سپیس ایکس ڈریگن راکٹ عام مسافروں کیساتھ زمین کے مدار میں پہنچ گیا

145

فلوریڈا: امریکا کی ٹیکنالوجی کمپنی سپیس ایکس کا خلائی جہاز عام مسافروں کو لے کر زمین کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ سپیس ایکس کے اس مشن کو ’انسپریشن فور‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مشن کو واپسی پر بحر اوقیانوس کے مقام پر اتارا جائے گا۔

اس خلائی جہاز کو فلوریڈا میں قائم ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔ اس موقع پر سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک سمیت اہم شخصیات اور میڈیا کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔ جیسے ہی خلائی جہاز مسافروں کو لے کر اڑا، ایلون مسک نے فرط جذبات میں نعرے لگائے۔ وہ اس موقع پر بہت پرجوش نظر آ رہے تھے۔

خیال رہے کہ سپیس ایکس کا یہ خلائی جہاز امریکا کے امیر ترین آدمی جیرڈ آئزک نے چارٹر کیا ہے جو خود بھی پائلٹ اور کمپنی شفٹ فار پیمنٹ کے مالک ہیں۔

سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ یہ ’انسپریشن 4‘ تین روز تک زمین کے مدار میں چکر لگائے گا۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے جب عام مسافروں کو خلا کی سیر کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے۔

سائنسدان اسے ارب پتیوں کے درمیان خلا بازی کے میدان میں آگے جانے کی دوڑ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل ایمزون کمپنی کے مالک جیف بیزوس اور رچرڈ برینسن بھی اپنی کمپنیوں بلیو وریجن اور ورجن گلیکٹک کے ذریعے خلا میں چکر لگانے کا کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں۔

ڈریگن راکٹ جیرڈ آئزک سمیت چار مسافروں کو لے کر انتہائی تیز رفتاری سے اڑا اور تقریباً 575 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے زمین کے مدار میں پہنچا۔ اس راکٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں موجود خلا باز زمین اور خلا کی خوبصورتی کا نظارہ کر سکیں گے۔

تبصرے بند ہیں.