جہاد فساد نہیں فسادیوں کا علاج ہے

155

افغانستان میں2سپر پاورز اور عالمی اتحادکو شکست سے دوچارکرنے اور قیامِ ریاستِ مدینہ کے پیچھے پختہ ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا تقویٰ تھا۔افغانستان کو پتھروں کی دنیا میں دھکیلنے والے آج خود پتھر بنے بیٹھے ہیں۔ہندوستان، امریکہ،یورپی اتحاد اور اسرائیل میں ریاستِ مدینہ کے قیام سے نا صرف ماتم برپا ہے بلکہ افغانستان کے قیام کے بعد اسلام دشمن ممالک کو اپنا بھیانک انجام نظر آ رہا ہے۔جدید اور تیز ترین انٹیلیجنس ایجنسیوں کے حامل ممالک کو بھی افغانستان کے مستقبل اور ہدف کا علم نہیں۔اب دجال و امامِ زمانہ دونوں اہم کردار موجود ہیں اور عیسیٰ  ؑکی آمد قریب ہے۔اس بات کا مطلب و حقیقت اسی طرح نہیں ہو گا بلکہ ان کی تدبیرو تاویلیںکچھ اور طرح سے ظاہر ہیںعلاوہ غرقدکے درخت لگانا ، دیوارِگریہ پر رو کر دجال کی جلد آ مد کی دعائیں کرنا مطابقِ حدیث ہیںاس کے باوجود منکر و منافقین کا دوغلہ پن قابلِ حیرت ہے۔دجال مشرق سے 80کی دہائی سے برآمد ہو چکا اور بہانے سے خراسان کے علاقہ پر مسلط ہے کہ یہاں سے امام زمانہ اور اس کے لشکر برآمد نہ ہوسکیں،جبکہ یہ بہت سے چھپے مجاہدین کو نہ ڈھونڈ سکا۔مگر امامِ زمانہ کا عجب لشکر،دجالی ٹولہ کے مقابل رہا،جسکی وجہ سے دجال مسلسل شکست کھاتا رہاہے ۔امام زمانہ کا لشکر روحانی و ظاہری طور پر خراسان سے برآمد ہو چکا ہے اور دنیا پر چھا بھی چکا ہے۔خطہ کی صورتحال پر غور کریںسب حقیقت سامنے ہے۔منکر اپنی ناقص تدبیروں کے سامنے رب کی تدبیرسے مات کھا گئے ۔2021سے شروع ہونے والی حق و باطل کی نتیجہ خیز ہر قسم کی خطرناک جنگ کی شکل میں آغار ہو چکا ،جس کا انجام جوہری دھواں کا طوفان،جس سے انسان تلف ہوں گے اور کچھ صدیوں تک اصحابِ کہف کی طرح بے ہوش پڑے رہیں گے ۔ یہی لوگ ہوش میں آ کر ، زبور و قرآن کے وعدہ مطابق رب کے حکم سے پوری زمین میں اللہ کااصل دین نافذ کریں گے۔افغانستان میں طالبان کی ابھرتی ہوئی سیاسی ،سماجی اور عسکری طاقت سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہی حضرات خراسانی لشکر کا مصداق ہوں گے جن کے بارے میں نبی کریمﷺنے پیشن گوئی فرما کر انہیں اپنے اہلِ بیت کی مدد اور نواسہ رسول کی نصرت کا امین ٹھہرایا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺنے اہلِ مشرق میں سیاہ جھنڈوں کے آنے کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ سیاہ جھنڈوں سے مراد اہلِ حق عرب ، افغان اور دیگر مجاہدین کی وہ جماعت ہے جنہوں نے اپنے وقت کے سپر پاور سویت یونین کی فوجوں کو شکست دے کر جہاد کے عظیم باب سے امتِ مسلمہ کو متعارف کرایا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پہلے مشرق سے اہلِ حق مجاہدین سیاہ جھنڈوں کے ساتھ کبھی بھی نہیں آئے اور نا ہی عرب اور خراسانی لشکر مل کر فریضئہ جہاد کی ادائیگی پر متفق ہوئے ۔اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ افغانستان میں طالبان کی قیادت ہی امت کا وہ عظیم گروہ ہوگا جو نواسہ رسول کی فوج بن کر ایوانوں میں زلزلہ برپا کرے گا۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جب ملاحم یعنی عالمی جنگیں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ بعد میں اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک لشکر اٹھائیں گے جو گھڑ سواری میں عربوں سے عمدہ شہسوار ہو نگے اور اسلحہ چلانے میں بہتر ہوں گے۔اللہ تعالیٰ انکے ذریعے سے دین کی تائید کریں گے۔ اگر عصرِ حاضر میں عربوں کے مقابلے میں اہلِ افغان کی قربانیاں اور اسلام کے لیے اپنی سرفروشی دیکھی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح بالکل عیاں ہے کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں میں افغان قوم میں ایسے مجا ہدین ہیں جو پوری دنیا سے مبارزہ کرنے کے لیے بالکل تیار کھڑے ہیں۔ بیسویں صدی جو کہ دو عالمی جنگوں کے ساتھ لاتعداد جنگوں کا شکار رہی ان جنگوں کے آغاز سے لے کر انجام تک مختلف ممالک ایک دوسرے کے مقابل رہے لیکن گزشتہ برسوں میں جو علاقے میدانِ جنگ رہے وہاں چپے چپے میں قیامت برپا ہے دہشت اور خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ بحر اوقیانوس کے ملک لیبیا سے مصر ،یمن ،شام ،فلسطین ،اعراق اور افغانستان کے علاقے اس جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ کہنے کویہ جنگ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے سے شروع ہوئی لیکن اس خونی جنگ کے پس منظر میں ایک تاریخ ہے جو غزوہ ہند کی جانب گامزن ہے۔ بقول اقبال: 
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملت افغان در آن پیکر دل است 
از فساد  او  فساد  آسیا
از کشاد او کشاد ایشیا
ایشیا ایک مٹی اور پانی کا مجسمہ ہے افغانستان اس مجسمے کا دل ہے۔ اس کا فساد پورے ایشیا کا فساد ہے اس کا امن پورے ایشیا کا امن ہے۔

تبصرے بند ہیں.