توسیع

94

حضرت عمرؓ نے ایک گورنر کو ذمہ داری سے سبکدوش کیا ان کا معاملہ مجلس شوریٰ میں زیربحث رہا تھا۔ حضرت عمرؓ کے برابر میں وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے حمایتی کہہ رہے تھے کہ ان کی بڑی خدمات اور بے پناہ خوبیاں ہیں لہٰذا ان کی برخاستگی کا فیصلہ واپس لیں اور توسیع فرما دیں۔ حضرت عمرؓ نے سب کے دلائل سننے کے بعد عہدیدار کا ہاتھ پکڑا اور حاضر و شرکاء شوریٰ سے کہا کہ یہ تو مر گیا (یعنی فرض کریں یہ مر گیا) تو کیا حکومت، امت، سلطنت ریاست کا کاروبار بند کر دیں یہ تو اب موجود نہیں ہے سب خاموش ہو گئے۔
چلیں پاک فوج یا سپہ سالار کے متعلق فیصلہ تو بدترین ہمسایہ مکروہ دشمن بھارت اور بین الاقوامی سازشوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہو گا جس پر عام آدمی ”دانشور وں“ صحافیوں اور دیگر لوگوں کو اعتماد لینا کوئی ضروری بھی نہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ ہمارے دیگر عسکری افسران اور عالیہ و عظمیٰ کے جج صاحبان بھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے۔ بڑے بڑے شعبوں کے چیئرمین، ڈائریکٹر جنرل، گورنر، سفیر بنادیئے جاتے ہیں۔ کیا ان لوگوں میں دیوار کے دوسری طرف دیکھ پانے کی صلاحیت ہے۔ ان کا کردار سر نور الدین زنگی جیسا ہے۔ ان کی کیا اضافی خدمات ہیں جو یہ ریٹائر نہیں ہوتے حالانکہ ایکسٹینشن تو کسی رہائشی بستی DHA، ماڈل ٹاؤن، بحریہ ٹاؤن کی بھی ہو تو اس کا وہ معیار نہیں ہوتا جو جینوئن بستی کا ہوتا ہے۔ آج کل چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع زیر بحث ہے۔ پارلیمانی روایات کے مطابق تو وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما کے اتفاق سے چیئرمین نیب تعینات کیا جاتا ہے مگر وزیراعظم عمران خان کا رویہ ایک دن بھی منتخب پارلیمانی وزیراعظم کا نہیں رہا۔ موجودہ چیئرمین نیب کی بطور چیئرمین عہدے پر توسیع اب انتظامی نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے بار بار نیب کی کارکردگی پر تحفظات، ریمارکس، اپوزیشن کی طرف سے جانبداری کے الزامات موجودہ چیئرمین کو متنازع بنا چکے ہیں اور ویسے بھی یہ عہدہ کوئی ایسا نہیں جو ملکی سلامتی یا عسکری حوالے سے اہمیت کا حامل ہو لہٰذا اگر ملک اتنا ہی بانجھ ہو گیا ہے کہ اس چیئرمین نیب کے علاوہ کوئی دوسرا موزوں آدمی نہیں ہے، پھر وطن عزیز کے باقی اہل لوگوں سے معذرت کر لیں کہ اس وطن میں ان کے حقوق دوسرے درجے کے شہری کے ہیں۔ یوں تو ریاست مدینہ کا بڑا شور ہے اگر حقیقت میں ایسا ہوتا تو اقتدار کے ایوانوں میں پائے جانے والے چہرے سنگسار کے میدان میں پائے جاتے، کچھ اپنے ہاتھ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوتے۔ کچھ کوڑوں کی سزا کے لیے چنے جاتے، آخر یہ حکمران طبقے کیا سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کے عوام کے ماتھے پر کیا لکھا ہوا ہے جو ان کو صرف رعایا سمجھتے ہیں۔
بین الاقوامی حالات جس ہوش مندی اور قومی ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہیں کیا حکومت اس نہج پر سوچتی ہے؟ چیئر مین نیب جو بے شک پاؤں سے سر تک احتساب کرتے ہیں مگر متنازع ہو چکے ہیں اور ویسے بھی جب قانون میں چیئرمین نیب کے عہدہ میں توسیع کی گنجائش موجود نہیں ہے تو پھر قانون سازی یا آرڈیننس یا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چلیں جو بھی طریقہ کرنا ہے مگر اس کی پہلی تعیناتی ہی پارلیمانی اپوزیشن رہنما کے مشورے کی متقاضی ہے تو توسیع سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حکومت تن تنہا کر گزرے۔
فروغ نسیم خاص شہرت کے حامل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ شہباز شریف پر مقدمات ہیں۔ میں حیران ہوں کہ اتنا بڑا نام یہ نہیں جانتا کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک قانون کی نظر میں معصوم ہے جب تک اس کو مجرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ اگر ملزم یا الزام ہونا ہی کافی ہے تو وزیراعظم کی پارٹی فارن فنڈنگ کیس، مالم جبہ کیس، بی آر ٹی، بلین ٹری اور اب کرونا فنڈنگ اور بلکہ اب تو حکمرانی کا کوئی انگ نہیں بچا جو الزامات کی زد میں نہ ہو البتہ یہ زم زم نہائے اس لیے ہیں کہ جس ادارے نے بھی ان کو بلایا ان کا کہا نہیں مانا اس کی ساکھ کو راکھ کرنا حکمرانوں کا وتیرہ بن گیا۔ عوام کی حالت کچھ فارسی کے اس شعر کے مصداق ہے۔ ترجمہ:
میری سرگزشت تم نے پوچھی ہے
تو سنو میری سرگزشت
کہ میرے پاؤں کے کانٹے سر کے راستے
اور سر کے بال پاؤں کے راستے نکل گئے
اور حکومت ہے کہ ہر وقت مخالفین کو کچلنے، اقتدار اور اختیارات میں توسیع فوبیا میں مبتلا ہے جبکہ بین الاقوامی اور ملکی صورت احوال ہوش مندی کا تقاضا کرتی ہے توسیع کا نہیں۔
2010 میں بھی ایک کالم میں لکھا تھا کہ عمرانی علوم کا ہر نظریہ و نظام جس میں صدارتی، پارلیمانی، ڈکٹیٹر شپ بھی شامل ہیں ہم سب دیکھ چکے، ہمارے ہاں عدلیہ انتظامیہ مقننہ، افواج کے اکابرین بھی ہیں اور ان سب کی غلامی کے لیے حاضر اور ان کی تفریح طبع و حکمرانی کے دوام کے لیے رعایا اور عوام بھی۔ صدیوں سے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ادارے بھی ہیں قوانین اور نظام بھی ہے جو انسانوں نے دیگر جانداروں سے ممتاز ہونے کے لیے قائم کیے کہ اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دے سکیں اور فرض پورا کر سکیں، پھر خیال آیا کہ کیا وجہ ہے یہی نظام ایسے ہی ادارے ایسے ہی قوانین اور ایسے ہی افراد دیگر ممالک میں انسانیت کی اعلیٰ مثالیں اور تاریخ رقم کیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں وحشت و بربریت، برہنہ محو رقص اور انسانیت ماتم کناں ہے۔ پھر مزید ڈپریشن اور سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس ملک کے بے بس باسی کو اس خیال نے سہارا دیا کہ دراصل ہم پرتھوی راج ہیں اکبر بادشاہ نہیں، ہم دلیپ کمار ہیں دیوداس نہیں، ہم نصیر الدین شاہ ہیں مرزا غالب نہیں، ہم گردسا مان ہیں وارث شاہ نہیں، ہم انتھونی کوئن ہیں امیر حمزہ نہیں، ہم زیادہ سے زیادہ جج صاحبان ہیں جسٹس رستم خاں کیانی نہیں، وکلاء صاحبان ہیں خواجہ جاوید نہیں، ہم فتویٰ اور فرقہ فروش ہیں مولانا نہیں، مسیحائی فروش ہیں میو برادران نہیں، ہم فاروق حیدر مودودی ہیں مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی نہیں، شیخ رشید ہیں شیخ سعدی نہیں، بیکن ہاؤس سکول جیسے اداروں کے مالک ہیں سر سید احمد خان نہیں، ہم زرداری ہیں بھٹو نہیں، ہم انسانوں جیسے اور انسان نما ہیں انسان نہیں، ہم ڈرامہ ہیں حقیقی نہیں، بس نقال ہیں۔ ہماری حرکات و سکنات اور خوراک و پوشاک بھی انسانوں جیسی ہے مگر اظہار ذرات ویسا نہیں ہماری ہیئت و زبان بھی انسانوں جیسی ہے مگر افکار و عمل نہیں۔ ہم عوام جیسے ہیں مگر عوام نہیں، ہم ریوڑ ہیں خود مختار نہیں، ہم آزاد قوم ہیں مگر آزاد نہیں، ووٹر ہیں صاحب الرائے اور رائے دہندہ نہیں، ہم 23 کروڑ ہیں لیکن ہم وطن نہیں۔
مینار پاکستان سے کود جانے والے کے لیے زندگی کی دعا قدرت اور فطرت کو امتحان میں ڈالنے والی بات ہے پھر بھی قدرت ہم پر ہمیشہ مہربان رہی کہ ہمیں ہر بار موت کے بجائے معجزانہ زندگی عطا کی مگر ہم بھی باکمال لوگ ہیں دوسری اقوام عالم پر تو آزمائش اور مصیبتیں آتی ہیں مگر ہم نے قدرت کو آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ہم ہر پل ہر لمحے گود سے گرتے ہیں۔ ہم ایسے فنکار ہیں کہ لمحہ بھر بھی حقیقت میں نہیں گزارتے۔ آئین کی حاکمیت ہی بقا ہے خواہش کی توسیع نہیں۔

تبصرے بند ہیں.