نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی، ہائبرڈ وار شروع نہ کرنے کا نقصان

212

تحریر: زینب وحید

جناب وزیراعظم، ناقص العقل ہوں، چھوٹی ہوں، چھوٹا منہ بڑی بات والا معاملہ ہے، مجھے علم ہے کہ جان کی امان پا بھی لوں، عرض کر بھی لوں، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر آپ اور آپ کے وزیروں اور مشیروں کو ٹیگ کر بھی دوں، پھر بھی آپ تک یہ گذارشات نہیں پہنچ سکتیں کیونکہ میں عوام ہوں اوراقتدار کے ایوانوں میں عام آدمی کے قدم تو دور کی بات ، اُس کی پرچھائی بھی نہیں پہنچ پاتی، لیکن پھر بھی اپنا فرض سمجھ کر عرض کرنا چاہتی ہوں کہ اگر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم واپس چلی بھی گئی تو کیا غم ہے۔ ہماری فوج نے دہشت گردی کےخلاف دنیا کی مشکل ترین جنگ نہ صرف لڑی ہے بلکہ جیتی بھی ہے، اس لئے ہم کیوں دنیا کےسامنے وضاحتیں پیش کرتے پھریں اور کیوں منت سماجت کریں۔ کیا خود نیوزی لینڈ نہیں جانتا کہ دورے اور ٹیم پاکستان پہنچنے سے پہلے کرکٹ کی دنیا کے سب سے معروف سویارٹی ماہر ریگ ڈیکا سن نے پاکستان آکر سکیورٹی سے متعلق تمام انتظامات اور اقدامات کا خود جائزہ لیا اور مکمل اطمینان ظاہر کیا تھا۔

اب اگر نیوزی لینڈ والے غیروں کی باتوں میں آکر ہم سے کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتے تو اُن کی مرضی ہے۔وہ تو ہیں ہی احسان فراموش۔ بھول گئے وہ دن جب اُن پردہشت گردی کا حملہ ہوا تواُس وقت وہاں موجود ہمارے کرکٹرز اور ہماری قوم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن میڈم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔

جو ہونا تھا ، وہ تو ہو چکا، اب کچھ واپس نہںق آئے گا۔ ٹیچر نے کلاس میں پڑھایا ہے کہ طوفان آکر چلا جائے تو بعد میں سب سے پہلے طوفان کے آنے کی وجہ تلاش کریں، جائزہ لیں کہ تیز آندھیوں کے اندر رہ کر ہم نے کیسا رویہ اختیار کیا؟ مقابلے کے انتظامات کیا تھے؟ طوفان گزر نے کے بعد اب کیا کرنا ہے؟

جناب وزیراعظم! یقینی طور پر حکومت میں بڑے دماغ ہیں جو مجھ ناچیز سے کہیں زیادہ آگے اور بہتر سوچتے ہیں، لیکن میری بھی چند گذارشات ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چوھدری یا سنیٹر فیصل جاوید کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دیں جو پاکستان کے تمام شعبوں پر مشتمل انگلش بولنے والے روشن چہرے یا سلیبرٹیز سے رابطہ کریں۔ یقین ہے کہ عام حالات میں جو سلیبرٹیز پیسے کے بغیر بات بھی نہیں کرتے، اس صورتحال میں ہر گز وہ حکومت کی بات نہیں ٹالیں گے۔

خود وزیر اطلاعات اور فیصل جاوید اس ٹیم کو لیڈ کریں۔ نوجوان، متحرک اور سینئر سیاست دانوں جیسے زلفی بخاری،ملائیکہ بخاری، معید یوسف، مصطفیٰ نوازکھوکھر، سینیٹر شیری رحمٰن، شیریں مزاری اور سینیٹر مشاہدحسین سید سے درخواست کریں کہ وہ سرکاری انگلش ٹی وی چینل پی ٹی ورلڈکی لائیو نشریات کا حصہ بنیں ، اسی طرح شو بز انڈسٹری سے مائرہ خان، علی ظفر، مہوش حیات، فیصل قریشی، فہد مصطفیٰ، فواد خان،ریما، شان، سجل علی ، مروہ حسین، عاطف اسلم، راحت فتح علی خاناورہمایوں سعید سمیت دیگر سلیبرٹیزکو انگیج کیاجائے۔ اسپورٹس کی دنیا سے شعیب ملک، رمیز راجہ، شاہد آفریدی، وسیم اکرم، شعیب اختر اوردیگرمشہور کھلاڑیوں کی خدمات لیں ۔ پاکستان کے ہمدرد غیر ملکی کرکٹرز کےساتھ رابطے قائم کئےجائیں۔ ڈیرین سیمی،سری لنکن کپتان دیموت کرونارتنے ، ہرشل گبز ، ڈیوڈ ویزے ، سابق جنوبی افریقہ کھلا ڑی جو نٹی روڈز پاکستان سے بے حد پیار کرتے ہیں، انہیں اسکائپ پر لیں ، اُن کے ساتھ ٹویٹراسپس کریں۔ کریس گیل نے تو پاکستان آنے کااعلان تک کردیا ہے،انہیں سرکاری انگلش ٹی وی چینل پر لائیو بٹھائیں۔

پاکستان کے وہ سوشل میڈیا کے لوگ جوحکومت کی سوشل میڈیا ٹیم کو بہت پیارے ہیں، اُن سےکہیں کہ ایسے تمام غیرملکی کھلاڑیوں کو یو ٹیوب اوردیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرلائیو لیں۔ ہاکی کے ابھرتے اسٹارزاور اعصام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں سے بھی کہہ دیں کہ اپنے سوشل میڈیاپلیٹ فارمز کی طاقت کو استعمال کریں۔مشہور ٹی وی پروگرامز کے اینکرز جیسے وصی شاہ، نعمان اعجاز، کامران شاہد اور دیگر سے بھی درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کے خلاف منفی تاثر زائل کرنے میں کردار ادا کریں۔ حال ہی میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کا سفرختم کر کے واپس آنے والی امریکی خواتین بائیکر کو پی ٹی وی اسپورٹس اور پی ٹی وی ورلڈ پر جگہ دیں، اُن کے پاکستان کے پر امن ہونے کے بارے میں تاثرات امریکا اور یورپ کو دکھائے جائیں۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے بھی بھر پور سپورٹ حاصل کریں۔ سنتھیارچی، وسیم اکرم کی اہلیہ، شنیرااکرم، اے سی سی میں ٹاپ کرنے والی زرا نعیم، عائہپ عمر، جویریہ صدیق، موناخان جیسی شخصیات اوربیرون ملک پاکستانی سوشل میڈیاانفلوئنسز سے رابطہ کیا جائے۔ وہ انگلش میں پاکستان کے بہترین تشخص پر ویڈیو بنائیں اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے کروڑوں فالورز اورنیوزی لینڈ کو بتائیں کہ جس سیکورٹی پر آپ کو اعتماد نہیں، وہی سیکورٹی تو آپ کو اتنے دن تحفظ دیتی رہی ہے۔ پاکستان کے اندر تمام انگلش بولنے والے سوشل میڈیا کے لوگوں سے کہا جائے کہ و ہ یوٹیوب،انسٹاگرام اور فیس بک پراپنے اپنے شہر سے لائیو آئیں ۔ انگلش بولنے والے اپنے دوستوں کا ساتھ لیں اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستان ایک پر امن اور محفوظ ملک ہے۔ پاکستان سے باہر موجود سوشل میڈیاایکٹوسٹس سے رابطہ کر کے انہیں کہا جائے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں کےساتھ لائیو کریں یا ویڈیو ریکارڈ کر کے اپ لوڈکریں اور دنیا کو بتائیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستان کا کونہ کونہ اب محفوظ ہے ۔

ان تمام شخصیات کی ویڈیوز کو ٹویٹر اور انسٹاگرام پر شیئر کریں، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، امریکی صدر جو بائیڈن، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقوں کو ٹیگ کریں۔

جناب وزیراعظم، آپ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سر، دن رات قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ اب ہائبر وارڈ کازمانہ ہے، اکیسویں صدی کی جنگ ہائبرڈ وارفیئر یا گرے زون وار فیئر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ہم اس جنگ میں اپنے بہترین ہتھیار استعمال کریں۔

نیوزی لینڈ نے جو کچھ کیا، اُس کے بعد سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو پڑوسی ملک کے میڈیا میں ہمارے خلاف ایک طوفان برپا ہے۔ہمارے وزیر داخلہ زور دار انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ پڑوسی ملک نے ہمارے خلاف محاذ کھول رکھا ہے، لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اب اس کامقابلہ کیسے کرنا ہے۔ دْشمن ہمارے خلاف منصوبے بنا رہا ہے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہا ہے، اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہے۔ ایسے میں کسی بھی وزیر یا مشیر کی اردو میں جذباتی تقریر کی کوئی اہمیت و حیثیت ہی نہیں ہے، البتہ سوشل میڈیا پر اُن نوجوانوں کی بہت اہمیت ہے جن کے ہزاروں اور لاکھوں فالورز ہیں۔ اُن کی مدد سے ہی ہم یہ ہائبرڈ وار جیت سکتے ہیں۔ آخر میں سلام پیش کرتی ہوں سوشل میڈیا پر موجود اُن محب وطن نوجوانوں کو جو بے غرض ہو کر کسی حکومتی ٹیم کی دوستی اور سرپرستی کے بغیر دن رات پاکستان کے بارے میں منفی تاثر زائل کرنے میں مصروف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب وحید ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنے والی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کیمرج کی طالبہ ہیں۔ وہ صف اول کی مقررہ، مصنفہ اور متعدد شہرت یافتہ اداروں کی سفیر بھی ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے یوتھ کی جانب سے اٹلی کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ زینب وحید پینڈیموس ایکشن انیشیٹوو کے نام سے سوشل ویلفیئر پروجیکٹ کی بانی بھی ہیں جس کا مقصد انسانوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ کی سرپرستی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کر رہی ہے۔ زینب وحید انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس 2021 کی پینلسٹ ہیں۔ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل سول سوسائٹی کے تحت کانفرنس میں پینلسٹ کے طور پر بھی شامل ہیں۔ زینب وحید کلائمٹ چینج ایکٹیوسٹ کی حیثیت سے فرائیڈے فار فیچر پاکستان کا حصہ ہیں۔ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی سفیر ہیں۔ یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک کی والنٹیئر ہیں۔ پاکستان ڈیبیٹنگ سوسائٹی لاہور کی صدر ہیں۔ انٹرنیشنل میگزین "اسمبلی” کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ زینب وحید لمز جیسے تعلیمی ادارے میں لڑکیوں کی تعلیم کی سفیر بھی ہیں۔ زینب وحید مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی یوتھ سمٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

زینب وحید کے سوشل میڈیا لنکس مندرجہ ذیل ہیں ۔

Twitter:

Facebook:

https://www.facebook.com/uswaezainab.official/

Instagram:

https://www.instagram.com/uswa_e_zainab_/

linkedin:

https://www.linkedin.com/in/uswa-e-zainab-1a8a8817a/

تبصرے بند ہیں.