جماعت اسلامی… منزل کہاں ہے تیری

158

آج برصغیر پاک و ہند کی ممتاز دینی و سیاسی جماعت اور عہد حاضر میں احیائے اسلام کی سب سے بڑی تحریک جماعت اسلامی کا جس کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالم مغرب کے اندر جہاں جہاں خاص طور پر برصغیر سے تعلق رکھنے والے مسلمان آباد ہیں میں پھیلے ہوئے ہیں یوم تاسیس ہے… 1941 میں اپنے قیام کے وقت متحدہ ہندوستان میں جماعت کو واحد تنظیم کے طور پر وجود میں لایا گیا… قیام پاکستان کے فوراً بعد یہ فطری طور پر دو حصوں میں بٹ گئی… 1971 میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت کی جماعت اسلامی پاکستان کے بھی لامحالہ دو ٹکڑے ہو گئے… تینوں کا سیاسی و دعوتی پروگرام اگرچہ اپنے اپنے ملک کے حالات کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ ہو گیا مگر ان کی نظریاتی اساس ایک ہے… دوسرے الفاظ میں تینوں مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے تخلیق کردہ عہد حاضر کے ذہن ساز اسلامی احیائی لٹریچر کے سرچشمے سے فیض یاب ہوتی ہیں… اگرچہ آج کی معروضات میں ہمارا موضوع جماعت اسلامی پاکستان ہے … اس لیے کہ ہم اہل پاکستان کے لئے اولین اہمیت کی مالک ہمارے اپنے وطن میں سرگرم جماعتی تنظیم ہے… اور اس وجہ سے بھی کہ بانی جماعت قیام مملکت کے فوراً بعد پاکستان تشریف لے آئے تھے… یہیں فروکش ہو کر انہوں نے اپنی وفات ستمبر 1979 تک یعنی بتیس سالوں میں اپنی جماعت کی براہ راست رہنمائی کی… جماعت کا ایک امتیاز یہ ہے اس نے اپنی زندگی کی آٹھ دہائیوں کے دوران داخلی وحدت کو پوری طرح قائم رکھا ہے… متحارب ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی… پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش تینوں ملکوں میں اس کا تنظیمی ڈھانچہ مستحکم اور پوری طرح متحرک ہے… دوسرا وصف اس جماعت کا اپنی معاصر سیکولر سیاسی اور دینی تنظیموں کے مقابلے میں یہ ہے اس کی قیادت موروثی نہیں پاکستان میں دہلی کے ایک سید خاندان سے تعلق رکھنے والے بانی جماعت کی زندگی میں ان کے نائب اور مشرقی پنجاب کے آرائیں گھرانے کے چشم و چراغ اور سراپا اخلاص و تقویٰ میاں طفیل محمد اپنے قائد کے جانشین منتخب ہو گئے… انہوں نے اپنی امارت کی دو آئینی مدتیں گزار لیں تو ارکان جماعت نے صوبہ خیبر پختونخوا  پُرعزم، باہمت اور جذبہ شہادت سے سرشار پٹھان قاضی حسین احمد کو امیر کے طور پر چن لیا… قاضی صاحب مرحوم بھی دو مرتبہ اپنے منصب پر فائض رہنے کے بعد ریٹائر ہو گئے اور دہلی ہی کے ایک اور سید خاندان کے نورچشم جن کی جوانی پر رشک آتا تھا اور جن کے اندر اقامت دین کا ٹھاٹھیں مارتا جذبہ موجزن رہتا تھا سید منور حسن کو قیادت کا اعزاز حاصل ہوا… مرحوم بوجوہ ایک مرتبہ امیر منتخب ہو سکے… ان کی جگہ لینے والے اور صوبہ خیبرپختونخوا جوانوں کی سی پھرتی رکھنے والے سراپا اخلاص محترم سراج الحق اس وقت اپنی دوسری آئینی مدت پوری کر رہے ہیں… یوں جماعت اپنے عظیم بانی کے وضع کردہ اسلامی شورائی نظام اور اس کی روشنی میں امیر کے چنائو کے طریق کار پر پوری طرح عمل پیرا ہے… اس کے اندر کوئی شخصیت یا قائد ناگزیر حیثیت نہیں رکھتا… جماعت نے اپنے بانی کی میراث کو اس طرح بھی جاری و ساری رکھا ہے کہ اس کا شعبہ خدمت خلق پوری تنظیمی قوت اور حرکیات کے ساتھ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے… غریب اور نادار مریضوں تک علاج کی فوری اور جدید ترین سہولتیں بہم پہنچانے کی خدمات جس جذبے مستعدی اور خلوص نیت سے سرشار کیفیت میں ڈوب کر جماعت کے اس شعبے کے ذمہ داران اور کارکنان سرانجام دیتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی… اس شعبے کے حوالے سے انہوں نے ملک بھر میں ایسی ساکھ قائم کی ہے کہ جماعت سے اختلاف رکھنے والے اہل خیر کی ایک معتد بہ تعداد بھی ان پر اعتماد اور اعتبار کرتی ہے… ان کی بہترین کارکردگی کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں… مولانا مودودی نے جماعت کی دینی و سیاسی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ خدمت خلق کی اس شاندار روایت کا بیج بویا تھا جو آج پوری آن بان اور مہنگے علاج کی سہولتوں کے ساتھ اور بہت منظم طریقے سے مستحق مریضوں کے زخموں پر پھاہا رکھنے کا کام سرانجام دے رہی ہے…
لیکن دور حاضر کی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کا اصل وصف اس کا نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جانا ہے… اس کا تنظیمی ڈھانچہ بیسویں صدی کے ایک عالی دماغ دینی سکالر نے اپنے شاندار اور مؤثر لٹریچر کے ذریعے اسلام کے جامع نظام زندگی کا تصور دے کر اور دور جدید کے اندر اس کی عملیات واضح کر کے کھڑا کیا تھا… یوں نہ جماعت نے روایتی جاگیرداری کی کوکھ سے جنم لیا نہ پرانی وضع کی مذہبی تنظیموں کی مانند کسی خاص فرقے کے علماء کے سیاسی پلیٹ فارم کی شکل میں وجود میں آئی… یوں نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے روایتی فرقہ پرستی کے بندھنوں سے آزاد ایک مفسر قرآن و شارح سنت کے قلم نے جماعت کو احیائے اسلام کا شعور اور جذبہ زندہ کرنے والی حرکی قوت کے طور پر پیش کیا… مغربی مفکرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے دینی فکری استدلال کے ذریعے دورحاضر میں اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا… ان کے تصورات کو رائج دینے کے لئے تنظیم بنائی اعلیٰ درجے کی کارکن سازی کی… اسلامی تصور سیاست و معیشت اور سماجی اقدار کے فروغ اور نفاذ کے لئے دینی و سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا… پاکستان میں انتخابات کے اندر بھرپور حصہ لینے کو اپنے لئے راہ عمل تجویز کیا اور اس پر پوری دلجمعی کے ساتھ چل نکلے… اس طرح ملکی سیاست میں اپنا منفرد مقام منوایا… صف اوّل کے سیاسی رہنما اور چوٹی کے دینی مفکر کہلائے… عالم عرب کے اندر ان کے لٹریچر نے عربی زبان میں منتقل ہو کر اپنی فکری اصابت کو منوایا… وہاں کی سب سے بڑی دینی تحریک الاخوان المسلمون کے ساتھ فکری ہم آہنگی پیدا کی… مغربی دنیا میں ان کی کتابیں انگریزی ترجمہ کے ساتھ متعارف ہوئیں تو وہاں نئے اسلامی مفکر کی حیثیت سے زیربحث آنا شروع ہوئے… یہ ہے وہ فکری اور عملی اثاثہ جس کی بنیاد پر جماعت اسلامی کو پاکستان کی دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں نوزائیدہ ریاست کے اندر کئی طبقوں کی سخت مخالفت کے باوجود منفرد اور قابل ذکر مقام ملا… آج جو جماعت اسلامی اپنے بانی کی وفات کے 32 برس اور قیام کے 80 سال بعد بھی پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں کی صف میں نمایاں مقام رکھتی ہے تو اس وقت بھی اس کا سب سے بڑا اثاثہ مولانا مودودی کی زندہ و توانا فکر ان کا نوجوان نسل کے دماغوں کو تسخیر کرنے والا اور دلوں کو متاثر کرنے والا لٹریچر ہے … یا مولانا مرحوم کی شخصیت ہے جو اپنی نظریاتی و سیاسی جدوجہد کے دوران عزم و ہمت کا پہاڑ بنے رہے… پھانسی کی سزا کا اعلان ہوا… جیلیں کاٹیں… مخالفین کے طعنے برداشت کئے…
اتنے شاندار پس منظر کے ساتھ جماعت اپنے 80ویں یوم تاسیس پر کہاں کھڑی ہے اس پر نگاہ ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے… احیائے دین کا مشن کتابوں میں بند ہو کر لائبریریوں کی زینت بن گیا ہے… ووٹ بنک باقی نہیں رہا… سٹریٹ پاور نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور جہاد افغانستان کے ثمرات کوئی اور سمیٹ رہا ہے… 1970 میں ملک کے اندر پہلے عام اور ملک گیر انتخابات ہوئے… جماعت پورے نظریاتی اسلحے اور بہترین تربیت یافتہ کارکنوں کی کھیپ کے ساتھ میدان میں اتری… اکثر نشستوں پر پُرزور مقابلہ کیا… کامیاب نہ ہو پائی… مشرقی پاکستان میں صفایا ہو گیا… مغربی پاکستان میں چار نشستیں حاصل کیں… مجیب اور بھٹو کے ساتھ مقابلہ تھا… دونوں صوبوں میں اپنے اپنے حالات کے تناظر میں اس کی سخت نظریاتی جنگ بپا ہوئی… جماعت یقینا ہار گئی… مگر مغربی پاکستان کے پیشتر شہروں میں اسے ووٹوں کے شمار کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر کامیابی ملی… ایک ووٹ بنک تھا جس کا وجود محسوس کیا جاتا تھا… کراچی جیسے ملک کی پڑھی لکھی آبادی پر مشتمل سب سے بڑے صنعتی و کاروباری مرکز کو تو اس نے فتح کر لیا… جماعت کو شکست کے باوجود بڑا مقام ملا… اس کی شرکت کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہ ہو سکتی تھی…1977 میں جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انتخابی مقابلے کا مرحلہ آیا… اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد قائم کیا… جماعت اس کی روح رواں تھی… انتخابات میں اگرچہ دھاندلی ہوئی نتائج تسلیم نہ کئے گئے اس کے باوجود جماعت فاتحین میں سے تھی… کراچی اور حیدرآباد میں ریکارڈ ووٹ ملے… ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی قابل لحاظ کارکردگی تھی… دھاندلی کے خلاف نظام مصطفی کی تحریک چلی تو جماعت کی شرکت کے بغیر ایک جلسہ یا جلوس کامیاب نہیں سمجھا جاتا تھا… جماعت اسلامی کی سٹریٹ پاور کے چرچے زبان زد عام تھے… ہر کوئی اس کے سیاسی طنطنے اور دبدبے سے مرعوب تھا… پھر ضیاء الحق کا مارشل لا آ گیا… وہ وقتی مصلحت کے تحت اسلامی نظریاتی رنگ لیے ہوئے تھا… چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مولانا مودودی کے اقوال تک دہراتے تھے… جماعت یوں کہئے کہ اس کی اسیر بن کر رہ گئی جعلی ریفرنڈم میں ووٹ تک دے ڈالا اور پھر افغان جہاد میں کود پڑی… کہانی طوالت پکڑتی جا رہی ہے… ضیاء الحق کے مارشل لاء کا سایہ اور افغان جہاد جہاں جماعت کے لئے نت نئی اٹھانوں کا باعث بنا وہیں اس کے سیاسی و انتخابی زوال کا نکتہ آغاز بھی ثابت ہوا… دونوں میدانوں میں جماعت نے غیرعلانیہ طور پر اور غیرمحسوس طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کی راہ پر چلنا شروع کر دیا… سیاسی میدان میں اسٹیبلشمنٹ کے قائم کردہ اسلامی جمہوری اتحاد کی باگیں اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھی… مگر اس کی کوکھ سے نوازشریف جیسا لیڈر عوامی مقبولیت کا چولا پہن کر برآمد ہوا… اس نے اسٹیبلشمنٹ سے بغاوت کی تو جماعت نے بھی نواز سے علیحدگی اختیار کر لی… اس کی مخالفت پر ڈٹ گئی… اس کے بعد نوازشریف نے انتخابات ہارے بھی اور جیتے بھی… تین مرتبہ وزیراعظم بنا اور برطرف بھی ہوا… ایٹمی دھماکہ کیا… موٹروے نیز سی پیک جیسے ترقیاتی کام شروع کر کے نام کمایا اور کرپشن کی بدنامی بھی مول لی… اس وقت لندن میں جلاوطنی کے عالم میں اپنے تئیں چوتھی باری کے انتظار میں بیٹھا ہے… دنیوی سیاستدان اس طرح کے نشیب وفراز کی منزلوں سے گزرتے رہتے ہیں تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ووٹ بنک آج بھی اس کا مضبوط تر ہے… مقبولیت میں کسی سے پیچھے نہیں… مگر جماعت کہاں کھڑی ہے… اس کا ووٹ بنک نچلی ترین سطح پر جا گرا ہے… سٹریٹ پاور نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی… اس کی وجہ نوازشریف کی مخالف ہرگز نہیں بلکہ جماعت کے اپنے لائحہ عمل کا نظریاتی اور عملی دونوں لحاظ سے غیرموثر ہو کر رہ جانا ہے…  
افغان جہاد میں جماعت نے اپنے نظریاتی سرمائے کے بل بوتے پر اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ اور کھلی رہنمائی جو قربانیاں دیں وہ ڈھکی چھپی نہیں… لیکن آج جب یہ جہاد طالبان کی فتح کی صورت میں برگ و بار لاتا نظر آ رہا ہے جماعت کہیں نظر نہیں آتی… طالبان اس کی قیادت سے رسمی مشاورت تک نہیں کرتے اور جہادی دور کے بچے کھچے افغان گوریلا جہادی گلبدین حکمت یار آج کے افغانستان میں دوسرے یا تیسرے درجے کے لیڈر سے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے… کشمیر کے جہاد میں بھی جماعت اور اس کی حامی مجاہد تنظیمیں پورے جوش و خروش اور جذبہ شہادت سے سرشار ہو کر آزادی کی گوریلا جنگ میں داد شجاعت دیتی رہیں… آج عالمی پابندیوں کے زیراثر آ کر پاکستان کے خفیہ اداروں نے جہادی قوتوں کی خفیہ امداد سے ہاتھ اٹھا لیا ہے تو جماعت کا جہاد کشمیر بھی بے دست و پا ہو کر رہ گیا ہے… آزادی کشمیر کے سیاسی پلیٹ فارم پر ایک علی گیلانی کی ذات گرامی پورے ولولے اور جذبات کی فراوانی کے ساتھ باقی رہ گئی ہے… مگر اس پیرانہ سالی میں یہ عظیم مجاہد اور قابل قدر کشمیری رہنما کب تک اپنے کارکنوں کا سہارا بنا رہے گا… اگرچہ طالبان کی کامیابی نے کشمیری کارکنوں کو ایک نئی مہمیز دی ہے… میں نے 1991 میں افغان جہاد کے اختتام اور کشمیر میں جہاد کے موجودہ دور کے تقریباً آغاز پر اسلام آباد میں محترم پروفیسر خورشید احمد سے ایک انٹرویو کیا تھا… جسے بہت زیادہ کانٹ چھانٹ کے بعد چھاپا گیا… اس میں پروفیسر صاحب سے میرا سوال تھا کہیں ایسا تو نہیں ایجنسیاں جہاد کو اپنے رخ پر قائم رکھنے کی خاطر جماعت وغیرہ کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہیں… اگر بیرونی دبائو بڑھایا ان کے وقتی مصالح کا تقاضا ہوا تو اس جہاد سے ہاتھ اٹھایا جا سکتا ہے… آج کشمیر میں جماعت اور دوسری جہادی تنظیموں کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے… حقیقت یہ ہے فیصلہ سازی کے عمل میں جماعت کے کردار پر اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ مشاورت نے جماعت والے مانیں یا نہ مانیں جماعت کی سیاسی پالیسیوں اور جہادی کردار دونوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں… مولانا مودودی کے زمانے میں جماعت اسٹیبلشمنٹ کی پُرزور مخالفت اور مخالفین کی جانب سے طعن و تشنیع کے تیروں کی مسلسل بارش کے باوجود کتنی موثر تھی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1966 میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے سید قطب شہید کو پھانسی کی سزا دی تو ذرائع ابلاغ کے پرنٹ میڈیا تک محدود ہونے کے باوجود پورا پاکستان ہل کر رہ گیا تھا… زبردست احتجاجی لہر اٹھی تھی… اس کے برعکس دو برس قبل ان کے جانشین محمد مرسی کو اسی طرح موت کی سزا دے کر جنرل السیسی جیسے سفاک ڈکٹیٹر نے شہادت کے رتبہ پر فائز کیا گیا تو میڈیا کی ہمہ گیری کے باوجود پاکستان سے وہ ردعمل نہ اٹھا جس نے سید قطب کی شہادت پر جنم لیا تھا اور جنگ سویز کے فاتح جمال عبدالناصر کو ہیرو سے ولن بنا دیا… آخر کوئی تو سبب ہے اس کا…

تبصرے بند ہیں.