غسل کعبہ کی پر نور تقریب ،جانتے ہیں غسل کعبہ کی روایت کیا ہے ؟

150

نئے سال پر غسل کعبہ کی پر نور تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شہزادہ خالید الفیصل نے غسل کعبہ کا فریضہ انجام دیا ۔

ہر سال نئے سال کے آغازپر غسل کعبہ کا اہتمام کیا جا تا ہے ،کعبہ کی دیواروں کو عرق گلاب اور آب زم زم سے دھویا گیا ،  غسل کعبہ کی تقریب  میں اس سال بھی   کورونا وبا کے باعث سخت احتیاطی تدابیر پر عمل کیا گیا ۔

واضح رہے  خانہ کعبہ کو غسل دینے کی تقریب سال میں دو مرتبہ ہوتی ہے، ایک  شعبان اور دوسری بار  محرم الحرام میں غسل دیا جاتا ہے۔

غسل کعبہ کو حضور اکرم ﷺ کی سنت کے طور پر ہر سال دہرایا جاتا ہے،جب 8 ہجری میں فتح مکہ کے روز رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے بیت اللہ کی چابی لی جائے۔

اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو کھولا اور اس میں داخل ہو کر اندر موجود تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور خانہ کعبہ کو آب زم زم سے دھویا۔ اس کے بعد 2 رکعت نماز پڑھی ، غسل کعبہ حضور اکرم ﷺ کی اسی سنت کے طور پر انجام دیا جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.