تصویر کا دوسرا رُخ!

167

ہمارے ہاں لوگوں کا عمومی رویہ یہ ہے جب کوئی افسر کسی عہدے پر نہیں رہتا، یا جب کوئی اپنی کسی حیثیت سے محروم ہوجاتا ہے لوگ فوراً ہی اُس کی ذات، یا جس عہدے پر وہ کام کررہا ہوتا ہے اُس میں سے کیڑے نکالنے شروع کردیتے ہیں، بلکہ پلے سے کیڑے ڈالنا شروع کردیتے ہیں، جبکہ یہی لوگ اُس وقت اُسے دیوتاقرار دے چکے ہوتے ہیں جب وہ کسی اہم عہدے پر موجود ہوتا ہے۔ اور کوئی نہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں ہوتاہے، …… میں نے شاید اپنے کسی گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا اِک روز اپنے اکلوتے صاحبزادے سے میں نے کہا ”میرے بعد اگرآپ کے بے شمار ”انکلز“ آپ کی کالز یا مسیجز کا جواب نہ دیں، آپ سے اپنا رابطہ مکمل طورپر ختم کردیں اِس پرآپ نے ہرگز پریشان نہیں ہونا، لوگوں کے اِس رویے کو معاشرے کا عمومی مزاج یارویہ سمجھ کر دل وجان سے قبول کرلینا، صرف دوسرے لوگ ہی ایسا نہیں کرتے، ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، لہٰذا اِسے جیسی کرنی ویسی بھرنی“ سمجھنا،…… اگلے روز میرے ایک مرحوم دوست پولیس افسر کی بچی نے مجھے فون کیا، مجھ سے کہنے لگی، انکل میں نے ایم فِل کیا ہے، اب پی ایچ ڈی کرنی ہے، ابوکی وفات کے بعد گھر کے مالی معاملات خاصے کمزور ہوگئے ہیں، امی بیمار ہیں، چھوٹا بھائی پڑھ رہا ہے، میں نے فلاں یونیورسٹی میں بطور لیکچرار اپلائی کیا ہے، میں ہر حوالے سے میرٹ پر پورا اُترتی ہوں، مگر میرے اندر ایک خوف ہے ہمارے ہاں جو سفارشی کلچر ہے میرٹ اکثراوقات اس کی زد میں آجاتا ہے، یونیورسٹی کے مالکان آپ کے دوست ہیں، آپ میری صرف اتنی سفارش کردیں کہ میں اگر میرٹ پر آتی ہوں مجھے میرے حق سے محروم نہ کیا جائے“ …… میں اُسے ساتھ لے کر یونیورسٹی کے چیئرمین کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ میں نے اُنہیں بتایا یہ میرے ایک مرحوم دوست کی بیٹی ہے، وہ فرمانے لگے ”یہاں تو زندہ دوستوں کے کام کوئی نہیں آتا، تم اپنے مرحوم دوست کی بیٹی کے ساتھ خود چل کر آگئے ہو، پھر اُنہوں نے مہربانی بھی فرما دی، …… یہ واقعہ عرض کرنے کا مقصد ”خود ستائشی“ نہیں،کچھ دوستوں کو یہ پیغام دینا مقصود ہے آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ کسی دوست نے کوئی نیکی کی ہو اُسے صرف اُس کی زندگی میں نہیں اُس کے مرنے کے بعد بھی یاد رکھنا چاہیے، …… میری تمہیدذرا طویل ہوگئی۔ اگلے روز بلوچستان میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر جن کا نام میں بوجوہ نہیں لکھ رہا مجھ سے ملنے آئے، باتوں باتوں میں اُنہوں نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کا ذکر چھیڑ دیا، وہ جب اپنے عہدے پر (بطور آئی جی پنجاب) تھے میں نے اُن کی کچھ پالیسیوں سے شدید اختلاف کیا، اُن کا ایک خاص مزاج ہے، وہ مجھ سے بڑے تنگ تھے، بلوچستان میں تعینات پولیس افسر نے جب اُن کا ذکر چھیڑا، میں نے بھی اُن سے جُڑے کچھ الزامات کا ذکر چھیڑ دیا، خصوصاً ایسے الزامات جواُن کی بطور آئی جی پنجاب ریٹائرمنٹ کے بعد بے شمار ٹی وی چینلز کی زینت بنے، اور ریکارڈ کا حصہ ہیں، …… میرا خیال تھا اب وہ چونکہ ریٹائر ہوچکے ہیں، اور بطور آئی جی ریٹائرمنٹ کے بعد جو دوسرا عہدہ اُنہیں ملا تھا اُس کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے تو بلوچستان کے وہ اعلیٰ افسر”حسب دستورمعاشرہ“اُن کی وہ خرابیاں بھی مجھے بتائیں گے جو ابھی تک مجھ سے اوجھل ہیں، مگر مجھے حیرت ہوئی جب اُنہوں نے مکمل شواہد کے ساتھ اُن کی کچھ ایسی خوبیاں مجھے بتائیں جو اُن کی بے شمار خامیوں پر بھاری تھیں۔ میں ایک بار پھر اِس احساس میں مبتلا ہوگیا جس طرح اللہ نے کروڑوں انسانوں کی آوازیں اور شکلیں ایک جیسی نہیں بنائیں، اُن کی فطرت یا مزاج بھی ایک جیسے نہیں بنائے، ہر انسان میں اپنی طرح کی خوبیاں، اپنی طرح کی خرابیاں ہوتی ہیں، ہمارا المیہ مگر یہ ہے ہماری نظر صرف خرابیوں یعنی صرف گندگی پر ہی آکر ٹھہر جاتی ہے، اُس کے آس پاس جو ”صفائی“ ہوتی ہے وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتی، …… ہم اکثر یہ کہتے ہیں ”ہم دشمن کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے۔“……ہم بالکل صحیح کہتے ہیں، اصل میں ہماری اپنی آنکھیں اتنی میلی ہیں ہمیں کسی اور دُشمن کی میلی آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہے،……میں نے اپنے اُس دوست پولیس افسر سے پوچھا ”مشتاق سکھیرا کو پولیس کی وردی تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ جبکہ اُن کے ماتحت یہ بالکل نہیں چاہتے تھے“۔ اُنہوں نے فرمایا وہ اِس حوالے سے کچھ الزامات کی زد میں بھی رہے، مگر بعد میں ہائی کورٹ میں ایک رٹ ہوئی تھی جس کے فیصلے کے مطابق وردی کی خریداری کا عمل انتہائی صاف شفاف تھا، جہاں تک وردی کی تبدیلی کا تعلق ہے اُس دور کے حکمران یہ سمجھتے تھے موجودہ وردی عوام کے لیے خوف کی علامت بن چکی ہے، خصوصاً شرٹ کا کالا رنگ نحوست سمجھا جانے لگاہے۔ لہٰذا یہ کام اُس دور کے حکمرانوں کی ہدایت پر ہوا تھا، جو مشتاق سکھیرا کے کھاتے میں پڑگیا، ……ویسے میں یہ سوچ رہا تھا موجودہ وردی اب اتنی ”ایڈجسٹ“ ہو گئی ہے، اب اگر پرانی وردی بحال کرنے کا سوچا گیا تو اُس کے خلاف شاید اُتنا ہی ری ایکشن ہوگا جتنا پہلے والی وردی تبدیل کرنے کا ہوا تھا، …… ویسے مشتاق سکھیرا کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے بطور آئی جی پنجاب پولیس سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرنے میں اُنہوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اِس جدید ڈیجیٹل سسٹم کے پنجاب پولیس کو بے شمار فائدے ہوئے، اب تک ہورہے ہیں، آج اگر بڑی بڑی وارداتوں کے ملزمان چند دنوں میں ہی گرفتار ہو جاتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں جوہرٹاؤن دھماکے کے ملزمان ہوگئے تھے اصل میں اُسی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کا نتیجہ ہے جو مشتاق سکھیرا کے دورمیں متعارف کرواگیا تھا…… یہ بھی پتہ چلا ہے پولیس کے شہداء کے فنڈ میں اضافہ بھی اُن ہی کے دورمیں ہواتھا، یہ شاید واحد فنڈ ہے جسے کھانے کا تصور ہماری پولیس میں نہ ہونے کے برابر ہے، …… بطور وفاقی محتسب اعلیٰ ٹیکس بھی کچھ یاد گار کارنامے کرکے وہ جارہے ہیں حالانکہ ٹیکس کا شعبہ اُن پروفیشن سے بالکل مختلف تھا، یہاں بھی اُنہوں نے ایسے کمپیوٹرائزڈ سسٹم متعارف کروایا جیسا پنجاب پولیس میں کروایا تھا، اب وفاقی محتسب ٹیکس کے دفتر میں سائیلان کی سالہا سال درخواستیں پینڈنگ رہنے کا سلسلہ یا تصور ختم ہوگیا ہے، …… میں بلوچستان میں تعینات اپنے دوست پولیس افسر کا شکرگزار ہوں اُنہوں نے ایک ایسے پولیس افسر کی کچھ خوبیاں مجھے بتائیں جن کی بہت سی پالیسیاں میری تنقید کی زد میں رہیں!!

تبصرے بند ہیں.