برطانوی وزیر نے نقاب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا

130

لندن: برطانوی وزیر ناڈین ڈوریس نے مسلم خواتین کے خلاف زہر اگلتے ہوئے نقاب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے قرون وسطی کا لباس قرار دے دیا۔

وزارت کلچر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک انٹرویو میں ناڈین ڈوریس نے ایک بار پھر اپنے پرانے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ نقاب گھریلو تشدد کے باعث لگنے والے زخموں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلم خواتین کو لباس کے انتخاب کی بھی اجازت نہیں ہوتی بلکہ انھیں تو شادی کے لیے مرد کے انتخاب کی بھی اجازت نہیں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ایک مسلم خاتون صارف کو جواب دیتے ہوئے ناڈین ڈوریس نے برطانیہ میں برقع پہننے والی مسلم خواتین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ قرون وسطی کا لباس ہے جس کی آج کے لبرل معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ترقی پسند ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے باڈین ڈوریس کی وزارت تبدیل کرتے ہوئے انھیں زیادہ اہم وزارتوں کا قلمدان دیا ہے جن میں وزارت کلچر بھی شامل ہے۔

64 سالہ ناڈین ڈوریس مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر ہمیشہ ہی تنقید کرتی آئی ہیں اور برقع کو قرون وسطی کے ڈریس کوڈ سے مشابہت دیتی رہی ہیں جبکہ 2018 میں جب بورس جانسن نے متنازع اخباری کالم میں نقاب پہننے والی خواتین کو بینک ڈاکو اور لیٹر باکس سے مشابہت دی تھی تو ناڈین ڈوریس نے نقاب پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.