جماعت اسلامی کی مجوزہ انتخابی اصلاحات

162

پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے قبل از وقت نئے انتخابات کا عندیہ دے کر کارکنان کو تیاری کرنے کو کہا ہے، اِنکی امریکہ یا ترا سے اسکی کوئی نسبت ہے بھی یا نہیں، اس بابت راوی خاموش ہے تاہم اپوزیشن اتحاد پھر سے متحرک ہو چکا ہے،نیز پنجاب کے پردھان منتری کے خلاف عدم اعتماد لانے کی بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے،ان تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ سرکار پانچ سال پورے کرے گی،یہ تو معلوم نہیں کہ پیپلز پارٹی کن بنیادوں پروقت سے پہلے انتخاب کی بات کر رہی ہے،اگر معاملہ عوامی اضطراب کا ہے تو وہ الگ بات ہے لیکن اس وقت تمام اشارے سرکار کے حق میں جارہے ہیں تاوقتیکہ اپوزیشن ایک منظم تحریک بپا کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے، کھلی حقیقت یہ ہے حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتری یہ کہا جائے ’’ الیکٹیبل سیاست‘‘ بھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکی تو بے جا نہ ہوگا،زیادہ مایوسی تو ان پارٹی ورکرز میں پائی جاتی ہے جنہوں نے سماجی انقلاب کی اُمید پر کپتان کو سپورٹ کیا تھا، اپوزیشن اس ساری صورت حال کو غیر شفاف انتخابات کے تناظر میں دیکھتی ہے،وہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو خارج از امکان قرار نہیں دیتی ہے،ایک لمحہ کے لئے یہ فرض کر لیا جائے کہ الیکشن قبل از وقت ہو جائیں تو اس بات کا قوی امکان نہیں کہ پھر سے یہی چہرے افراد اور چند معدودے خاندان مسند اقتدار پر َبرا جمان ہوں گے، کیا عوام کو مزید پانچ سال کے لئے ایسی ہی اذیت برداشت کرنا پڑے گی ؟اپوزیشن کے پاس اسکا کوئی جواب ہے،اس وقت اپوزیشن بھی کسی ایک بیانیہ پر متفق نہیں ہے،جس کا فائدہ بہر حال سرکار کو پہنچ رہا ہے۔
سیاسی ماہرین کا اس بات پر کلی اتفاق ہے کہ جمہوریت کی برکات عام فرد تک نہ پہنچنے کی بڑی وجہ انتخابات کا صاف شفاف اور آزادانہ نہ ہونا ہے ا س طرز کی مشق کا آغاز عہد ایوب میں ہوا جب محترمہ فاطمہ جناح کو دانستہ شکست دلوائی،جس نے آگے چل کر ایک نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کی ، مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمان کی پارٹی نے بزور بازو وہاں الیکشن جیتنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا سیاسی پنڈت اس لئے 70 کے الیکشن کو بھی غیر منصفانہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے باوردی صدر ایسے نتائج کے آرزومند تھے کہ جو اِنکی صدارت کو طوالت دے ،اس لئے جان بوجھ کر متحدہ پاکستان کی حامی سیاسی پارٹیوں کی کامیابی میں رکاوٹیں ڈالی گئی تھی۔مسٹر بھٹو بھی قومی انتخابات میں دھاندلی کرانے کے مرتکب ہوئے جسکی بھاری قیمت انھیں اور قوم کو ادا کرنا پڑی،الیکشن میں نقب زنی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ ا نتخابات پر بھی تحفظات پائے جاتے ہیں، اس میںپیسے کے بے دریغ استعمال نے اُس کلچر کو آباد رکھا جو عام آدمی کے پارلیمنٹ میں پہنچنے میں بڑی رکاوٹ ہے، بعض اہل دانش نے وہاں کی مقامی سیاسی جماعتوں کو الیکشن سے باہر کرنے کے دورس منفی نتائج سے بھی آگاہ کیا ہے، کشمیر کاز کے حوالہ سے انھیں دیکھا جارہاہے۔
سرکار کا ہر وزیر متوقع انتخابات کی شفافیت کے انعقاد کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے،اس لئے الیکشن ریفارمز کا بل بھی اسمبلی سے عجلت میں منظور کرایا گیا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین بھی ایجاد کر لی گئی ہے اس کے بعد اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جارہی ہے۔ جمہوریت پسند قوتوں کے لئے تو بہترین فورم پارلیمنٹ ہی ہونا چاہئے جہاں وہ قانون سازی سے لے کر عوامی مسائل کے حل تک اِسکو قوم کے وسیع تر مفاد میں استعمال کر سکیں، بدقسمتی سے اس طرح کی درخشاں روایت یہاں نہیں ہے،یہاں تو مقتدر طبقہ وہ کام کرتا ہے جو اس کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے،تنگ آمد بجنگ آمد کے طور پر اپوزیشن کو شاہراہوں پر اَپنی بات منوانا پڑتی ہے، جمہوری ملک کے لئے یہ اچھا شگون نہیں ہے۔اپوزیشن بھی اپنے غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے حرف تنقید رہتی ہیں،پارٹیوں میں موروثیت ہی نے لوٹا کریسی کو فروغ دیا ہے،جس کو فی زمانہ’’ الیکٹیبل پالیٹیکس‘‘ ــــکہا جاتا ہے، یہ وہ سیاسی گھوڑے ہیں جن کو اسٹیبلشمنٹ جلد ہی رام کر لیتی ہے، ماسوائے جماعت اسلامی کے یہ ہر سیاسی پارٹی میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے متوقع انتخابات کو شفاف اور آزادانہ بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنے لئے مذاکرات کئے جائیں،انتخابی اصلاحات کے لئے انھوں نے تجاویز دی ہیں ۔
الیکشن کمشنر کا تقرر سپریم کورٹ کرے،جماعتی بنیادوں پر منعقدہ الیکشن میں آزاد امیدواروں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے،آزاد کشمیر کے موجودہ الیکشن میں شکست کھانے والے سابق وزیر اعظم نے ایک وڈیو پیغام میں اِن امیدواران کو پارٹی سے نکال باہر کیا ہے جنہوں نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا تھا ،جمہوریت کی مضبوطی کے لئے یہ ان کا احسن قدم ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ جو سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی نگرانی میں پارٹی الیکشن نہیں کراتیں قومی انتخاب میں اِنکی شمولیت پر پابندی عائد کی جائے،انتخابات کی نگرانی کرنے والے اداروں اور میڈیا کو الیکشن کے عمل کی مانیٹرنگ کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے،ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی اداروں، فوج ،پولیس کو پولنگ اسٹیشن کے باہر فرائض انجام دینے چاہئے،پچاس فیصد نمائندگی متناسب اصول کی بنیاد کے تحت ہونی چاہئے تاکہ ہر ووٹر کی اہمیت ہو اور یہ ضائع نہ ہو۔انھوں نے کہا کہ الیکشن میں دولت کی ریل پیل روکنے کا قانون تو موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ،اِنکی جماعت اسلامی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال، بائیو میٹرک سسٹم اور اور سیز کو ووٹ کا حق دینے کی حمایت کرتی ہے،جس طرح برطانیہ میں اہل ،ایماندار افراد کو انتخاب میں شرکت کے لئے مالی معاونت کی جاتی ہے یہاں بھی اسکو فروغ دینا ہو گا تاکہ عام شہری بھی پارلیمنٹ کا ممبر بن سکے۔اِنکے خیال میں الیکشن ایکٹ 2020 بد نیتی پر مبنی ہے۔
سابقہ قومی انتخابات میں اگرچہ عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ، ووٹ کاسٹنگ شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا، لیکن مابعد حالات بتاتے ہیں کہ عام شہری بھی ان کو شفاف نہیں مانتا، پھر سینیٹ کے انتخاب میں جو گل کھلائے گئے وہ نوشتہ دیوار ہے،اس عمل سے عام فرد کا اعتماد الیکشن سے جب اٹھ جائے گاتو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے، افغانستان میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر آنے والوں کا انجام پوری دنیا کے سامنے ہے، ہمارے لئے سبق کا کافی سامان اس میں موجود ہے۔
ہمارا گمان ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں بانی پاکستان کا نواسہ اور قائد ملت لیاقت علی خان کا پوتا بھی بطور اُمیدوار اگر شریک ہوں تو وہ بھی مافیاز کے ہاتھوں شکست کھا جا ئیں گے، غالب امکان تو یہ ہے کہ فاطمہ جناح کی پلانٹڈ شکست کے بعد وہ الیکشن میں شریک ہونے کا رسک ہی نہیں لیں گے، اپوزیشن کواپنی تمام تر توجہ متوقع الیکشن کی شفافیت پر مرکوز کرنا ہو گی،اسکے لئے وہ سرکار سے مذاکرات بھی کرے اور اِن نتخابی اصلاحات کو یقینی اور عملی بنائے جس سے عام شہری کے لئے پارلیمنٹ کا ممبر بننا آسان تر ہو جائے یہی قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔

تبصرے بند ہیں.