استاد نصرت فتح علی خان قوال کو مداحوں سے بچھڑے 24 برس بیت گئے

217

لاہور:  پاکستان کے معروف قوال  استاد نصرت فتح علی خان کی آج 24 ویں برسی منائی جارہی ہے۔  نصرت فتح علی خان 1997 میں‌ آج ہی کے دن دارِ فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔

فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ یہ خاندان قیام پاکستان کے وقت بھارتی شہر جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد آکر آباد ہوگیا تھا ۔

استادنصرت فتح علی خان نے فنِ قوالی، موسیقی اور گلوکاری کے اسرار و رموز سیکھے اور وہ عروج حاصل کیا کہ آج بھی دنیا بھر میں‌ انھیں ان کے فن کی بدولت نہایت عقیدت، محبت اور احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

نصرت فتح علی خان نے قوالی کو مشرق و مغرب میں مقبول بنایا اور خاص طور پر صوفیائے کرام کے پیغام کو اپنی موسیقی اور گائیکی کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ انھوں‌ نے اپنے فن کے ذریعے دنیا کو امن، محبت اور پیار کا درس دیا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔16 اگست 1997 کو پاکستان کے اس نام وَر موسیقار اور گلوکار کا لندن کے ایک اسپتال میں زندگی کا سفر تمام ہو گیا تھا۔

معروف قوال کے طورپر اپنی پہچان بنانے کے بعد کلاسیکی موسیقی اور پاپ میوزک کے ملاپ کا تجربہ کیا تو ان کو بین الاقوامی شہرت ملی۔

90 کی دہائی میں پاکستان اور ہندوستان میں ان کی موسیقی نے دھوم مچا دی اور انھوں نے کئی فلموں کی  موسیقی بھی ترتیب دی۔

“دم مست قلندر، آفریں آفریں، اکھیاں اڈیک دیاں، سانوں اک پل چین نہ آئے اورغم ہے یا خوشی ہے تُو” کی شہرت دور دور تک پھیل گئی جب کہ ان کی آواز میں‌ ایک حمد، “کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے” کو بھی بہت زیادہ سنا اور پسند کیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.