دریائے والگا کے کنارے صدیوں سے آباد شہر تالیاتی، جدید اور قدیم کا امتزاج

120

ماسکو: روس کے مہیب دریا والگا کے کنارے زمانہ قدیم سے ہی مختلف اقوام اور مختلف عقائد کے حامل لوگ رہتے رہے ہیں۔ آج کے تاتاروں اور بشکریریوں کے اجداد بولگار آٹھویں صدی میں یہاں پہنچے تھے اور اپنی ریاست بولگاریہ کی بنیاد رکھی۔

دسویں صدی میں جب بولگاریہ پر خان الموش کی حکمرانی تھی تو ریاست بولگاریہ نے سرکاری طور پر مذہب اسلام قبول کر لیا تھا۔

ریاست بولگاریہ میں دریائے والگا کے کنارے قائم شہر تالیاتی روس میں کاروں کی صنعت کا مرکز رہا ہے اور یہاں ہی معروف روسی کار لاڈا فییٹ تیار کی جاتی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تالیاتی کی آبادی سات لاکھ افراد ہے جن میں تیس ہزار تاتار ہیں جو روایتی طور پر مذہب اسلام پر کاربند ہیں۔ لیکن تالیاتی میں صرف یہی لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اس شہر میں بشکیر بھی کچھ کم نہیں جو تاتاروں کی طرح قدیم زمانے سے والگا کے کنارے پر بسنے والی قوم ہے۔

سوویت یونین ختم ہونے کے بعد تالیاتی میں کام کرنے کی غرض سے آذربائیجانی، تاجک، ازبک، کرغیز، ترکمان، کزاخ، چیچن اور داغستانی بھی بڑی تعداد میں گاہے بگاہے آتے رہے ہیں۔ آخری دنوں میں ایسے روسی بھی کم نہیں جو روایتی طور پر عیسائی ہیں مگر اسلام قبول کر رہے ہیں اور قدیم مسلمان لوگوں کے ساتھ مسجدوں میں آتے ہیں۔

تالیاتی میں جامع مسجد نئی تعمیر کی گئی ہے۔ 1990 کے عشرے میں شہر کے مرکزی خطے میں اس کی بنیاد، قدامت پسند کلیسا کے نمائندوں کی موجودگی میں رکھی گئی تھی۔

آج اس مسجد میں بیک وقت تین ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں مسلمانوں کی آبادی والے شہر میں یہ ایک مسجد ناکافی ہے۔ اس لیے تالیاتی کے دوسرے حصوں میں بھی نماز پڑھنے والوں کے لیے کئی مقامات کا انتطام کیا گیا ہے۔

تالیاتی کے باسیوں کے لیے بھی ، دوسری جگہوں پر رہنے والے مسلمانوں کی طرح رمضان کا مہینہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ نماز تراویح پڑھنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ بہت دلجمعی کے ساتھ مشترکہ افطار کا بندوبست کرتے ہیں۔ مسجد میں قرآن اور نمازیں پڑھتے ہوئے رمضان کا مقدس مہینہ بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ مسلمان اعزاء اور اقرباء کے درمیان عید کا تہوار منائے جانے کے دن مہمان نوازی میں گزرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر ”جانیے روس کے بارے میں” کے فیس بک پیج سے لی گئی ہے

تبصرے بند ہیں.