شہباز تتلہ قتل کیس، ملزم مفخر عدیل کی درخواست ضمانت خارج

165

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق ایس ایس پی مفخر عدیل کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی ہے اور کہا ہے کہ ملزم کے خلاف قتل کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ 
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ کے قتل کے ملزم سابق ایس ایس پی مفخر عدیل کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ملزم کے خلاف گواہان نہیں ہیں مگر ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق ملزم سابق ایس ایس پی مفخر عدیل سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ملزم پی ایس پی افسر ہے جس نے قتل کے مفروری اختیار کی۔ ملزم مفخر عدیل نے دوران سماعت اپنی ضمانت کی درخواست واپس لے لی جس پر عدالت نے درخواست خارج کر دی۔ 
واضح رہے کہ شہباز تتلہ رواں سال سات فروری کو اسلام آباد سے ایک دوست کے ساتھ لاہور پہنچے تھے لیکن لاہور پہنچنے سے پہلے ہرن مینار شیخوپورہ پر ان کا فون بند ہوگیا تھا اور ان کی فون پر آخری بار بات بھی ان کے بھائی سجاد تتلہ سے ہی ہوئی تھی۔

لاہور پہنچنے کے بعد جمعہ کی ہی شام مقتول اپنے آفس کے لا کر میں اپنے دونوں فونز، گاڑی کی چابیاں، گھڑی اور اپنا پرس رکھ کے باہر نکلتے ہیں اور ملازمین کو بتایا کہ وہ بہت جلد واپس آرہے ہیں۔ 
ان کے دفتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز تتلہ بہت تیزی سے دفتر کی سیڑھیاں اترتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں اور پھر دوبارہ واپس نہیں آتے۔اگلے دن ان کی گمشدگی کی رپورٹ جمع کروائی گئی اور تقریباً ایک ماہ بعد ملزم مفخر عدیل نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنے دوست کو قتل کر دیا ہے۔
مفخر عدیل کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے بدوملہی جبکہ شہباز کا تعلق اسی ضلع کے رانا گاؤں سے تھا۔ یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اور مفخر شہباز تتلہ کے قتل کے بعد روپوش رہے اور ٹھیک ایک ماہ بعد منظر عام پر آئے تھے اور اس وقت وہ شریک ملزم اسد بھٹی کے ہمراہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اپنے ابتدائی بیان میں ملزم نے بتایا کہ انہیں کچھ ماہ قبل پتہ چلا کہ مقتول 2012ءمیں ان کی سابقہ اہلیہ کو، جنہیں وہ کچھ سال قبل طلاق دے چکے تھے، ریپ کرتے رہے ہیں اور اب انہوں نے ملزم کی موجودہ بیوی کو بھی ریپ کرنے کیلئے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا ہے، چنانچہ انہوں نے شہباز کو قتل کرنے کیلئے کچھ ماہ قبل سے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔

تبصرے بند ہیں.