سپیس ایکس کے راکٹ کی کامیاب خلائی مشن کے بعد زمین پر واپسی

53

فلوریڈا: سپیس ایکس کے راکٹ نے تاریخ انسانی کے کامیاب خلائی مشن ” انسپریشن فور” کے بعد زمین پر کامیابی سے واپسی کی ہے۔

سپیس ایکس کا ” ڈریگن راکٹ” امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب بحر اوقیانوس میں اترا۔ تاریخ کے اس پہلے کامیاب مشن میں کوئی پیشہ ور خلا باز نہیں تھا۔ چاروں افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کینیڈی سپیس سینٹر پہنچایا گیا۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی سپیس ایکس کے اس خلائی مشن کو ’انسپریشن فور‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس خلائی جہاز کو فلوریڈا میں قائم ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا تھا۔

اس موقع پر سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک سمیت اہم شخصیات اور میڈیا کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔

جیسے ہی خلائی جہاز مسافروں کو لے کر اڑا، ایلون مسک نے فرط جذبات میں نعرے لگائے۔ وہ اس موقع پر بہت پرجوش نظر آ رہے تھے۔

خیال رہے کہ سپیس ایکس کا یہ خلائی جہاز امریکا کے امیر ترین آدمی جیرڈ آئزک نے چارٹر کیا تھا جو خود بھی پائلٹ اور کمپنی شفٹ فار پیمنٹ کے مالک ہیں۔

سپیس ایکس کے اس مشن کو انسانی تاریخ میں پہلی عام مسافروں کیساتھ خلا کی سیر کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا۔

سائنسدان اسے ارب پتیوں کے درمیان خلا بازی کے میدان میں آگے جانے کی دوڑ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل ایمزون کمپنی کے مالک جیف بیزوس اور رچرڈ برینسن بھی اپنی کمپنیوں بلیو وریجن اور ورجن گلیکٹک کے ذریعے خلا میں چکر لگانے کا کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔

ڈریگن راکٹ جیرڈ آئزک سمیت چار مسافروں کو لے کر انتہائی تیز رفتاری سے اڑا اور تقریباً 575 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے زمین کے مدار میں پہنچا تھا۔

اس راکٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اس میں موجود خلا باز زمین اور خلا کی خوبصورتی کا نظارہ کر سکیں گے۔

تبصرے بند ہیں.