انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان شخص پر تشدد، زبردستی ”جے شری رام” کے نعرے لگوائے

145

بھوپال: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے دیواس کے بعد اب مذہبی شہر اجین میں ایک کباڑی کا کام کرنے والے مسلمان شخص سے زبردستی ”جے شری رام” کے نعرے لگوانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق ہندوؤں کے ظلم کا نشانہ بننے والے اس مسلمان شہری کا نام عبدالرشید بتایا جا رہا ہے۔ یہ شخص کسی کام سے اس گاؤں میں آیا تھا کہ اچانک وہاں موجود ہندوؤں نے اس پر بہیمانہ تشدد شروع کر دیا۔

انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ ہمارے گاؤں میں گھسے، انہوں نے عبدالرشید کو دھمکی دی کہ اسے آئندہ یہاں دیکھا گیا تو جان سے مار دیا جائے گا۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دونوں ملزموں کو عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اس معاملے پر انڈین میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس حکام نے کہا کہ ملزموں کیخلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 505 (2)، 506 اور 153 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

انڈین پولیس کے اے ایس پی آکاش بھوریا نے بتایا کہ اس واقعے میں 4 لوگوں کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان میں سے دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ دیگر ملزم فرار ہیں جن کی جلد گرفتاری کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر وشواس سارنگ کا کہنا ہے کہ پولیس اس معاملے میں اپنا کام کر رہی ہے لیکن کانگریس ماحول بگاڑنے والے ایسے واقعات کو جان بوجھ کر ہوا دیتی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اجین شہر سے 60 کلومیٹر دور مہدپور تحصیل کے گاؤں پپلیادھوما پھنٹے کا ہے۔ یہ علاقہ جھارڈا تھانہ علاقہ میں آتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھگوا جھنڈا لئے کچھ لوگ کباڑی کا کام کرنے والے عبدالرشید کو گھیرے ہوئے ہیں۔

اس دوران عبدالرشید سے مذہبی قسم کے سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ تم لوگ یہاں گھسے کیسے ہو؟ کچھ لوگ متاثرہ شخص کا سامان بھی پھینک رہے ہیں اور اس سے جبراً نعرے لگوا رہے ہیں۔

دھمکی اور خوف میں مبتلا یہ مسلمان شخص جے شری رام کے نعرے لگانا شروع کر دیتا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہے۔ اس ویڈیو کے بعد انتظامیہ میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

تبصرے بند ہیں.