نیوزی لینڈ کرکٹ: ’’کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا‘‘

125

سیاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس میں مفادات ہوتے ہیں یا مجبوریاں ہوتی ہیں۔ مارچ 2019ء میں جب نیوزی لینڈ میں ایک مذہبی جنونی نے مسجد میں گھس کر جمعہ کی نماز کے دوران درجنوں مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں شہید کیا تو وزیراعظم جیسنڈا نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اور اس سانحہ کے اثرات زائل کرنے کے لیے تین ایسے کام کیے کہ دنیا بھر کے مسلمان اسے فرشتہ سمجھنے لگے ایک تو اس نے سر پر چادر لے لی دوسرے اپنی تقریروں کا آغاز السلام علیکم کہہ کر کرنا شروع کر دیا اور تیسرے نیوزی لینڈ کی مسجدوں کے متواتر دورے کیے جس سے وہ مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بن گئی۔ جیسنڈا کی اسلام سے محبت کے زعم میں ہم اتنا آگے نکل گئے کہ ہم اس کے اسلام قبول کرنے کا انتظار کرنے لگے اور یہ بھی بھول گئے کہ وہ بغیر شادی کے اپنے بوائے فرینڈ کلارک کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جس میں اس کے بچے بھی ہیں مغرب میں بغیر نکاح کے پیدا ہونے والے بچے کو Love Child کہا جاتا ہے۔ میں اس کا اردو ترجمہ یہاں لکھنے سے قاصر ہوں۔
پاکستانیوں پر وزیراعظم جیسنڈا اصل چہرہ اس ہفتے نظر آیا ہے جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان آئی تو راولپنڈی میچ کے لیے ٹاس ہونے سے چند منٹ پہلے نیوزی لینڈ نے سیریز کی منسوخی اور ٹیم کی واپسی کا اعلان کر دیا جس سے پوری دنیا کا میڈیا حیرت زدہ ہو گیا۔ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ تھا اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے سربراہ ڈیوڈ وائٹ اس کی کوئی معقول وجہ بتانے سے قاصر تھے جس پر وزیراعظم عمران خان نے اپنی ہم منصب جیسنڈا کو فون کیا کہ وہ بلا عذر یہ دورہ کینسل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں مگر انہوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا۔
یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی بظاہر نظر آتی ہے اور نہ ہی یہ سٹوری سپورٹس پیج کی خبر ہے کیونکہ پہلی با ت تو یہ ہے کہ اس سے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کامیابی پر سوال اٹھتا ہے اور پاکستان کی سکیورٹی صورت حال کا ایک غلط تاثر ابھرتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے۔ اگر پاکستان اتنا ہی غیر محفوظ تھا تو افغانستان میں طالبان قبضے کے بعد امریکی برطانوی اور دنیا بھر کے فوجی اور سویلین بھاگ بھاگ کر کیوں پاکستان آ رہے تھے کیا ان کو پاکستان کے علاوہ کوئی جائے پناہ میسر آئی کیا ان جان بچا کر بھاگنے والوں میں سے پاکستان آ کر کسی پر کوئی حملہ ہوا۔ یہ سب ایک قابل فکر بحث ہے۔
ایک وقت تھا کہ کھیل اور سیاست کی راہیں جدا ہوتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہے بین الاقوامی سیاست میں کھیل کے میدانوں کو استثنیٰ حاصل نہیں رہا۔ اس منسوخی کے پس پردہ محرکات جو کہ سارے سیاسی ہیں وہ آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا کہ
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا
نیوزی لینڈ کی اس منسوخی کے جزو میں پوشیدہ منظر نامے کی کچھ ایسے پہلو نظر آ رہے ہیں جن سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے یہ قاصر نظر آتے ہیں۔ وجہ سیدھی اور صاف ہے اہل مغرب کو پاکستان کے عالمی کردار پر تشویش ہے جس کی وضاحت شاعر مشرق کے مشہور مصرع سے بہتر نہیں ہو سکتی کہ
میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
سب سے پہلے یہ ذہن میں رکھیں کہ اس دورہ منسوخی کا فیصلہ نیوزی لینڈ کی اپنی سکیورٹی یا انٹیلی جنس کی سفارش پر نہیں کیا گیا بلکہ نیوزی لینڈ حکام کہتے ہیں کہ یہ ایک پانچ ملکی سکیورٹی گروپ Five Eye کے کہنے پر کیا گیا ہے جس میں 5 ممالک برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں جن میں سب سے چھوٹا اور غیر اہم ملک نیوزی لینڈ ہے جو ان طاقتوں کا جونیئر پارٹنر ہونے کی وجہ سے ان سے ڈکٹیشن لیتا ہے۔
5-Eye کی بلا ثبوت جعلی سکیورٹی تھریٹ رپورٹ کی وجہ یہ ہے کہ یہ گروپ خصوصاً برطانیہ اور امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہیں۔ برطانیہ کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان اگلے سال اس کے دشمن ملک ارجنٹائن کو جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کرنے جا رہا ہے ۔ اس کا انکشاف تب ہوا جب ارجنٹائن کی پارلیمنٹ میں اگلے سال کا بجٹ پیش کیا گیا تو اس میں 660 ملین ڈالر کی رقم 12 طیاروں کی پاکستان سے خریداری کے لیے رکھنے کی تجویز تھی۔ یہ بات لیک ہو گئی اور برطانیہ اب پاکستان پر پریشر ڈال رہا ہے کہ پاکستان ارجنٹائن کو جے ایف تھنڈر فروخت کرنے سے باز آ جائے۔ یاد رہے کہ ارجنٹائن نے گزشتہ سال یہی سودا جنوبی کوریا سے کیا تھا اور برطانیہ نے کوریا کو مجبور کر کے یہ ڈیل کینسل کرائی تھی۔
امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی وجہ سے افغانستان میں جنگ جیتنے سے قاصر رہا ہے کیونکہ پاکستان امریکہ کا نان نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود اور28 بلین ڈالر کی جنگی امداد وصول کرنے کے باوجود اندر سے طالبان سے ملا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے دانستہ طور پر پاکستان کی اہمیت کم کرنے کی خاطر وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی فون کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ افغانستان میں امریکیوں کو لگنے والے گہرے زخم انہیں ہر دم پاکستان کی یاد دلاتے ہیں تو ان کے لیے یہ مزید تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔
تیسری اور سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ میچ منسوخی سے چند دن قبل روسی صدر پیوٹن نے وزیراعظم پاکستان کو ایک مہینے میں دوسری دفعہ ٹیلی فون کیا اور انہیں افغانستان اور دیگر علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان سے تعاون اور خیر سگالی کی درخواست کی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ساؤتھ ایشین خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ چائنہ کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا اب امریکہ کے بس میں نہیں رہا۔ چینی وزیراعظم ژی جن پنگ کے دور میں چائنا نے عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو امریکہ کو ہضم نہیں ہو رہا جبکہ روس ایک بارپھر عالمی رنگ میںواپس آ چکا ہے اور ہر جگہ امریکہ کو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ ان بدلتے ہوئے حالات اور پاکستان کی چائنا اور روس کے ساتھ راہداریوں نے یورپ اور امریکا کو پاکستان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس پر کس طرح پریشر بڑھایا جائے۔ سب سے بڑا حربہ آئی ایم ایف ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان کو غیر محفوظ ثابت کرنا ہے۔ بقول شاعر مشرق امریکہ کی حالیہ پوزیشن کچھ یوں ہے
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں میرو سلطاں سے بیزار ہے
یہ وہ سارا پس منظر ہے جس کی دھند میں لپٹی شامیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کرکٹ اب محض کرکٹ نہیں رہی بلکہ سیاست کا روپ دھار چکی ہے۔

تبصرے بند ہیں.