بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ

171

 جب سے پی ٹی آئی برسرِ اقتدار آئی ہے مہنگائی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اور اب ایک بار پھر عوام کو مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف بجلی کے شعبے میں سبسڈی کے خاتمے اور ٹیرف میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی توانائی کے منصوبوں کے لئے ایک ارب ڈالر کے قرض کو بجلی کے ٹیرف میں اضافے سے مشروط کر دیا ہے جب کہ آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر قرض کے منصوبے جو اس وقت تعطل کا شکار ہیں کی بحالی اور اگلی قسط کا اجرا بھی بجلی کے نرخوں میں تقریباً 3 روپے فی یونٹ یکمشت اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہواحکومت بجلی بڑھائے تو مشکل نہ بڑھائے تو اس سے بھی زیادہ مشکل۔ حکومت کو ایک طرف مالی ادائیگیوں کے لئے مزید قرضوں کی ضرورت ہے تو دوسری جانب ملک میں بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں اس کی قیمت میں اضافہ کرنا جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہو سکتا ہے تاہم قرض دینے والی عالمی اداروں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی شرائط سے اس غریب ملک کے عوام پر کیا گزرے گی جو کہ اپنے سابقہ قرضے کی ادائیگی کے لئے مزید قرض طلب کرنے پر مجبور ہے۔  جون 2018ء میں 1148 ارب روپے کے گردشی قرضے تھے جو اس سال جون میں 2327 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور یہ گردشی قرضے آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کے علاوہ ہیں۔ اور یہی چیز ہے جو عالمی مالیاتی اداروں کو ٹیرف میں اضافے اور سبسڈی کے خاتمے کے لئے دباؤ بڑھانے کا کا باعث بن رہی ہے۔ 
حکومت بجلی کے ٹیرف میں اضافے کو پاکستان کے معاشی مفادات سے متصادم قرار دیتی رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حکومتی فیصلے اس پر عملدرآمد کرتے جاتے نظر بھی آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے 300 یونٹس سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے 64 فیصد تک بجلی مہنگی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران 3 مرتبہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 2 روپے 17 پیسے یعنی 40 فیصد اضافہ کیا۔ حالانکہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے وقت 
حکومتی سطح پر قرار دیا گیا تھا کہ یہ قرضہ عالمی مالیاتی اداروں کی نہیں بلکہ اپنی شرائط پر حاصل کیا جا رہا ہے۔ اربابِ بست و کشاد اس اضافے کے بارے میں کیا توضیح یا توجیہہ پیش کریں گے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام سے حقائق چھپانا اور ان کے مالیاتی مسائل پر توجہ نہ دینا ہمارے ہاں حکمرانوں نے وتیرہ ہی بنا لیا ہے۔ مصائب اور مشکلات کے عادی لوگ جو صبر شکر کے عادی ہو چکے ہیں اس اضافے کو بھی تسلیم کر لیں گے اور اسی حساب سے اپنے معمولات کو بھی ترتیب دے لیں گے۔ اس سے قبل بھی تو تین سال میں تین دفعہ بجلی کے نرخ بڑھانے پر ان بے چاروں نے بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں کا کیا کر لیا ہے۔ گاہے بگاہے فیول چارجز کے نام کی اصطلاح بھی استعمال ہو جاتی ہے اور اس کے نام پر اصل بل میں سیکڑوں روپے کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بجلی کے اداروں کے شاہانہ اخراجات بھی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ پرکشش تنخواہیں لینے والا عملہ ماہانہ مفت یونٹ کے نام پر بھی آمدنی حاصل کر رہا ہے جو بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو واپڈا میں کام نہیں کر رہا ہے بلکہ کسی اور محکمے میں کام کر رہا ہے اسے یہ سہولت نہیں ملے گی۔ اس سے حقیقی آمدنی بڑھ جاتی ہے۔ یہ بات ماننے کی ہے کہ ملک میں بجلی کی کمی ہے اور اگر بالفرض پوری ہے بھی تو وہ بہت مہنگی بن رہی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس کی ذمہ داری گزشتہ حکومتوں پر ہے مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جتنی بجلی موجود ہے کیا اس کی تقسیم و ترسیل صحیح اور مناسب طریقے سے ہو رہی ہے۔ ہمارے خیال میں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ اگر برقی رو کی تقسیم اور ترسیل کا ذمہ دار ادارہ بہتر انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے تو موجودہ حالات میں بھی عام صارفین کو نسبتاً زیادہ ریلیف مہیا کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک 7 ارب ڈالر کے قرضوں کے لئے بجلی کے ٹیرف بڑھانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس کا ایک حل اس طرح بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں دو بڑے بنیادی بحران ہیں جن کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے ایک فارن ریزرو کی کمی اور اور دوسرا مہنگے توانائی کے ذرائع۔اگر فوری طور پر حکومت کسی پاور پلانٹ کا اعلان کر دے جس کی لاگت مثال کے طور پر 7 ارب ڈالر اور حکومت اس پراجیکٹ کو چلانے کے لئے اس کے شیئرز مارکیٹ میں جاری کر دے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بڑی تعداد میں یہ شیئرز خرید لیں گے۔ اس کے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ ملک میں بڑے پیمانے پر براہِ راست سرمایہ کاری آئے گی جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔ اس طرح عالمی مالیاتی اداروں سے قرض کی ضرورت نہیں رہے گی اور دوسرا فائدہ 22 کروڑ عوام کو ریلیف کی صورت میں حاصل ہو گا۔ حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرنا پڑے گا۔ اگرا س سرمایہ کاری کا ایک حصہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لئے رکھا جائے اور دوسرا حصہ بجلی کے ناکارہ اور نئے پاور پلانٹس پر لگایا جائے تو اس سے نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ لوڈ شیڈنگ بھی بالکل ختم ہو جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے آبی وسائل سے 38 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ہماری آئندہ 100 سالہ ضروریات سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر بجلی پیدا کرنے کے سستے ذرائع سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے جن میں سولر، ونڈ مل، نیو کلیئر اور کول سے بجلی کے منصوبے شروع کئے جا سکتے ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اس سلسلے میں تیزی سے کام کیا جائے کیونکہ اس حوالے سے منصوبہ بندی تو ماضی کی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں لیکن انہوں نے کیا کچھ بھی نہیں ایسا نہ ہو کہ موجودہ حکومت بھی محض منصوبہ بندی تک محدود رہے اور اس کی آئینی مدت پوری ہونے پر پتہ چلے کہ اس نے بھی بجلی کی سستی پیداوار بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا اور یہ کہ بحران پہلے سے بڑھ چکا ہے۔
حکومت اگر غربت، روز افزوں بلند ہوتی مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو اسے ایسی معاشی اور اقتصادی پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں اور جن کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچے۔ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان کا راستہ روکنے کے لئے توانائی کے ذرائع کے نرخوں میں اضافے کو نہ صرف روکاجائے بلکہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد بے تحاشا ٹیکسوں میں بھی کمی کی جائے۔ 

تبصرے بند ہیں.