شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی ویژن "گرین سعودی عرب”

56

سعودی عرب سے میرا دلی تعلق قائم ہے، میرا دل بیعت اللہ اور مدینہ منورہ کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ٹی وی پر براہ راست خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کے مناظر دیکھ کر دل مچل سا جاتا ہے اور روح تڑپ اُٹھتی ہے کہ کب حاضری کے لئے میرا بلاوا آئے گا؟

اسی تعلق کی نسبت مجھے وہاں کی مٹی سے بھی شدید محبت ہے جس کی خوشبو محسوس کرتی ہوں، مجھے سعودی لوگوں سے بھی محبت ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دین اسلام کیلئے خدمات دیکھتی اور سنتی ہوں تو احتراماً سر جھک جاتا ہے۔

میں ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کے مقابلہ کرنے کے لئے کام کر رہی ہوں۔ اسی نسبت سے جب ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی اقدامات دیکھ کر بہت اطمینان حاصل ہوتا ہے، انہوں نے اُمت مسلمہ کے نوجوانوں اور کروڑوں بچیوں کا دل جیت لیا ہے۔

اُن کے اس ویژن سے ایک طرف مغرب اور امریکا کو مثبت پیغام جائے گا تو دوسری جانب خود مملکت باقی عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لئے مثال بن کر سامنے آئے گا۔ شہزادہ سلمان کی دور اندیشی کی قدر دان ہوں جس کا اظہار میں اپنی ڈاکومنٹریز میں بھی کرتی رہتی ہوں۔

دراصل شہزادہ محمد بن سلمان نے تاریخی منصوبے "گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ” کے ذریعے سلطنت کو دنیا سے ہم آہنگ کرتے ہوئے مستقبل کا "گرین روڈ میپ” دے دیا ہے۔

یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والے بڑے ملک کی حیثیت سے ماحولیاتی بحران کے خلاف جنگ آگے بڑھانے میں ناصرف اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر آگاہ ہے بلکہ دنیا کو سر سبز بنانے میں ورلڈ لیڈر بھی بننے جا رہا ہے۔

اس پروجیکٹ کی مدد سے ماحول بہتر بنانے اور صاف آب و ہوا کے وسائل فراہم ہوں گے۔ ولی عہد کے "گرین سعودی اینیشیٹیو” سے زمین کی شادابی میں اضافہ ہو گا، "کاربن” کے اخراج پر قابو پایا جائے گا جس کے کرہ ارض پر مفید اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اسی کی مدد سے سمندری حیات کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

پرنس کہتے ہیں "سعودی اور مشرق وسطیٰ کے سبز اقدامات محض آغاز ہیں، مملکت ، خطے اور دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے بہت زیادہ اور تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، سبز مستقبل کے لئے اس سفر کا آغاز آسان نہیں تھا ، لیکن ہم سخت انتخاب سے گریز نہیں کر رہے ” ہم معیشت کو بچانے اور ماحول کی حفاظت کے درمیان غلط انتخاب کو مسترد کرتے ہیں۔”

"گرین سعودی عرب” پلان کے تحت آئندہ چند برسوں کے دوران مملکت کے مختلف علاقوں میں 10 ارب درخت اُگانے کی منصوبہ بندی ہے جس سے تقریباً 40 ہیکٹرز اراضی دوبارہ سرسبز ہو سکے گی، نتیجتاً باغات اور ہریالی میں 12 گنا اضافہ ہو گااور عالمی اقدامات کا 4 فیصد ہدف مکمل ہوگا، اپنے دانشمندانہ اقدامات سے دنیا میں ایک کھرب درخت لگانے کے عالمی ہدف کا ایک فیصد حصہ سعودی عرب حاصل کرے گا۔

یہ منصوبہ سبزہ زار اور چراہ گاہیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھانے کےلئے بھی اہم ثابت ہو گا جس کا تخمینہ 600 ہزار کلومیٹر ہے۔ عالمی سطح پر ہر ملک کے لئے مقررہ ہدف 17 فیصد سےبڑھ جائے گا۔ ساحلی اور بحری ماحول کو محفوظ بنایا جائے گا۔ کاربن گیس کے اخراج میں 4 فیصد سے زائد کمی ہو گی جبکہ تجدید پذیر توانائی کے منصوبوں سے سال 2030 تک مملکت میں 50 فیصد سے زائد بجلی پیدا کی جاسکے گی ۔ ہائیڈرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ذریعے 130 ملین ٹن سے زائد کاربن کے اخراج پر قابو پایا جاسکے گا۔

سعودی عرب کے بنجر اور خشک علاقوں میں درخت لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، ان علاقوں میں اب ہریالی کے دلفریب مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ مملکت میں زراعت کا فروغ بھی سعودی وژن 2030 کا حصہ ہے جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر زرعی فارمز قائم کئے جارہے ہیں۔

حالیہ چند برسوں میں سعودی عرب میں بارشوں کی کثرت اور غیر متوقع برف باری سے بھی موسم میں تبدیلیوں کے واضح آثار سامنے آرہے ہیں۔ 2008 میں جدہ میں بھی تباہ کن بارشوں سے 230 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، ہزاروں گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں اور سیکڑوں مکان زیر آب آگئے، سعودی حکومت نے اس کےبعد انقلابی اقدامات کئے اور اب یہ علاقے سبزہ زاروں کا منظر پیش کررہے ہیں۔ سعودی حکومت نے قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کے لئے 4155 مربع کلو میٹر رقبے پر محیط معدومیت کے خطرے سے دوچار ایک سو نایاب درختوں کو تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ولی عہد کی قیادت میں سعودی عرب اپنے اہم قائدانہ کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ” گرین مشرق وسطی” مہم کےلیے خلیج تعاون کونسل میں شامل اپنے بردار ممالک کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں 40 بلین اضافی درخت لگانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ منصوبے کا ہدف 50 ارب درخت ہیں جودنیا میں شجر کاری کا سب سے عظیم منصوبہ ہوگا، یہ پروجیکٹ ساحلی خطے میں "گرینڈ گرین وال ” کے حجم سے بھی دُگنا ہے۔

ان اقدامات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہےکہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی سلطنت کے نوجوانوں کو واضح روڈ میپ دے دیا ہے۔ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود سعودی عرب کے لئے سرسبز مستقبل کے سفر کا آغاز کافی مشکل مرحلہ ہے، لیکن ولی عہد کا عزم اور ویژن دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ یہ منزل حاصل کر لیں گے۔ یہ اطلاع بھی میرے لئے بہت اطمینان بخش ہے کہ سعودی حکومت سرسز اہداف کے حصول کے لے لئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گی ۔

یہ امر بھی قابل مسرت ہےکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم عمران خان اٗمت کو لیڈ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی خاطر مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اور مغرب میں اسلامی ممالک کے خلاف یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ اسلامی ممالک میں تعلیم اور تحقیق نہیں اور اسلامی دنیا جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئےعالمی برادری کے شانہ بشانہ کام نہیں کر رہی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے نام خط میں وزیراعظم عمران خان نے اُن کے”گرین سعودی عرب” اور”گرین مڈل ایسٹ” انیشیٹیو کی تعریف کی ہے ۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیر اعظم کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی”گرین مڈل ایسٹ انیشیٹیو سمٹ” میں شرکت کی دعوت دی ہے جس کو وزیر اعظم پاکستان نے قبول کر لیا ہے۔

اکتوبر میں ہو نے والی اس کانفرنس کے ذریعے مغرب اور امریکا میں مسلم ممالک کے باہمی تعاون کا تشخص مزید بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کے وزیربرائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی بھی جدید سوچ کے ساتھ چلنے والےجید عالم ہیں جو کلائمنٹ چینج اور سائبر سیکورٹی جیسے مسائل مل کر حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

سعودی مملکت قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ سعودی عرب بحرِ احمر کی جانب صحرا کے آخری حصے میں نیوم نامی مستقبل کا جدید شہر بسانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہاں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیل یا پٹرول نہیں بلکہ نئے قسم کے ایندھن کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ پلانٹ چار گیگا واٹ توانائی سے چلتا ہے جو شمسی توانائی اور پن بجلی کے ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔ اس کو دنیا کا سب سے بڑا گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب پر اُمید ہے کہ گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ کامیابی سے ہمنکار ہوگا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کی دور اندیشی کے تحت "گرین سعودی عرب” پروجیکٹ سے ایک طرف ماحول صاف ستھرا ہوگا تو دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس وقت ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کرنے والی شخصیات، ملک اور ادارے شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کا سراہا رہے ہیں اور سعودی منصوبوں کا عالمی سطح پر زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

عالمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی کاوش رنگ لائے گی ، انہوں نے”گرین سعودی عرب” کا جو خواب دیکھا ہے،ا نتھک محنت سے اس کی تعبیر حاصل کر لیں گے۔ "گرین سعودی عرب” نہ صرف اپنے ملک بلکہ خطے اور پوری دنیا میں ایک مثال بن کر ابھرے گا اور انقلاب لے آئے گا۔

تحریر: اسوہ زینب

تبصرے بند ہیں.