افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا قبل از وقت ہوگا: امریکی صدر

138

نیو یارک: امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا قبل از وقت ہوگا ۔
واشنگٹن میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے ۔ جوبائیڈن امریکا کیلئے نقل مکانی کرنے والے افغانوں کے بارے میں سوال سنے بغیر ہی چل دیئے ۔
دوسری جانب ، روس نے طالبان سے تمام اقلیتی گروپوں کو شامل کر کے جامع حکومت بنانے کا مطالبہ کر دیا ۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے تجاویز پر عمل کرنے پر روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے اور نئے حکمرانوں کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے بھی تیار ہے ۔
یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے روس کے علاوہ پاکستان ، چین ، ترکی اور قطر کو بھی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔
روس وہ پہلا ملک ہے جس نے واضح طور پر طالبان حکومت کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔
طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان میں زندگی معمول پر آنے لگی ہے ، افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد یونیورسٹیز بھی کھول دی گئیں ہیں ۔ یونیورسٹی کی کلاسوں میں لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان پردہ لگا دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل طالبان کی جانب سے لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ تعلیم کی خبریں سامنے آئی تھی ۔

تبصرے بند ہیں.