و جذبے سے کام کیا آج بھی اسی جوش و جذبے سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں اور یہ سارا کام میں نے تن تنہا کیا ہے۔ کیوں کہ بزم اقبال ؒ میں عملہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک سپرنٹنڈنٹ، ایک سیلز مین، ایک کمپیوٹر آپریٹر، ایک ڈرائیور اور ایک نائب قاصد کے ساتھ یہ سارا کام ہو رہا ہے۔ اس کے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے نہایت کفایت شعاری اور مسابقت کے ساتھ کوٹیشن طلب کر کے نہایت عمدہ کتابیں شائع کی ہیں اور مجھے اپنی اس کاوش پر بے حد فخر ہے کہ آرمی ہیڈ کوارٹر میں کوارٹر ماسٹر جنرل برانچ، آرمی ہیریٹج فاؤنڈیشن، ایوب نیشنل پارک راولپنڈی نے بزم اقبالؒ کے ڈائریکٹر کو خصوصی خط لکھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ پاکستان آرمی قازقستان کے صدر مقام کی لائبریری، مسلح افواج کے مرکز اور یونیورسٹی کی لائبریری کے علاوہ پاک فوج کے خصوصی مراکز کیلئے کتابوں کے اردو انگریزی، اقبالؒ، قائد، پاکستان کی تاریخ، تحریک پاکستان، نظریہ پاکستان اور مشاہیر پاکستان کے بارے میں کتب کا تحفہ دیا۔ یہ تمام کتب میں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے فراہم کیں۔ پاک فوج کے خصوصی شعبے کے ڈائریکٹر بریگیڈیر(ر) ڈاکٹر سلیم نے فون پر میرا خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا۔ جب وہ فون پر بات کر رہے تھے تو اس شعبے کے میجر جنرل بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ پورے پاکستان میں واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ہمارے لئے کتابوں کا انتخاب کیا اور گراں قدر کتابوں کا تحفہ بھجوایا۔ اس سلسلے میں ہم بزم اقبال کے بھی شکر گزار ہیں۔

تبصرے بند ہیں.