وزیر اعظم ٹروڈو کی ہیٹ ٹریک

124

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مسلسل تیسری بار الیکشن جیت کر حکومت بنانے اور وزیر اعظم بننے کی ہیٹ ٹریک مکمل کر لی ہے مگر انہیں یہ ہیٹ ٹریک بہت مہنگی پڑی ہے ، انہیں اس جیت پر کافی تنقید کا بھی سامنا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی یہ جیت کینیڈا کو چھ سو ملین ڈالرز میں پڑی ہے جبکہ دوسری طرف ایک طبقے کا خیال ہے کہ عوام نے کووڈ کے دوران ان کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پہلے سے زیادہ نشستیں دی ہیں۔
 کینیڈا میں دو سال قبل کرائے گئے عام انتخابات میں وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو کی لبرل پارٹی دوسری دفعہ الیکشن جیتی تھی مگر 157نشستوں پر اکثریت کے باوجود وہ اکثریتی حکومت نہیں بنا سکی تھی کیونکہ اکثریتی حکومت کے لئے ٹروڈو کی پارٹی مطلوبہ ایک سو ستر نشستیں نہ لے سکی تھی ،ایک اقلیتی حکومت ہونے کی وجہ سے لبرل پارٹی نے قبل از وقت انتخابات کرائے تاکہ انہیں اکثریت حاصل ہو سکے مگر ایک بار پھر وہ اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے تو آئی ہے مگر اکثریتی حکومت کے لئے اسے مطلوبہ تعداد پھر نہیں مل سکی سو وہ ایک بار پھر اقلیتی حکومت ہی بنائیں گے ،اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی نے شکست تسلیم کر لی ہے جسے اب تک آنے والے نتائج میں 119 نشستوں پرکامیابی ملی جبکہ50حلقوں میں دیگر چھوٹی جماعتوں کے امیدوار کامیاب قرارپائے ہیں، اسی وجہ سے کینیڈینز کہہ رہے ہیں کہ اگر ٹروڈو نے یہی نتائج حاصل کرنا تھے تو نئے الیکشن کی کیا ضرورت تھی جس کے لئے ملک کے چھ سو ارب سے زیادہ ڈالرز خرچ ہوئے یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ کینیڈین الیکشن میں پاکستانی کمیونٹی نے بھی سرگرم کردارادا کیا،الیکشن میں 6پاکستانی کینیڈینز کامیابی کے بعد پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے جوایک اعزاز ہے،اقراء خالد،شفقت علی،سلمیٰ زاہد،سمیر زبیری،یاسر نقوی نے کامیابی حاصل کی،پاکستانی کینیڈین کمیونٹی کاسیاسی سفر زیادہ طویل نہیں،شاید15برس قبل پاکستانی کمیونٹی نے کینیڈین سیاست میں بھرپور اورمتحرک کردار ادا کرنا شروع کیا،لیکن اس دوران پاکستانی 6ممبرز آف پارلیمنٹ ایک سینیٹر اورایک اونٹاریو پارلیمنٹ میں وزارت کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہے،ان کی جیت کاسہرا منتخب ممبران کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کو بھی جاتا ہے جس نے ان کی کامیابی کے لئے فعال کردارادا کیا۔
 کینیڈا میں گزشتہ دو برس سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ نئی حکومت منتخب کرنے کے لیے عام انتخابات ہوئے،وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کورونا وائرس کی وبا کے نام پر یہ کہتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا کہ وہ وبا کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے حوالے سے ووٹروں کی رائے جاننا چاہتے ہیں،حالانکہ اپوزیشن نے مقررہ وقت سے دو برس قبل پولنگ کرانے کے ٹروڈو کے فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی، اس نے الزام لگایا تھا کہ ٹروڈو نے یہ انتخابات پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے ارادے سے کرائے ہیں،کینیڈا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ایرن او ٹول نے کہا کہ وہ جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی کو تیسری مرتبہ حکومت سازی سے روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، ایرن او ٹول نے ٹورنٹو میں اپنی رہائش گاہ کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹروڈو کو ان کی کامیابی پر مبارک باد بھی دی،لبرل اور کنزرویٹو پارٹیوں میں مخاصمت دو دشمن ممالک سے کم نہیں مگر الیکشن پر امن ماحول میں ہوئے ووٹرز،سپورٹرز نے شائستگی کا مظاہرہ کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جس کی وجہ سے ہلہ گلہ،ہلڑ بازی اور لڑائی مارکٹائی کاکوئی واقعہ سامنے آیا نہ دھاندلی کے الزامات لگے اور سب نے الیکشن نتائج کو خوش دلی سے قبول کیا۔
 پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے ٹروڈو کی جماعت کو کم از کم 170سیٹیں حاصل کرنا تھیں ، لیکن وہ یہ مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے،تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ لبرلز کو سنگل اکثریت حاصل ہے اور وہ کچھ جماعتوں کو ساتھ لے کر مقبول فیصلے کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ وزیراعظم باقاعدہ حکومت سازی کے بعدکووڈ19کی ویکسینیشن کیلئے کوئی جامع مؤثر حکمت عملی کا اعلان کریں گے،دیکھا جائے توحالیہ الیکشن کورونا ویکسینیشن کے حامی اورمخالفین میں مقابلہ تھا جو ویکسینیشن کے حامیوں نے جیت لیا ہے جس کے بعد ویکسینیشن آسان اور عام ہو جائے گی۔
 کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں پاکستانی کمیونٹی کی اہم سیاسی شخصیات نے مختلف جماعتوں کی طرف سے حصہ لیا ، لبرلز، کنزرویٹیو، این ڈی پی، گرینز اور پیپلز پارٹی آف کینیڈا کے مجموعی طورپر 20 پاکستانی امیدوار بھی اپنی قسمت آزما رہے تھے ،کرشماتی رہنماء 49 سالہ ٹروڈوسابق وزیر اعظم پیرے ٹروڈو کے بیٹے ہیں، وہ پہلی مرتبہ 2015 ء میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تاہم اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہوتی گئی اور 2019 ء کے دوسرے انتخابات میں ان کی حکومت اقلیت میں آگئی، ماضی میں جب ایک یونیورسٹی پارٹی میں چہرے پر سیاہی والی ان کی تصویر منظر عام پر آئی تو ایک ماڈرن اور تفریق مخالف رہنما کے طور پر ان کے امیج کو سخت نقصان پہنچا،قبل از وقت انتخابات کرانے کی ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ ٹروڈو کوووڈ 19 وبا سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حمایت چاہتے تھے، کینیڈا میں اب تک 73.4 فیصد لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین لگائے جانے والے ملکوں میں سے ایک ہے،ٹروڈو کورونا وائرس پر قابو پانے کے اپنے اگلے قدم کے طورپر ویکسینیشن کی مہم کو مزید تیز کرنا چاہتے ہیں جبکہ اپوزیشن رہنما مسٹر ٹول ریپیڈ ٹیسٹنگ پر زیادہ زور دیتے ہیں۔
 جسٹن ٹروڈو نے پیر کے روز اپنے ٹوئٹ میں کہا،’’یہ الیکشن ہمارے بچوں اور بزرگوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے اہم رہا ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری آواز کو بلند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ اپنی پسند کا مستقبل دیکھ سکیں،دوسری طرف قدامت پسند مسٹر ٹول نے پیر کے روز اپنی اہلیہ کے ساتھ ووٹ ڈالتے ہوئے ایک تصویر ٹوئٹر پر جاری کی اور لکھا کہ’’ہم کینیڈین بھائیوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کی خاطرٹیکس اصلاحات اور زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسی کے لیے آپ کی حمایت چاہتے ہیں‘‘،دونوں رہنماؤں کے ٹویٹس ان کی سوچ میں تضاداورشدت کے مظہر ہیں،ٹروڈو قوم کی بہتری بارے فکرمند ہیں جبکہ ایرن او ٹول چین سے محاذآرائی کے موڈ میں ہیں،یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کے امن پسند اور ترقی کے خواہش مندووٹرز نے ایک مرتبہ پھر جسٹن ٹروڈو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر بٹھادیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.