جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ میں تعیناتی پر اتفاق نہ ہوسکا

159

 

اسلام آباد : چیف جسٹس  جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ختم ہو گیا ہے ۔ جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی پر اتفاق رائے نہیں  ہوسکا۔

 

نیو نیوز کے مطابق جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی پر جوڈیشل کمیشن کے چار اراکین نے حمایت کی جبکہ  مخالفت میں بھی  چار اراکین نے  ووٹ دیا۔  آئین کے مطابق اکثریتی فیصلے کے ذریعے ہی سپریم کورٹ میں تعیناتی ہو سکتی ہے۔

 

جوڈیشل کمیشن میں جسٹس عائشہ کے نام پر اتفاق نہ ہونے سے جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج نہ بن سکیں۔

 

واضح رہے کہ اسی معاملے پر وکلا نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج  بھی کیا ۔  اس کے علاوہ صبح کا آغاز عدالتوں کے بائیکاٹ سے ہوا جس میں وکلا سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث مقدمات کی سماعتیں بھی نہ ہوسکیں۔

 

احتجاج کا فیصلہ کراچی میں وکلا کنونشن کے دوران کیا گیا تھا جس کی منظوری بعد میں وکلا تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں دی گئی۔

 

اس کا مقصد بنیادی طور پر لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی مبینہ طور پر سینیارٹی کو مدنظر رکھے بغیر سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت ہے۔

 

وکلا نمائندہ تنظیموں کا موقف ہے کہ جسٹس عائشہ اے ملک، جو لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی سینیارٹی لسٹ پر چوتھے نمبر پر ہیں، کی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تعیناتی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 

جسٹس عائشہ ملک اور سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے دوسرے ججوں سے متعلق حتمی فیصلہ سپریم کورٹ میں منعقد ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہونا تھا۔

 

اگر عائشہ اے ملک کو تعینات کر دیا جاتا  تو وہ سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی پہلی خاتون جج  بن جاتیں۔

 

سپریم کورٹ کے احاطے کے اندر احتجاجی مظاہرے کے بعد وکلا کی بڑی تعداد نے جلوس برآمد کیا اور کانسٹیٹیوشن ایونیو پر مارچ کرتے ہوئے ریجنٹ ہوٹل تک گئے۔

تبصرے بند ہیں.