افغانستان کی بدلتی صورتحال،وزیر اعظم عمران خان کے عالمی رہنمائوں سے رابطے 

147

کابل:ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کو فتح کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا 20 سال جہدو جہد کے بعد آج ہم آزاد ہو گئے ،غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر نکال دیا ،آج کے بعد اسلامی امارات افغانستان کسی ملک سے دشمنی نہیں رکھے گا ۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عظیم فتح پر اللہ کا شکر ادا کرتےہیں ،افغانستان کی فتح ہماری نہیں پوری قوم کی فتح ہے ،ہم تکبر نہیں امن کی بات کر رہے ہیں ،سخت مزاحمت کے بعد قابضین کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ،انہوں نے اسلامی امارات افغانستان آج کے بعد کسی ملک کیساتھ دشمنی نہیں رکھے گی ،اسلامی امارت کی حکومت کیلئے مشاورت جاری ہے ۔

ترجمان طالبا ن نے پوری دنیا کے ساتھ ملکرچلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انسانی حقوق سے متعلق خدشات دور کر دیے،واضح کر دیا کہ،اسلامی امارات افغانستان آج سے کسی سے دشمنی نہیں رکھے گا،پاکستان ،روس اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن کسی بلاک کا حصہ نہیں بن رہے ،افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے،دنیا کے کئی ممالک سے رابطہ کر لیا ہے،دنیا کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کابل میں داخل ہوتے ہی کوئی خون خرابہ نہیں ہو ا ،کسی شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ،افغان شہریوں سمیت تمام غیر ملکیوں کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر کسی غیر ملکی کو تحفظات ہیں تو ہمیں آگاہ کریں ،ذبیح اللہ مجاہد نے کہا آزادی ہمارا حق تھا جو ہم نے حاصل کر لی ہے ۔

ذیبح اللہ مجاہد نے مزید بات کرتے ہوئے کہا افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے ،اسلامی قوانین کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دئیے جائینگے ،پریس کانفر نس میں ذبیح اللہ مجاہد نے اہم انکشاف کرتے ہوئےکہا کہ ہمارا کابل میں داخل ہونے کا کوئی اراد ہ نہیں تھا ،کرپٹ حکمران وقت سے پہلے بھاگ گئے تھے ،لوٹ مار شروع ہوئی تو ہمیں کابل کی طرف بڑھنا پڑا ۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ سربراہ افغان طالبان کے کہنے پر عام معافی کا اعلان کیا گیا ،کسی کیخلاف دشمن پالیسی نہیں رکھتے ،طالبان کوئی انتقام نہیں لینگے ،،افغان سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔

ذبیح اللہ مجاہد نے پوری دنیا کو کلیئر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھنگ کی کاشت کیلئے افغانستان کو مرکز نہیں بننے دینگے ،میڈیا کو افغانستان میں بھر پور کردار ادا کرنے کی اجازت ہے ،لیکن اسلامی روایات کے منافی کچھ نہیں چلے گا ،ہنر مند افراد اپنے ملک میں رہیں اور افغانستان کی مدد کریں ،خواتین شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں ۔

تبصرے بند ہیں.