ا ے امیرطالبان۔ بچیوں کی پکار سنو

59

سر پر گلابی رنگ کا اسکارف ، شوں شوں کرتی ناک،تیز دھوپ میں جلتی آنکھیں، بھاری سا اسکول بیگ، مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑا ہوا روٹی کا سخت سا ٹکڑاجو صبح سویرے ماما نے اسکول جاتے ہوئے دیا تھا، مین سڑک سے قدرے ہٹ کر پگڈنڈی پرخاموشی ہے، یہی راستہ گل بانو کے اسکول آنےجانے کا ہے۔جوکابل سے کچھ دور ایک گاؤں میں رہتی ہے،گل بانو بھاری بیگ کے باوجود اچھلتی کودتی گھر آجاتی ہے۔
گل بانو کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اُس کے گھر کے قریب ہی 20 سال بعد صدارتی محل پر اب کس کا کنٹرول ہے؟ وہاں کس کا جھنڈا اتر گیا ہے اورکس کاجھنڈا لہرا دیا گیا ہے، بیس سال سے اس کی حسین سرزمین پررہنے کے بعد ایک سپر اور جدید ترین ملک امریکا واپس چلا گیا ہے، بڑی طاقتیں اب کیا سوچ رہی ہیں؟
گھر پہنچ کر گل بانو نے واجبی سا ہاتھ منہ دھویا اور کھانا کھانےبیٹھے گئی، بس پھر کیا تھا، کھانا بھول کر اپنی دوستوں کی خوب شکایتیں لگانے لگی، امی بار بار اُس کا منہ چومتیں اورموقع پا کر چھوٹا سا نوالہ بھی اُس کے منہ میں ڈال دیتیں۔
گل بانوکھانے کے دوران ہی اُٹھ کھڑی ہوئی اور صحن میں ہتھوڑی سے زنجیر توڑتے اپنے بھائی گل محمد کی طرف اشارہ کر کے امی سے کہنے گی،آج کل ہمارے اوپر سے بہت جہاز اڑتے ہیں ناں امی، ٹیچر کہہ رہی تھیں کہ بچےلائق ہوں تو ایسے جہاز وہ بھی اڑا سکتے ہیں، یہ گل (گل بانو کا بھائی) سارا دن گلی میں کھیلنے کے بجائے اسکول جائے تو بڑا ہوکرجہاز اڑاسکتا ہے۔اس معصوم سی خواہش پر اُس کی امی نے گل بانو کی پونی سے پکڑکراس کا سرجھٹکا اور کہا کہ بس کر ، اب کھانا کھا۔ اور ہنس کر کہنے لگیں، جانے وہ کون سا زمانہ ہو گا کہ تیرا بھائی جہاز اُڑائے گا۔
مذاق میں کہتے ان الفاظ کے ساتھ ہی گل بانو کی امی کےدل نے ہکچولا کھایا اور سچ مچ شدید خواہش اور احساس پیدا ہو اکہ وہ رہے نہ رہے، لیکن اس کی بیٹی پائلٹ ضرور بنے۔ شام کو گل بانو کے ابو کام سے واپس آئے تو اس کی امی نے انہیں کٹورےمیں پانی دیتے ہوئےساری بات سامنےرکھ دی۔
گل بانو کا ابو سرکاری اسکول میں ملازم ہے۔وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگا، یہاں تواسکول ہی پانچویں تک ہے۔گل بانو کو میں پڑھنے کےلئےکہیں بھی بھیج سکتاہوں۔اوروہ پھر خاموش ہوگئے
یہ صرف گل بانو کی کہانی ہے نہ صرف تنہا اس کے والدین کی دبی ہوئی خواہش، افغانستان کے طول و عرض میں لاکھوں والدین یہ سوچتے ہیں۔اچھے اسکول،کالج اور یونیورسٹیاں ان کی بھی خواہش ہیں، لیکن مدتوں کی جنگ نےآج تک اس ملک میں ترقی نہیں ہونے دی ۔
اس وقت افغانستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا میں شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ اگرچہ یونیسیف نے کمیونٹی بیسڈ اسکولز اور ایکسلریٹ لرننگ سینٹرز قائم کئے ہیں جن کا مقصد پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں اور بچوں کا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کل 36 ہزار اسکول ہیں جن میں سے متعدداسکولوں کے پاس ڈھنگ کی عمارت تک نہیں، تقریباً 37 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔ کابل کےاردگرداسکولوں میں بھی نہ مناسب کمرے ہیں، پانی پینے کے لئے گلاس ہیں نہ سینیٹری ٹوائلٹ موجود ہے ۔
اب طالبان کی حکومت آگئی ہے، اگرچہ 1990 کی دہائی میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو کام کی اجازت نہیں تھی، لیکن اب میری اور مجھ جیسی لاکھوں بچیوں کی ان گنت امیدیں ہیں۔16 اگست کو ٹویٹرپرایک تصویردیکھ کربہت اطمینان ہوا کہ کابل کے قریب کچھ لڑکیا ں کسی خوف کے بغیر اسکول جا رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر بھی بہت خوش ہوں کہ طالبان رہنما ؤں نے لیڈی ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹوڈنٹس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ قوم کا سرمایہ ہیں، افغان قوم کی بہنیں ار بیٹیاں ہیں، اطمینان اور سکون سے بلاخوف اپنے فرائض انجام دیں ، حکومت ان کی حفاظت کرے گی اور اور ہر قسم کی آسانی فراہم کرے گی ۔ اگرچہ طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ دیں گے،لیکن ایسے اقدامات ناگزیر ہیں جن سےدنیا کے تمام خدشات ختم ہو جائیں۔
ہم اب ایسا افغانستان دیکھناچاہتی ہیں جہاں بچیاں کسی خوف کے بغیر اسکول جا سکیں، بڑی لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی جاسکیں، ٹیچر ز پڑھا سکیں ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد لڑکیاں پردےمیں رہ کر جاب حاصل کریں۔میں چاہتی ہوں کوئلے کی کان میں کام کرنے والےکسی مزدور کی بیٹی ہو۔ اچھے اسکول بنائےجائیں ، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں ۔ جدیددور کا مقابلہ کرنے کے لئے بین الاقوامی کمپنیوں سے مل کر انٹرنیٹ کا انتظام کیا جائے۔ آج ایسی نسل کی تعلیم و تربیت کی جائے جوکل خواتین ڈاکٹر بنیں،سافٹ ویئر انجنیئر بنیں اور دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کریں۔
اے امیر طالبان: مفکرپاکستان علامہ محمد اقبال کو آپ سے ، یعنی افغان بہن بھائیو ں سے بے حد محبت تھی اور آپ جانتے ہیں وہ اتنی شدت سے کیوں محبت کرتے تھے، کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ افغان کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے مجموعہ کلام "پیام مشرق” کو امیر افغانستان شاہ امان اللہ خان سے منسوب کیا ۔ اس نظم میں اقبال نے نادرشاہ کی مزاحمت کر کے ان کی فوجوں کو پسپا کرنے والے افغانیوں کے عزم و استقلال، خودداری و عزت، جوش و عمل اور شجاعت پر انہیں ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا کہ….
نادر نے لوٹی دلی کی دولت
ایک ضربِ شمشیر! افسانہ کوتاہ
افغان باقی، کہسار باقی
الحکم اللہ، الملک اللہ

تحریر:زینب وحید
زینب وحید ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنے والی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کیمرج کی طالبہ ہیں۔ وہ صف اول کی مقررہ، مصنفہ اور متعدد شہرت یافتہ اداروں کی سفیر بھی ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے یوتھ کی جانب سے اٹلی کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ زینب وحید پینڈیموس ایکشن انیشیٹوو کے نام سے سوشل ویلفیئر پروجیکٹ کی بانی بھی ہیں جس کا مقصد انسانوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ کی سرپرستی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کر رہی ہے۔ زینب وحید انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس 2021 کی پینلسٹ ہیں۔ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل سول سوسائٹی کے تحت کانفرنس میں پینلسٹ کے طور پر بھی شامل ہیں۔ زینب وحید کلائمٹ چینج ایکٹیوسٹ کی حیثیت سے فرائیڈے فار فیچر پاکستان کا حصہ ہیں۔ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی سفیر ہیں۔ یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک کی والنٹیئر ہیں۔ پاکستان ڈیبیٹنگ سوسائٹی لاہور کی صدر ہیں۔ انٹرنیشنل میگزین "اسمبلی” کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ زینب وحید لمز جیسے تعلیمی ادارے میں لڑکیوں کی تعلیم کی سفیر بھی ہیں۔ زینب وحید مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی یوتھ سمٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
زینب وحید کے سوشل میڈیا لنکس مندرجہ ذیل ہیں ۔

Facebook:
https://www.facebook.com/uswaezainab.official/
Instagram:
https://www.instagram.com/uswa_e_zainab_/
linkedin:
https://www.linkedin.com/in/uswa-e-zainab-1a8a8817a/

تبصرے بند ہیں.