اب ہم اپنی شرائط پر نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کو بلائیں گے، چیئرمین پی سی پی

128

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی پی) کے چیئرمین نے کہا ہے کہ انگلینڈ نے بہانہ کیا ہے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور یہ ان کا بے تکا فیصلہ تھا لیکن پاکستان آئی سی سی میں اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کرے گا

 
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی پی رمیز راجہ نے کہا نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے دوروں کی منسوخی کی امید نہیں تھی اور سوچا نہیں تھا آتے ساتھ ہی باؤنسرز شروع ہو جائیں گے لیکن اب کھل کر بات کرنے کا وقت آ گیا ہے اور اب ہم اپنی شرائط پر ان کو بلائیں گے۔

 
ان کا مزید کہنا تھا کہ انگلینڈ نے بہانہ کیا ہے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور یہ ان کا بے تکا فیصلہ تھا لیکن پاکستان آئی سی سی میں اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کرے گا جبکہ آئی سی سی میں سیاست نہیں اور ہر کرکٹ بورڈ کی اپنی اہمیت ہے۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں نے 2022ء میں دوبارہ آنا ہے اور اب ہم اپنی شرائط پر ان کو ملک میں کرکٹ کے لئے بلائیں گے کیونکہ اب پی سی بی کا چیئرمین کرکٹر ہے اور ہم اپنا بیک اپ پلان تیار رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے چیئرمین پی سی بی بنے سات دن نہیں ہوئے اور میرا پلان 100 دن کا ہے جبکہ فرسٹ کلاس پلیئرز کے لیے پیسے بڑھائے ہیں اور کرکٹ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو لیکر آئیں گے جبکہ ٹیم میں ہر کھلاڑی کو عزت دی جائے گی۔

رمیز راجہ نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو لانے کا مقصد کھلاڑیوں کی سوچ تبدیل کرنا ہے اور پاکستانی ٹیم کو نمبر ون بنانے کے لیے کام کریں گے جبکہ ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم سلیکٹ ہو چکی ہے۔ سلیکشن کو بیک کر رہا ہوں اور ٹیم میں ایک دو تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

 خیال رہے کہ آج ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے انکار کے بعد ایشیائی بلاک بنانے کا عندیہ دے دیا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ ہم کسی میچ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے، یہ جاننا ہے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا جبکہ اپنی خودداری اور کرکٹ کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے اب تک سبق ہی سبق ہے اور پتا چل رہا ہے کہ کون دوست ہے اور کون ساتھ کھڑا ہے کیونکہ یہ سب ہمارے ہاں ایک مائنڈ سیٹ کے ساتھ آتے ہیں لیکن ہمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہونا اور ہمیں ایک ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اب یہ نہیں ہو گا کہ وہ ہم سے اپنا مطلب نکالیں اور چلے جائیں جبکہ نیوزی لینڈ کو تھریٹ تھا تو شئیر کرتے اور اب دبئی پہنچ گئے ہیں تو اب بتا دیں تاہم ہمیں اپنی پوزیشن کے حساب سے اپنی اننگز کھیلنی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے منسوخ ہونے کے تمام معاملات آئی سی سی میں اٹھانے ہیں اور ایسی کون سی تھریٹ تھی کہ وہ ایک دم بھاگ گئے اور انہیں بتانا پڑے گا کیونکہ ہمارے جذبات کی قدر نہیں کی گئی ہے اور ہمیں کوئی بلاک ایسا نہیں بنانا لیکن جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے۔
اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کی جانب سے انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ای ین واٹ مور کو خط لکھا گیا ہے جس کا جواب دینے سے انکار کردیا گیاہے۔

ذرائع کے مطابق خط میں پاک انگلینڈ میچز پنڈی سے لاہور منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی تھی اور انگلش ٹیم کو ہوٹل کے بجائے ہائی پرفارمنس سینٹر (ایچ پی سی) میں قیام کے لیے کہا گیا تھا۔

انگلینڈ کے دورہ پاکستان کے موقع پر لاہور میں قذافی اسٹیڈیم اور اطراف کو فوج کی مدد سے چار دن کے لیے سیل کیا جانا تھا اور ہائی پرفارمنس سینٹر سے انگلش کھلاڑی پیدل گراؤنڈ آسکتے تھے۔

تبصرے بند ہیں.