امریکہ نے افغانستان کے سیاسی حل کیلئے پاکستان اور چین سے مدد مانگ لی

144

واشنگٹن: امریکہ نے افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور فریقین کے درمیان تصفیے کیلئے پاکستان اور چین کی جانب سے مدد کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں سیاسی تصفیے کیلئے پاکستان اور چین سے مدد مانگ لی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ تمام پڑوس ممالک افغانستان میں استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کریں، یہ سب کے مفاد میں ہے۔ 
نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکہ امن کیلئے افغانستان کے تمام پڑوسیوں سے رابطے میں ہے اور ہم نے افغانستان کے تمام پڑوسیوں بالخصوص پاکستان اور چین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیاسی تصفیے کیلئے امریکہ کی مدد کی جائے کیونکہ یہ عمل سب کے مفاد میں ہے۔ 
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ چاہے پاکستان ہو یا چین، یا پھر ایسے تمام ممالک جن کا افغانستان میں کوئی نہ کوئی کردار رہا ہے ، ہم نے ان سب کے ساتھ تعمیری گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا حالانکہ جب چین کی بات آتی ہے تو ہمارے مفادات بہت کم ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان سے ملحقہ ممالک کو بھی ایک خاص چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری پناہ کیلئے پڑوس ممالک جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی 5 سے 7 لاکھ افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جس کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 
دوسری جانب قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ، نائب امیرملا عبدالغنی برادر افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں جہاں وہ حکومت سازی سے متعلق مشاورت کریں گے۔ 
افغان طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادر کابل پہنچ چکے ہیں اور طالبان رہنماءملا خیر اللہ خیرخواہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ ملاعبدالغنی برادر افغانستان میں جامع حکومت کی تشکیل کیلئے جلد مشاورت شروع کر دیں گے اور طالبان رہنماؤں کیساتھ ساتھ افغان سیاستدانوں کیساتھ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ طالبان کے شریک بانی اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر چند روز قبل ہی 20 برس بعد قندھار پہنچے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.