موحولیاتی تبدیلی کا چیلنج، شاباش پاکستان

65

بھلا دنیا میں کون سا ایسا ملک اور معاشرہ ہوگا یا کون سے ایسے نوجوان یا بچے ہوں گے جنہوں نے 60 سیکنڈز میں پچاس ہزار پودے لگانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا؟ اگر آپ نہیں جانتے تو عرض ہے کہ یہ سہرا پاکستان کے سر پر سجا ہے۔ یہ کارنامہ انجام دے کر گوجرانوالہ کےنوجوانوں نےتاریخ رقم کردی ہے جس میں ساڑھےبارہ ہزارطلبہ وطالبات نے حصہ لیا۔

یہ وزیراعظم عمران خان کا ہی دوراندیش ویژ ن ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم کو لیڈ کر رہے ہیں۔ ایک اچھی خبر ہے کہ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی لاہور میں ایشیا کے دو سب سے بڑے میاواکی جنگلات لگا رہی ہے۔

ان میں سے ایک کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کر دیا ہے۔ سگیاں پارک کی سائٹ پر 100 کنال پر محیط ایشیا کا سب سے بڑا میاواکی جنگل لگا دیا گیا ہے۔ اس جنگل میں 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد درخت لگائے جائیں گے جو تین سے پانچ سال کے دوران تناور درخت بن جائیں گے۔

ان جنگلات کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پودے جلد نشوونما پا کر بڑے ہو جائیں گے اور شہر سرسبز ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی آصف محمود کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا میاواکی جنگل لگانے کا ریکارڈ بھی لاہور کے پاس ہے۔

اس جنگل سے ماحولیاتی تبدیلی کی عالمی ذمہ داریوں سے بھی پاکستان کی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ ڈی جی پی ایچ اے جواد احمد قریشی پرامید ہیں کہ سگیاں میاواکی جنگل پانچ سال میں گھنا ہو جائے گا جہاں قدرتی ماحول سب کے دل کو لبھائے گا۔ پی ایچ اے نے جاپانی تکنیک میاواکی کے تحت جنگل لگانا شروع کر دئیے، اب تک شہر میں 51 مصنوعی جنگل لگائے جا چکے ہیں۔

میاواکی جنگلات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ ان میں پھلدار، پھول دار،سایہ دار، جھاڑی دار درخت گویا ہر قسم کے پودے شامل ہوتے ہیں۔ زمین میں کوئی کیمیکل یا کیمیائی کھاد نہیں ڈالی جاتی بلکہ صرف علاقائی کھاد ڈالی جاتی ہے اور پھر مقامی پودوں کو چار تہوں میں جنگل کی ترتیب سے لگا دیا جاتا ہے۔

ان درختوں کو صرف تین سال پانی دیا جاتا ہے جس کے بعد یہ خود بخود بڑھنے لگتے ہیں اور ساٹھ ستر فٹ کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ صرف تین سال میں ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں پرندے، ہر قسم کے حشرات، تتلیاں، چڑیاں، شہد کی مکھیاں، گرگٹ وغیرہ آنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے جنگل کا ایک پورا ماڈل تیار ہو جاتا ہے۔

میاواکی طریقے سے لگائے گئے یہ درخت دس گنا زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور تیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ تیس گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں اور ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزا کو تیس گنا زیادہ جذب کرتے ہیں اور یوں اس علاقے کی ہوا کو صاف کر کے ایک صحت مند فضا پیدا کر دیتے ہیں۔

پنجاب حکومت کا پلان ہے کہ رنگ روڈ کے ساتھ بھی جنگل بنایا جائے جبکہ شادمان اور لبرٹی لگائے گئے میاواکی جنگلوں میں توسیع کی جائے گی۔ اب بہاولپور میں بھی پودے لگا کر وزیراعظم نے قوم کو اس طرف راغب کیا ہے۔

انہوں نے پوری دنیا کو ایک پیغام بھی دیا ہے کہ اگرچہ زہریلی گیسوں کے اخراج اور ماحولیات میں بگاڑ میں ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پاکستان کا حصہ بہت کم ہے، لیکن اس کے باوجود کم آمدنی والے ممالک میں پاکستان سب کو لیڈ کر رہا ہے۔ مک بھر میں شجر کاری مہم اور اس میں بھر پور حصہ لینا ثابت کر تا ہے کہ وزیراعظم اس بارے میں کس قدر فکر مند ہیں۔

اگرچہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شجرکاری پر بہت کام ہو رہا ہے لیکن کراچی اس معاملے میں کافی پیچھے ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جس طرح کراچی کنکریٹ کا شہر بن چکا ہے، آنے والے دنوں میں اس شہر کا درجہ حرارت بہت بڑھ سکتا ہے اور ماضی کی طرح ہیٹ ویو سے انسانی جانوں کا ضیاں بھی ہو سکتا ہے۔

کراچی میں اربن فاریسٹ کے بانی شہزاد قریشی نے بھارت میں مقیم میاواکی کے ایک ماہر کی مدد سے یہ طریقہ آزمایا۔ 500 مربع فٹ کے ٹکڑے پر جنوری 2016ء میں جو پودے لگائے تھے ان میں سے کچھ اس وقت بیس بیس فٹ کے اور کچھ 25 فٹ سے بھی بلند ہو چکے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جنگلات مزید اگائے جائیں۔

ماحولیاتی آلودگی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ مغربی میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، اقوام متحدہ ہو یا دیگر بین الاقوامی فورمز، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج پر کھل کر بات ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ سوچ پختہ ہو گئی ہے کہ یہ معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے، اس لئے دنیا کو کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینا ہو گی۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حکومت پاکستان وزیراعظم کے ویژن کے مطابق اس معاملے پر توجہ دے رہی ہے۔

تحریر: زینب وحید

(زینب وحید ماحولیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنے والی معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور کیمرج کی طالبہ ہیں۔ وہ صف اول کی مقررہ، مصنفہ اور متعدد شہرت یافتہ اداروں کی سفیر بھی ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری برائے یوتھ کی جانب سے اٹلی کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ زینب وحید پینڈیموس ایکشن انیشیٹوو کے نام سے سوشل ویلفیئر پروجیکٹ کی بانی بھی ہیں جس کا مقصد انسانوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ کی سرپرستی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کر رہی ہے۔ زینب وحید انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس 2021 کی پینلسٹ ہیں۔ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل سول سوسائٹی کے تحت کانفرنس میں پینلسٹ کے طور پر بھی شامل ہیں۔ زینب وحید کلائمٹ چینج ایکٹیوسٹ کی حیثیت سے فرائیڈے فار فیچر پاکستان کا حصہ ہیں۔ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی سفیر ہیں۔ یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک کی والنٹیئر ہیں۔ پاکستان ڈیبیٹنگ سوسائٹی لاہور کی صدر ہیں۔ انٹرنیشنل میگزین "اسمبلی” کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ زینب وحید لمز جیسے تعلیمی ادارے میں لڑکیوں کی تعلیم کی سفیر بھی ہیں۔ زینب وحید مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں جس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی یوتھ سمٹ میں شامل کیا گیا ہے۔)

زینب وحید کے سوشل میڈیا لنکس مندرجہ ذیل ہیں ۔

Facebook:

https://www.facebook.com/uswaezainab.official/

Instagram:

https://www.instagram.com/uswa_e_zainab_/

linkedin:

https://www.linkedin.com/in/uswa-e-zainab-1a8a8817a/

نوٹ : تحریر یا کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.